🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب: {ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون} :
باب: (اللہ تعالیٰ کا فرمان) ”آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں، اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4070
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَزَلَتْ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.
اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» تک نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4070]
حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کے خلاف بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] آپ کے ہاتھ میں معاملات کا اختیار نہیں ہے (وہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا ان پر عذاب کرے) کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4070 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4070
حدیث حاشیہ:
یہ تینوں شخص اس وقت کا فر تھے۔
بعد میں اللہ تعالی نے ان کو اسلام کی توفیق دی اور شاید یہی حکمت تھی جو اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے لیے بد دعا کرنے سے منع فرمایا۔
کہتے ہیں جنگ احد میں عتبہ بن ابی وقاص نے آپ کا نیچے کا دانت توڑا اور نیچے کا ہونٹ زخمی کیا اور عبداللہ بن شہاب نے آپ کا چہرہ زخمی کیا اور عبداللہ بن قمیہ نے پتھر مار کر آپ کا رخسار زخمی کیا۔
زرہ کے دو چھلے آپ کے مبارک رخسار میں گھس گئے۔
آپ نے فرمایا اللہ تجھ کو ذلیل وخوار کرے گا۔
ایسا ہی ہوا۔
ایک پہاڑی بکری نے سینگ مار کر ہلاک کردیا۔
بعضوں نے کہا یہ قاریوں کے قصے میں اتری جب آپ رعل اور ذکوان اور عصیہ وغیرہ قبائل پر لعنت کرتے تھے لیکن اکثر کا یہی قول ہے کہ یہ آیت احد کے بارے میں اتری۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4070]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4070
حدیث حاشیہ:

مذکورہ آیت کے سبب نزول کے متعلق اختلاف ہے۔
معلق حدیث تو غزوہ اُحد سے متعلق ہے لیکن ان احادیث کا غزوہ احد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
چونکہ اس کے سبب کے بارے میں اختلاف ہے، اس لیے تنبیہ فرمادی۔

حدیث میں جن تینوں حضرات کا نام لیاگیا ہے، فتح مکہ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے انھیں اسلام لانے کی توفیق دی۔
ممکن ہے کہ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ان کے خلاف بددعا کرنے سے منع فرمادیا۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ نے قبیلہ لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا شروع کی تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی لیکن صحیح بات یہ ہے کہ غزوہ اُحد کی وجہ سے جن حضرات کےمتعلق آپ نے بددعا کی تھی، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
(فتح الباري: 457/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4070]

Sahih Bukhari Hadith 4070 in Urdu