🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}:
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں، اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4069
قَالَ حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ شُجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: «كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوا نَبِيَّهُمْ» . فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ}.
‏‏‏‏ حمید اور ثابت بنانی نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آ گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا۔ اس پر (آیت) «ليس لك من الأمر شىء» نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4069]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4069
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا» . بَعْدَ مَا يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» . فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.
ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں (صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام) کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» (آل عمران: 128) تک نازل کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4069]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھاتے تو یوں بددعا کرتے: اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں پر لعنت برسا۔ یہ بددعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنے کے بعد کرتے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] (اے نبی!) آپ کو کچھ اختیار نہیں (وہ چاہے تو انہیں معاف کر دے یا انہیں سزا سے دوچار کرے) کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4069]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4070
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.
اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» تک نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4070]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کے خلاف بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] آپ کے ہاتھ میں معاملات کا اختیار نہیں ہے (وہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے) کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں