صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ هِجْرَةِ الْحَبَشَةِ:
باب: مسلمانوں کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q3872
وَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ , فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ وَرَجَعَ عَامَّةُ مَنْ كَانَ هَاجَرَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ". فِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى , وَأَسْمَاءَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہاری ہجرت کی جگہ (خواب میں) دکھائی گئی ہے، وہاں کھجوروں کے باغ بہت ہیں وہ جگہ دو پتھریلے میدانوں کے درمیان ہے۔ چنانچہ جنہوں نے ہجرت کر لی تھی وہ مدینہ ہجرت کر کے چلے گئے بلکہ جو مسلمان حبشہ ہجرت کر گئے تھے وہ بھی مدینہ واپس چلے آئے۔ اس بارے میں ابوموسیٰ اور اسماء بنت عمیس کی روایات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: Q3872]
حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَخْبَرَهُ , أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، قَالَا لَهُ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُكَلِّمَ خَالَكَ عُثْمَانَ فِي أَخِيهِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ وَكَانَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِيمَا فَعَلَ بِهِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَانْتَصَبْتُ لِعُثْمَانَ حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيحَةٌ، فَقَالَ: أَيُّهَا الْمَرْءُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ , فَانْصَرَفْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَإِلَى ابْنِ عَبْدِ يَغُوثَ فَحَدَّثْتُهُمَا بِالَّذِي قُلْتُ لِعُثْمَانَ وَقَالَ لِي , فَقَالَا: قَدْ قَضَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ , فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَهُمَا إِذْ جَاءَنِي رَسُولُ عُثْمَانَ، فَقَالَا لِي: قَدِ ابْتَلَاكَ اللَّهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا نَصِيحَتُكَ الَّتِي ذَكَرْتَ آنِفًا، قَالَ: فَتَشَهَّدْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتَ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَآمَنْتَ بِهِ وَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ , وَصَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ , وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَحَقٌّ عَلَيْكَ أَنْ تُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا وَلَكِنْ قَدْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا خَلَصَ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا، قَالَ: فَتَشَهَّدَ عُثْمَانُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , وَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنْتُ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَمَا قُلْتَ , وَصَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ وَبَايَعْتُهُ وَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ , ثُمَّ اسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ , ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ , ثُمَّ اسْتُخْلِفْتُ , أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ عَلَيَّ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ؟ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ , فَسَنَأْخُذُ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِالْحَقِّ , قَالَ: فَجَلَدَ الْوَلِيدَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً , وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ , وَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ"، وَقَالَ يُونُسُ , وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ؟ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ مَا ابْتُلِيتُمْ بِهِ مِنْ شِدَّةٍ , وَفِي مَوْضِعٍ الْبَلَاءُ الِابْتِلَاءُ وَالتَّمْحِيصُ مَنْ بَلَوْتُهُ , وَمَحَّصْتُهُ أَيْ: اسْتَخْرَجْتُ مَا عِنْدَهُ يَبْلُو يَخْتَبِرُ مُبْتَلِيكُمْ مُخْتَبِرُكُمْ , وَأَمَّا قَوْلُهُ بَلَاءٌ عَظِيمٌ: النِّعَمُ وَهِيَ مِنْ أَبْلَيْتُهُ وَتِلْكَ مِنَ ابْتَلَيْتُهُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم اپنے ماموں (امیرالمؤمنین) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے (ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا)۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ کو ایک خیر خواہانہ مشورہ دینا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی! تم سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبدیغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جو دیا تھا، سب میں نے بیان کر دیا۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس (بلانے کے لیے) آیا۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیر خواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیا تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں (ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے ضروری ہے کہ اس پر (شراب نوشی کی) حد قائم کریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنواری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر (ابتداء ہی میں) لبیک کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی۔ اللہ کی قسم! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے۔ اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی۔ ان کے بعد عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر (گواہی کے بعد) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں۔ علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3872]
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبدیغوث رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تمہیں اپنے ماموں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ کے متعلق گفتگو کرنے سے کون منع کرتا ہے؟ لوگ اس بارے میں بکثرت چہ مگوئیاں کر رہے ہیں۔“ عبیداللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز کے لیے باہر نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے اور کوئی خیرخواہی کی بات کرنی ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”بھلے آدمی! میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔“ یہ سن کر میں وہاں سے واپس آ گیا۔ جب میں نماز پڑھ چکا تو مسور اور ابن عبدیغوث رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھ گیا اور ان سے وہ گفتگو کی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے میں نے کی اور جو انہوں نے مجھ سے کہا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ تم نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اس دوران میں جب میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میرے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاصد آ گیا۔ ان دونوں نے مجھے کہا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ کون سی خیرخواہی تھی جس کا ذکر آپ نے ابھی کیا تھا؟“ میں نے تشہد پڑھا اور ان سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا، آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کیا اور آپ پر ایمان لائے، پہلی دو ہجرتیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر آپ کی سیرت اور طریقے کو دیکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگ بہت باتیں کرتے ہیں، لہٰذا آپ پر ضروری ہے کہ اس پر حد قائم کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں سے میرے پاس اتنا ضروری علم پہنچ چکا ہے جس قدر ایک کنواری لڑکی کو اس کے پردے میں پہنچتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا: ”بے شک اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث کیا۔ ان پر اپنی کتاب نازل کی۔ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیا اور اس حق پر ایمان لایا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا گیا تھا اور پہلی دو ہجرتیں کیں جیسا کہ تو نے کہا ہے۔ بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا اور آپ سے بیعت کی۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے آپ کی نافرمانی کی اور نہ آپ سے کوئی دھوکا فریب ہی کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا۔ اللہ کی قسم! میں نے کبھی ان کی نافرمانی نہ کی اور نہ انہیں کوئی دھوکا فریب ہی دیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منتخب کر لیا گیا تو اللہ کی قسم! میں نے ان کی بھی نافرمانی نہ کی اور نہ ان سے دھوکا فریب ہی کیا۔ پھر مجھے خلیفہ بنایا گیا تو کیا میرا تم پر اتنا بھی حق نہیں جتنا ان کا مجھ پر تھا؟“ عبیداللہ نے کہا: کیوں نہیں، پھر انہوں نے فرمایا: ”ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچ رہی ہیں؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم ان شاء اللہ اس معاملے میں حق کے ساتھ اس کی گرفت کریں گے۔“ پھر آپ نے ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے مارنے کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ اسے کوڑے لگائیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی کوڑے مارا کرتے تھے۔ اس حدیث کو یونس اور زہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے بیان کیا ہے۔ اس روایت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قول بایں الفاظ بیان ہوا ہے: ”کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا؟!“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: ﴿بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ﴾ [سورة البقرة: 49] کا مطلب ہے کہ جس شدت اور تنگی میں ڈال کر تمہیں آزمایا گیا۔ اور (ابوعبیدہ نے) ایک جگہ مقام پر کہا کہ بلاء کے معنی ابتلاء اور تمحیص کے ہیں، یعنی جو اس کے پاس تھا وہ میں نے نکالا۔ «يَبْلُو» کے معنی وہ آزماتا ہے۔ اور «مُبْتَلِيكُمْ» کے معنی ہیں وہ تمہارا امتحان لینے والا ہے۔ اور جہاں تک بلائے عظیم کا تعلق ہے تو اس میں بلاء سے مراد نعمتیں ہیں۔ جب یہ نعمت کے معنی میں ہو تو «أَبْلَيْتُهُ» سے ہو گا۔ اور امتحان کے معنی میں اس صورت میں ہو گا جب «ابْتَلَيْتُهُ» سے ہو گا، یعنی اگر آپ کہنا چاہیں کہ میں نے اس پر انعام کیا تو آپ کہیں گے «أَبْلَيْتُهُ» اور اگر کہنا چاہیں کہ میں نے اس کا امتحان لیا تو کہیں گے «ابْتَلَيْتُهُ» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3872]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3873
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ , وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيهَا تَصَاوِيرُ فَذَكَرَتَا للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا , وَصَوَّرُوا فِيهِ تِيكَ الصُّوَرَ , أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس کے اندر تصویریں تھیں۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدترین مخلوق ہوں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3873]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس کے اندر تصویریں تھیں۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بنا لیتے اور پھر اس میں ان کی تصویریں رکھ دیتے۔ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3873]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3874
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدٍ , قَالَتْ:" قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً لَهَا أَعْلَامٌ , فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ:" سَنَاهْ سَنَاهْ"، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سعید سعیدی نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے، ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا «سناه، سناه".» ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ «سناه، سناه".» حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3874]
حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب میں سرزمینِ حبشہ سے واپس آئی تو اس وقت میں چھوٹی بچی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اوڑھنے کے لیے ایک چادر عنایت فرمائی جس میں نقوش تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک ان نقوش پر پھیرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”یہ چادر اچھی ہے، یہ چادر خوبصورت ہے۔“ امام حمیدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ «سَنَاهْ» کے معنی ”اچھا اور خوبصورت“ کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3874]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3875
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَيَرُدُّ عَلَيْنَا , فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا، قَالَ:" إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا"، فَقُلْتُ: لِإِبْرَاهِيمَ كَيْفَ تَصْنَعُ أَنْتَ؟ قَالَ: أَرُدُّ فِي نَفْسِي.
ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ (ابتداء اسلام میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس (مدینہ) آئے اور ہم نے (نماز پڑھتے میں) آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم پہلے آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرمایا کرتے تھے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ہاں نماز میں آدمی کو دوسرا شغل ہوتا ہے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں دل میں جواب دے دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3875]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم شاہِ حبشہ نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور ہم نے دورانِ نماز میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہ دیا۔ ہم نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! قبل ازیں ہم آپ کو سلامتی کہتے تھے تو آپ ہمیں اس کا جواب دیتے تھے۔ (اب کیا ہوا ہے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا» ”نماز میں ایک مشغولیت ہوتی ہے۔“ میں نے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ کیسے کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں دل سے جواب دے دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3875]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا , فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی (جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3876]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم یمن میں تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمیں معلوم ہوا کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ آ گئے ہیں۔ ہم کشتی میں سوار ہوئے تو وہ ہمیں حبشہ لے گئی۔ وہاں ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو پایا تو ان کے ساتھ اقامت اختیار کر لی۔ پھر ہم مدینہ طیبہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب آپ نے خیبر فتح کر لیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کشتی والو! تمہارے لیے دو ہجرتیں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة