صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) ارشاد ”اور ہم نے زمین پر ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے“۔
حدیث نمبر: Q3297
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الثُّعْبَانُ الْحَيَّةُ الذَّكَرُ مِنْهَا يُقَالُ الْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالأَفَاعِي وَالأَسَاوِدُ. {آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا} فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ يُقَالُ: {صَافَّاتٍ} بُسُطٌ أَجْنِحَتَهُنَّ. {يَقْبِضْنَ} يَضْرِبْنَ بِأَجْنِحَتِهِنَّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (قرآن مجید میں) لفظ «ثعبان» نر سانپ کے لیے آیا ہے بعض نے کہا، سانپوں کی کئی قسمیں ہوتی ہے۔ «جان» جو سفید باریک ہو، «أفاعي»، زہر دار سانپ اور «أساود.» کالا ناگ (وغیرہ) سورۃ ھود میں «آخذ بناصيتها.» سے مراد یہ ہے کہ ہر جانور کی پیشانی تھامے ہوئے ہے۔ یعنی ہر جانور اس کی ملک اور اس کی حکومت میں ہے۔ لفظ «صافات» جو سورۃ الملک میں ہے، اس کے معنی اپنے پر پھیلائے ہوئے اور اسی سورۃ میں لفظ «يقبضن» بمعنی اپنے بازوؤں کو سمیٹے ہوئے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: Q3297]
حدیث نمبر: 3297
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّه سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو (خصوصاً) ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی، کیونکہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3297]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ”سانپوں کو مار ڈالو، خصوصاً وہ سانپ جن کے سر پر دو نقطے ہوں اور وہ جو دم بریدہ ہوں کیونکہ یہ دونوں نورِ بصارت زائل کر دیتے ہیں اور حاملہ کا حمل تک گرا دیتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3298
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ لَا تَقْتُلْهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، قَالَ: إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ وَهِيَ الْعَوَامِرُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ایک مرتبہ میں ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ اسے نہ مارو، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کے مارنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جو جِن ہوتے ہیں دفعتاً مار ڈالنے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3298]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا کہ میں ایک مرتبہ کسی سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اسے مت قتل کرو۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کے مارنے کا حکم دیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے روک دیا تھا۔ ایسے سانپوں کو «الْعَوَامِرُ» ”عوامر“ کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3298]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3299
وَقَالَ: عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَتَابَعَهُ يُونُسُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ، وَالزُّبَيْدِيُّ، وَقَالَ صَالِحٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَابْنُ مُجَمِّعٍ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ.
اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا، اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ اور زید بن خطاب (دونوں) نے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3299]
عبدالرزاق نے معمر سے روایت کرتے ہوئے بایں الفاظ اس حدیث کو بیان کیا کہ مجھے ابو لبابہ یا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے دیکھا۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس، ابن عیینہ، اسحاق کلبی اور زبیدی نے بھی امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کیا ہے، البتہ صالح، ابن ابی حفصہ رحمہ اللہ اور ابن مجمع نے امام زہری رحمہ اللہ سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح روایت کیا کہ مجھے ابو لبابہ اور زید بن خطاب رضی اللہ عنہما (دونوں) نے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة