یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب قول الله تعالى: {وبث فيها من كل دابة} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) ارشاد ”اور ہم نے زمین پر ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے“۔
حدیث نمبر: 3299
وَقَالَ: عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَتَابَعَهُ يُونُسُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ، وَالزُّبَيْدِيُّ، وَقَالَ صَالِحٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَابْنُ مُجَمِّعٍ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ.
اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا، اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ اور زید بن خطاب (دونوں) نے دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3299]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3299 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3299
حدیث حاشیہ:
عبدالرزاق کی روایت کو امام مسلم اور امام احمد اورطبرانی نے، اور یونس کی روایت کو مسلم نے اور ابن عیینہ کی روایت کو امام احمد نے وصل کیا، اسحاق کی روایت ان کے نسخہ میں موصول ہے، صالح کی روایت کو امام مسلم نے وصل کیا ہے۔
ابن ابی حفصہ کی روایت ان کے نسخہ میں موصول ہے، ابن مجمع کی روایت کو بغوی اور ابن السکن نے وصل کیا ہے۔
گھریلو سانپوں کے بارے میں مسلم کی روایت ہے کہ آپ نے ان کے لیے یہ ارشاد فرمایا کہ تین دن تک ان کو ڈراؤ کہ ہمارے گھر سے چلے جاؤ، اگر پھر بھی وہ نہ نکلیں تو ان کو مارڈالو، سانپوں میں کالاناگ سب سے بدتر ہے۔
اس کے زہر سے آدمی دم بھر میں مرجاتا ہے۔
کہتے ہیں سانپ کی عمر ہزار سال ہوتی ہے۔
ہر سال میں ایک دفعہ کینچلی بدلتاہے۔
عبدالرزاق کی روایت کو امام مسلم اور امام احمد اورطبرانی نے، اور یونس کی روایت کو مسلم نے اور ابن عیینہ کی روایت کو امام احمد نے وصل کیا، اسحاق کی روایت ان کے نسخہ میں موصول ہے، صالح کی روایت کو امام مسلم نے وصل کیا ہے۔
ابن ابی حفصہ کی روایت ان کے نسخہ میں موصول ہے، ابن مجمع کی روایت کو بغوی اور ابن السکن نے وصل کیا ہے۔
گھریلو سانپوں کے بارے میں مسلم کی روایت ہے کہ آپ نے ان کے لیے یہ ارشاد فرمایا کہ تین دن تک ان کو ڈراؤ کہ ہمارے گھر سے چلے جاؤ، اگر پھر بھی وہ نہ نکلیں تو ان کو مارڈالو، سانپوں میں کالاناگ سب سے بدتر ہے۔
اس کے زہر سے آدمی دم بھر میں مرجاتا ہے۔
کہتے ہیں سانپ کی عمر ہزار سال ہوتی ہے۔
ہر سال میں ایک دفعہ کینچلی بدلتاہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3299]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3299
حدیث حاشیہ:
1۔
ذو طفيتين سے مراد وه سانپ ہے جس کے سرپردہ دونقطے سیاہ اور سفید ہوں یا اس کی پشت پردوخطوط ہوں۔
اور ابتسر وہ سانپ جس کی دم چھوٹی گویا کٹی ہوتی ہے۔
یہ دونوں شرارتی سانپ ہیں۔
ان کی آنکھوں میں اس قدر تیز زہر ہوتا ہے کہ حاملہ عورت سے ان کی نگاہیں دوچار ہوتے ہی اس کا حمل گرجاتاہے۔
اور جب ان کی آنکھیں کسی انسان کی آنکھوں سے مل جائیں تو انسان اندھا ہوجاتا ہے۔
2۔
(ذَوَاتِ الْبُيُوتِ)
وہ سفید سانپ ہیں جو گھروں میں رہتے ہیں۔
وہ کسی کوتکلیف نہیں پہنچاتے۔
انھیں "عوامر" بھی کہا جاتا ہے۔
3۔
سانپوں میں ایک کالاناگ ہوتا ہے۔
اس کے کانٹے سے انسان دم بھر میں مرجاتا ہے۔
گھر میں رہنے والے سانپوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تین دن تک انھیں خبردار کرو، یعنی ان سے کہو کہ گھر سے چلے جاؤ۔
اس مدت کے بعد اگر وہ ظاہر ہوں تو انھیں قتل کردو کیونکہ وہ شیطان ہیں۔
“ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5839(2236)
جنگلات کے سانپوں کو خبردار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”پانچ خبیث جانور ہیں انھیں حل وحرم میں جہاں پاؤ قتل کردو۔
“ ان میں سانپ بھی ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2861(1198)
1۔
ذو طفيتين سے مراد وه سانپ ہے جس کے سرپردہ دونقطے سیاہ اور سفید ہوں یا اس کی پشت پردوخطوط ہوں۔
اور ابتسر وہ سانپ جس کی دم چھوٹی گویا کٹی ہوتی ہے۔
یہ دونوں شرارتی سانپ ہیں۔
ان کی آنکھوں میں اس قدر تیز زہر ہوتا ہے کہ حاملہ عورت سے ان کی نگاہیں دوچار ہوتے ہی اس کا حمل گرجاتاہے۔
اور جب ان کی آنکھیں کسی انسان کی آنکھوں سے مل جائیں تو انسان اندھا ہوجاتا ہے۔
2۔
(ذَوَاتِ الْبُيُوتِ)
وہ سفید سانپ ہیں جو گھروں میں رہتے ہیں۔
وہ کسی کوتکلیف نہیں پہنچاتے۔
انھیں "عوامر" بھی کہا جاتا ہے۔
3۔
سانپوں میں ایک کالاناگ ہوتا ہے۔
اس کے کانٹے سے انسان دم بھر میں مرجاتا ہے۔
گھر میں رہنے والے سانپوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تین دن تک انھیں خبردار کرو، یعنی ان سے کہو کہ گھر سے چلے جاؤ۔
اس مدت کے بعد اگر وہ ظاہر ہوں تو انھیں قتل کردو کیونکہ وہ شیطان ہیں۔
“ (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5839(2236)
جنگلات کے سانپوں کو خبردار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”پانچ خبیث جانور ہیں انھیں حل وحرم میں جہاں پاؤ قتل کردو۔
“ ان میں سانپ بھی ہے۔
(صحیح مسلم، الحج، حدیث: 2861(1198)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3299]
Sahih Bukhari Hadith 3299 in Urdu
أبو لبابة الأنصاري ← زيد بن الخطاب القرشي