🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اسلام میں نبوت (پیغمبری) کی نشانیوں کا بیان۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام زوراء میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھ دیا، پھر پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پھوٹنے لگا، سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ کتنے آدمی تھے؟ تو جواب دیا کہ تین سو یا تین سو کے قریب۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1500]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم تو معجزوں کو اللہ کی برکت اور عنایت سمجھتے تھے اور تم ان سے ڈرتے ہو۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ پانی کم پڑ گیا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچا ہوا پانی ہو تو لے آؤ تو لوگ ایک برتن لائے جس میں تھوڑا سا پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈال دیا پھر فرمایا: آؤ۔ برکت والا پانی لو اور برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا: پانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پھوٹ رہا تھا اور ہم (اس وقت) کھانا کھاتے وقت کھانے کی تسبیح سنتے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1501]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ تم لوگ ان لوگوں سے نہ لڑو جو بالوں والے جوتے پہنتے ہوں گے .... یہ طویل حدیث گزر چکی ہے (دیکھئیے کتاب: جہاد اور جنگی حالات کے بیان میں۔۔۔ باب: ترکوں سے جنگ کا بیان) اور اس روایت کے آخر میں کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: .... اور ایک ایسا دور آئے گا کہ کوئی تم میں سے اپنے سارے گھربار، مال و دولت سے بڑھ کر مجھے دیکھ لینا زیادہ پسند کرے گا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم خوز اور کرمان (کے رہنے والے) عجمیوں (ایرانیوں) سے نہ لڑو جن کے منہ سرخ، ناکیں پھیلی ہوئی، آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ان کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی مانند ہوں گے، جوتے بالوں والے (پہنتے) ہوں گے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1503]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش کا یہ قبیلہ (بنی امیہ) لوگوں کو تباہ کرے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: کاش! لوگ اس سے الگ رہیں۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1504]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ میں نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) سنا جو سچے تھے، سچے کیے گئے تھے، فرماتے تھے: میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں (لڑکوں) کے ہاتھ پر ہو گی۔ تو مروان نے کہا چند لڑکے؟ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) اگر تو چاہے تو ان کے نام بھی بیان کر دوں۔ فلاں کے بیٹے فلاں اور فلاں کے بیٹے فلاں۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1505]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی باتوں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں برائیوں کے بارے میں (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہونے والی ہیں) پوچھا کرتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم جہالت اور برائی میں تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر یہ خیر و برکت ہمیں دی۔ کیا اس کے بعد پھر برائی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا کہ کیا اس برائی کے بعد پھر بھلائی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور اس میں دھواں ہو گا۔ میں نے کہ دھواں کیا؟ فرمایا: ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میرے طریق پر نہیں چلیں گے، ان کی کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔ میں نے کہا کہ کیا اس بھلائی کے بعد پھر برائی ہو گی؟ فرمایا: ہاں! ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے بلاتے ہوں گے جس نے ان کی بات سنی انھوں نے اسے دوزخ میں جھونک دیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! ان کا حال تو بیان فرمائیے؟ فرمایا: وہ ظاہر میں ہماری قوم (مسلمان) ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے۔ میں نے کہا کہ اگر میں یہ دور پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: تو مسلمانوں کی جماعت اور برحق امام کے پیچھے رہ۔ میں نے کہا کہ اگر اس وقت جماعت یا امام نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو سب فرقوں سے الگ رہ، اگرچہ تو (بھوک کی وجہ سے) جنگلی درخت کی جڑ چباتا رہے، یہاں تک کہ تو مر جائے تو یہ تیرے لیے (ان کی صحبت میں جانے سے) بہتر ہے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1506]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو یہ سمجھ لو کہ آسمان سے نیچے گر پڑنا مجھ پر اس سے آسان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں اور جب میں تم سے وہ باتیں کروں جو میرے اور تمہارے درمیان ہوئی ہیں تو (کوئی نقصان نہیں کیونکہ) لڑائی تو تدبر اور فریب ہی کا نام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آخر دور میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانت والے، کم عقل، بیوقوف ہوں گے۔ بات تو وہ کہیں گے جو سارے جہان کی باتوں سے افضل ہو، وہ دین اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے جاتا ہے (اس میں کچھ لگا نہیں رہتا) ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم ان لوگوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو، جو انھیں قتل کرے گا اسے اس قتل کا قیامت کے دن ثواب ملے گا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1507]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کافروں کی ایذادہی کا) شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی چادر پر ٹیک لگائے کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا کہ آپ ہمارے لیے (اللہ کی) مدد کیوں نہیں مانگتے؟ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کچھ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں کہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا، پھر انھیں اس گڑھے میں گاڑھ کر آرا لایا جاتا، وہ ان کے سر پر چلایا جاتا، دو ٹکڑے کر دیے جاتے مگر پھر بھی وہ اپنے سچے دین سے نہ پھرتے تھے اور لوہے کی کنگھیاں ان کی ہڈی اور پٹھوں تک چلاتے، پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے، اللہ کی قسم کہ وہ اس دین کو ضرور پورا کرے گا، ایک شخص سوار ہو کر صنعاء سے حضرموت تک جائے گا اس کو اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا یا صرف بھیڑیئے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1508]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ثابت بن قیس (رضی اللہ عنہ) کو گم پایا (وہ حاضر نہ تھے) ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں اس کی خبر لاتا ہوں، وہ گیا تو دیکھا کہ ثابت رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں (غم سے) سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس نے پوچھا کیا حال ہے؟ ثابت نے کہا کہ برا حال ہے، وہ اپنی آواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند کرتے تھے، تو ان کے تمام اعمال مٹ گئے اور وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ وہ آدمی واپس گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ اس اس طرح کہتے ہیں۔ (راوی موسیٰ بن انس) کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی دوبارہ (ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس) یہ عظیم خوشخبری لے کر گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا ہے: تو اس (ثابت) کے پاس جا اور کہہ کہ تو اہل دوزخ میں سے نہیں بلکہ اہل جنت میں ہے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں