🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3824
حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ هَزِيمَةً بَيِّنَةً , فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ , فَاجْتَلَدَتْ أُخْرَاهُمْ , فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ فَنَادَى أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي، فَقَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ: حُذَيْفَةُ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ، قَالَ أَبِي: فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن رجاء نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں جب مشرکین ہار چکے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اے اللہ کے بندو! پیچھے والوں کو (قتل کرو) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد (یمان رضی اللہ عنہ) بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ (ہشام نے بیان کیا کہ) اللہ کی قسم! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے (کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کر بیٹھے) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3824]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب غزوہ اُحد میں مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگنے لگے تو ابلیس نے چلا کر کہا: اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں کو قتل کرو۔ آگے والے مسلمان پیچھے والے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور گھمسان کی جنگ ہونے لگی۔ اس دوران میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی کو دیکھا (کہ مسلمان انہیں قتل کر رہے ہیں) تو بآواز بلند کہا: اللہ کے بندو! یہ میرے والد گرامی ہیں، یہ میرے باپ ہیں۔ لیکن لوگ نہ رُکے حتیٰ کہ انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ ہشام کے والد عروہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس کے باعث ہمیشہ دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3824]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں