صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ غَزْوَةُ الرَّجِيعِ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبِئْرِ مَعُونَةَ:
باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q4086
وَحَدِيثِ عَضَلٍ وَالْقَارَةِ وَعَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ , وَخُبَيْبٍ وَأَصْحَابِهِ , قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ أَنَّهَا بَعْدَ أُحُدٍ.
اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان اور عضل اور قارہ کا قصہ اور عاصم بن ثابت اور خبیب اور ان کے ساتھیوں کا قصہ۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ ہم سے عاصم بن عمر نے بیان کیا کہ غزوہ رجیع غزوہ احد کے بعد پیش آیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4086]
حدیث نمبر: 4086
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً عَيْنًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ وَهُوَ جَدُّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيٍّ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو لَحْيَانَ , فَتَبِعُوهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَامٍ , فَاقْتَصُّوا آثَارَهُمْ حَتَّى أَتَوْا مَنْزِلًا نَزَلُوهُ فَوَجَدُوا فِيهِ نَوَى تَمْرٍ تَزَوَّدُوهُ مِنْ الْمَدِينَةِ , فَقَالُوا: هَذَا تَمْرُ يَثْرِبَ فَتَبِعُوا آثَارَهُمْ حَتَّى لَحِقُوهُمْ , فَلَمَّا انْتَهَى عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ لَجَئُوا إِلَى فَدْفَدٍ , وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوا بِهِمْ , فَقَالُوا: لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيثَاقُ إِنْ نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا , فَقَالَ عَاصِمٌ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ كَافِرٍ , اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ فَقَاتَلُوهُمْ حَتَّى قَتَلُوا عَاصِمًا فِي سَبْعَةِ نَفَرٍ بِالنَّبْلِ وَبَقِيَ خُبَيْبٌ وَزَيْدٌ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ , فَلَمَّا أَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ نَزَلُوا إِلَيْهِمْ , فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا مِنْهُمْ حَلُّوا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوهُمْ بِهَا , فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي مَعَهُمَا: هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ , فَأَبَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَجَرَّرُوهُ وَعَالَجُوهُ عَلَى أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَلَمْ يَفْعَلْ فَقَتَلُوهُ , وَانْطَلَقُوا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدٍ حَتَّى بَاعُوهُمَا بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى خُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ خُبَيْبٌ هُوَ قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ , فَمَكَثَ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوا قَتْلَهُ اسْتَعَارَ مُوسًى مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا , فَأَعَارَتْهُ , قَالَتْ: فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيٍّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ , فَلَمَّا رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَزْعَةً عَرَفَ ذَاكَ مِنِّي وَفِي يَدِهِ الْمُوسَى , فَقَالَ: أَتَخْشَيْنَ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَاكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , وَكَانَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ خُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبٍ وَمَا بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ , وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ , فَخَرَجُوا بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ , فَقَالَ: دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ , فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ , ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا , ثُمَّ قَالَ: مَا أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقبَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ , وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ إِلَى عَاصِمٍ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُونَهُ , وَكَانَ عَاصِمٌ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ , فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ".
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاسوسی کے لیے ایک جماعت (مکہ، قریش کی خبر لانے کے لیے) بھیجی اور اس کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا ہیں۔ یہ جماعت روانہ ہوئی اور جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچی تو قبیلہ ہذیل کے ایک قبیلے کو جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا، ان کا علم ہو گیا اور قبیلہ کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے چلے۔ آخر ایک ایسی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں صحابہ کی اس جماعت نے پڑاؤ کیا تھا۔ وہاں ان کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو صحابہ مدینہ سے لائے تھے۔ قبیلہ والوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجور (کی گھٹلی) ہے اب انہوں نے پھر تلاش شروع کی اور صحابہ کو پا لیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو صحابہ کی اس جماعت نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے وہاں پہنچ کر ٹیلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صحابہ سے کہا کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ اس پر عاصم رضی اللہ عنہ بولے کہ میں تو کسی کافر کی حفاظت و امن میں خود کو کسی صورت میں بھی نہیں دے سکتا۔ اے اللہ! ہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات کی خبر اپنے نبی کو پہنچا دے۔ چنانچہ ان صحابہ نے ان سے قتال کیا اور عاصم اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ ان کے تیروں سے شہید ہو گئے۔ خبیب، زید اور ایک اور صحابی ان کے حملوں سے ابھی محفوظ تھے۔ قبیلہ والوں نے پھر حفاظت و امان کا یقین دلایا۔ یہ حضرات ان کی یقین دہانی پر اتر آئے۔ پھر جب قبیلہ والوں نے انہیں پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا تو ان کی کمان کی تانت اتار کر ان صحابہ کو انہیں سے باندھ دیا۔ تیسرے صحابہ جو خبیب اور زید کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ پہلے تو قبیلہ والوں نے انہیں گھسیٹا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن جب وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے تو انہیں وہیں قتل کر دیا اور خبیب اور زید کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر انہیں مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا۔ وہ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی کی حیثیت سے رہے۔ جس وقت ان سب کا خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق ہو چکا تو اتفاق سے انہیں دنوں حارث کی ایک لڑکی (زینب) سے انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا اور انہوں نے ان کو استرہ بھی دے دیا تھا۔ ان کا بیان تھا کہ میرا لڑکا میری غفلت میں خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جو اسے اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی۔ انہوں نے میری گھبراہٹ کو جان لیا، استرہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، کیا تمہیں اس کا خطرہ ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ ان شاءاللہ میں ہرگز ایسا نہیں کر سکتا۔ ان کا بیان تھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر قیدی میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اس وقت مکہ میں کسی طرح کا پھل موجود نہیں تھا جبکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی تھے، تو وہ اللہ کی بھیجی ہوئی روزی تھی۔ پھر حارث کے بیٹے قتل کرنے کے لیے انہیں لے کر حرم کے حدود سے باہر گئے۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو (انہوں نے اجازت دے دی اور)۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے فرمایا کہ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو اور زیادہ نماز پڑھتا۔ خبیب رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص ہیں جن سے قتل سے پہلے دو رکعت نماز کا طریقہ چلا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے لیے بددعا کی، اے اللہ! انہیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور یہ اشعار پڑھے ”جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر اللہ کی راہ میں مجھے قتل کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ چاہے گا تو جسم کے ایک ایک کٹے ہوئے ٹکڑے میں برکت دے گا۔“ پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر انہیں شہید کر دیا اور قریش نے عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کے لیے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی بھی حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک بہت بڑے، سردار کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج کو بادل کی طرح ان کے اوپر بھیجا اور ان بھڑوں نے ان کی لاش کو قریش کے آدمیوں سے محفوظ رکھا اور قریش کے بھیجے ہوئے یہ لوگ (ان کے پاس نہ پھٹک سکے) کچھ نہ کر سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4086]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستہ جاسوسی کے لیے روانہ کیا اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر فرمایا جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے۔ یہ حضرات چل پڑے حتی کہ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو ہذیل کے ایک قبیلہ بنو لحیان کو ان کی خبر دی گئی، چنانچہ ان کے تقریباً ایک سو تیر انداز، مجاہدین کے تعاقب میں گئے۔ ان کے نقش قدم پر چلتے چلتے وہ لوگ ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں مجاہدین نے پڑاؤ کیا تھا۔ وہاں انہیں کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو وہ مدینہ منورہ سے توشہ کے طور پر لائے تھے۔ مشرکین کہنے لگے: ”یہ تو یثرب کی کھجوریں ہیں“، چنانچہ انہوں نے ان کے قدموں کے نشانات پر ان کا پیچھا کیا تو مجاہدین کو جا لیا۔ جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی چلنے سے عاجز آ گئے تو انہوں نے ایک اونچے ٹیلے پر پناہ لی۔ مشرکین آئے اور ان کا گھیراؤ کر لیا اور ان سے کہا: ”ہمارا تم سے عہد و میثاق ہے۔ اگر تم نیچے اتر آؤ تو ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔“ (امیر لشکر) حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تو کسی کافر کے عہد پر نیچے نہیں اتروں گا۔“ انہوں نے دعا مانگی: «اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ» ”اے اللہ! ہماری طرف سے اپنے نبی کو اطلاع کر دے۔“ چنانچہ انہوں نے مجاہدین سے لڑائی شروع کی اور انہیں تیر مارنے لگے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ سمیت سات آدمیوں کو تیر مار مار کر شہید کر دیا۔ اب صرف تین آدمی حضرت خبیب، حضرت زید رضی اللہ عنہما اور ایک تیسرا شخص باقی رہ گیا۔ مشرکین نے ان تینوں کو عہد و پیمان دیا۔ وہ ان پر اعتبار کرتے ہوئے نیچے اتر آئے۔ جب مشرکین نے ان پر قابو پا لیا تو ان کی کمانوں کی تانتوں سے انہیں باندھ دیا۔ تیسرے شخص نے کہا، جو ان کے ساتھ تھا: ”یہ پہلا دھوکا ہے“ اور اس نے کفار کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اسے کھینچا اور ساتھ لے جانے کی کوشش کی لیکن وہ ساتھ نہ گیا تو اس کو بھی قتل کر دیا گیا۔ وہ حضرت خبیب اور حضرت زید رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے گئے اور مکہ میں ان دونوں کو فروخت کر دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ان کے باپ حارث کو بدر کے دن قتل کیا تھا۔ وہ ان کے پاس چند روز قیدی بن کر رہے حتی کہ انہوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے پر اتفاق کر لیا۔ اس دوران میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے حارث کی بیٹی سے استرا مانگا تاکہ زیر ناف بال صاف کر لیں تو اس نے استرا دے دیا۔ اس کا بیان ہے کہ میں اپنے بچے سے غافل ہو گئی حتی کہ وہ چلتے چلتے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ جب میں نے بچے کو اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی۔ میری گھبراہٹ کا اندازہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے بھی کر لیا جبکہ استرا ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ”کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟ میں، ان شاء اللہ، ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔“ حارث کی بیٹی کہا کرتی تھی: ”میں نے خبیب سے بڑھ کر اچھا کبھی کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ خوشہ انگور سے کھا رہے تھے، حالانکہ مکے میں اس وقت کوئی پھل نہ تھا جبکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ وہ صرف اللہ کا رزق تھا جو اللہ نے انہیں دیا تھا۔“ بہرحال مشرکین حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لے کر حرم سے باہر نکلے تاکہ انہیں قتل کریں تو انہوں نے کہا: ”مجھے چھوڑ دو میں دو رکعتیں پڑھ لوں۔“ نماز سے فراغت کے بعد وہ جلدی سے ان کی طرف گئے اور کہنے لگے: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم میرے متعلق گھبرا جانے کا گمان کرو گے تو میں اور زیادہ نماز پڑھتا۔“ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قتل کے وقت دو رکعت نماز پڑھنے کا طریقہ جاری کیا۔ پھر انہوں نے دعا مانگی: «اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا» ”اے اللہ! انہیں گن گن کر ہلاک کر۔“ پھر یہ شعر پڑھے: ”جب میں بحالت اسلام قتل ہو رہا ہوں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ اللہ کے لیے میں کس پہلو پر گروں گا۔ میرا شہید ہونا اللہ کی رضا کے لیے ہے، اگر وہ چاہے تو میرے بریدہ (کٹے پھٹے) جسم کے ٹکڑوں پر برکت ڈال دے۔“ پھر حارث کا بیٹا عقبہ آگے بڑھا اور اس نے انہیں قتل کر دیا۔ دوسری طرف کفار قریش نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی طرف کچھ آدمی بھیجے تاکہ ان کے بدن کا کوئی حصہ لے آئیں جس سے وہ انہیں پہچان سکیں۔ دراصل حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے بھی بدر کی لڑائی میں قریش کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا ایک چھتا بھیج دیا جس نے قاصدوں کی دست برد سے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی حفاظت کی، چنانچہ وہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش سے کوئی عضو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4087
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ:" الَّذِي قَتَلَ خُبَيْبًا هُوَ أَبُو سِرْوَعَةَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر سے سنا کہ خبیب رضی اللہ عنہ کو ابوسروعہ (عقبہ بن عامر) نے قتل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4087]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جس شخص نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا، اس کی کنیت ابو سروعہ تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ رَجُلًا لِحَاجَةٍ , يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ , فَعَرَضَ لَهُمْ حَيَّانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ , رِعْلٌ , وَذَكْوَانُ عِنْدَ بِئْرٍ يُقَالُ لَهَا: بِئْرُ مَعُونَةَ , فَقَالَ الْقَوْمُ: وَاللَّهِ مَا إِيَّاكُمْ أَرَدْنَا إِنَّمَا نَحْنُ مُجْتَازُونَ فِي حَاجَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُمْ , فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ , وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ , قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَسَأَلَ رَجُلٌ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبَعْدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: لَا بَلْ عِنْدَ فَرَاغٍ مِنَ الْقِرَاءَةِ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر صحابہ کی ایک جماعت تبلیغ اسلام کے لیے بھیجی تھی۔ انہیں قاری کہا جاتا تھا۔ راستے میں بنو سلیم کے دو قبیلے رعل اور ذکوان نے ایک کنویں کے قریب ان کے ساتھ مزاحمت کی۔ یہ کنواں بئرمعونہ کے نام سے مشہور تھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ اللہ کی قسم! ہم تمہارے خلاف، یہاں لڑنے نہیں آئے بلکہ ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک ضرورت پر مامور کیا گیا ہے۔ لیکن کفار کے ان قبیلوں نے تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں ان کے لیے ایک مہینہ تک بددعا کرتے رہے۔ اسی دن سے دعا قنوت کی ابتداء ہوئی، ورنہ اس سے پہلے ہم دعا قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے اور عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ ایک صاحب (عاصم احول) نے انس رضی اللہ عنہ سے دعا قنوت کے بارے میں پوچھا کہ یہ دعا رکوع کے بعد پڑھی جائے گی یا قرآت قرآن سے فارغ ہونے کے بعد؟ (رکوع سے پہلے) انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ قرآت قرآن سے فارغ ہونے کے بعد(رکوع سے پہلے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4088]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر (70) آدمیوں کو کسی کام کے لیے بھیجا، جنہیں قراء کہا جاتا تھا۔ خاندان بنو سلیم کے دو قبیلے رعل اور ذکوان ایک کنویں کے پاس ان کے سامنے آئے، جسے بئر معونہ کہا جاتا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان لوگوں سے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم تم سے لڑنے نہیں آئے بلکہ ہم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حاجت برآری کے لیے یہاں سے گزر رہے ہیں۔“ لیکن انہوں نے ایک نہ سنی بلکہ ان حضرات کو قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر صبح کی نماز میں ان کفار کے خلاف بددعا فرمائی۔ یہ دعائے قنوت کی ابتدا ہے۔ اس سے پہلے ہم قنوت نہیں کرتے تھے۔ (راوی حدیث) عبدالعزیز نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے دعائے قنوت کے متعلق پوچھا کہ وہ رکوع کے بعد ہے یا قراءت سے فراغت کے بعد؟ انہوں نے فرمایا: ”رکوع کے بعد نہیں بلکہ قراءت سے فراغت کے وقت ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4089
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک قنوت پڑھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے چند قبائل (رعل و ذکوان وغیرہ) کے لیے بددعا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4089]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت پڑھی۔ آپ عرب کے قبائل کے خلاف بددعا کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4090
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رِعْلًا , وَذَكْوَانَ , وَعُصَيَّةَ , وَبَنِي لَحْيَانَ اسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَدُوٍّ , فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ , كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ , حَتَّى كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قَتَلُوهُمْ وَغَدَرُوا بِهِمْ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو فِي الصُّبْحِ عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى رِعْلٍ , وَذَكْوَانَ , وَعُصَيَّةَ , وَبَنِي لَحْيَانَ. قَالَ أَنَسٌ: فَقَرَأْنَا فِيهِمْ قُرْآنًا , ثُمَّ إِنَّ ذَلِكَ رُفِعَ بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا , وَعَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ عَلَى رِعْلٍ , وَذَكْوَانَ , وَعُصَيَّةَ , وَبَنِي لِحْيَانَ , زَادَ خَلِيفَةُ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا أَنَسٌ: أَنَّ أُولَئِكَ السَّبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا كِتَابًا , نَحْوَهُ.
مجھ سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمنوں کے مقابل مدد چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر انصاری صحابہ کو ان کی کمک کے لیے روانہ کیا۔ ہم ان حضرات کو قاری کہا کرتے تھے۔ اپنی زندگی میں معاش کے لیے دن میں لکڑیاں جمع کرتے تھے اور رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ جب یہ حضرات بئرمعونہ پر پہنچے تو ان قبیلے والوں نے انہیں دھوکا دیا اور انہیں شہید کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صبح کی نماز میں ایک مہینے تک بددعا کی۔ عرب کے انہیں چند قبائل رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان صحابہ کے بارے میں قرآن میں (آیت نازل ہوئی اور) ہم اس کی تلاوت کرتے تھے۔ پھر وہ آیت منسوخ ہو گئی (آیت کا ترجمہ) ”ہماری طرف سے ہماری قوم (مسلمانوں) کو خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس آ گئے ہیں۔ ہمارا رب ہم سے راضی ہے اور ہمیں بھی (اپنی نعمتوں سے) اس نے خوش رکھا ہے۔“ اور قتادہ سے روایت ہے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک صبح کی نماز میں، عرب کے چند قبائل یعنی رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے لیے بددعا کی تھی۔ خلیفہ بن خیاط (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے یہ اضافہ کیا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ ستر صحابہ قبیلہ انصار سے تھے اور انہیں بئرمعونہ کے پاس شہید کر دیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4090]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ قبائلِ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دشمن کے خلاف مدد مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر (70) انصار بھیج کر ان کی مدد فرمائی۔ اس زمانے میں ہم انہیں ”قراء“ کہا کرتے تھے۔ وہ دن کے وقت لکڑیاں چن کر لاتے اور رات کو شب خیزی میں گزارتے تھے۔ جب یہ بئر معونہ تک پہنچے تو ان قبائل نے ان قراء کو قتل کر دیا اور ان سے عہد شکنی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثے کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر قنوتِ نازلہ پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان قبائلِ عرب کے خلاف صبح کی نماز میں بددعا فرماتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے متعلق ہم قرآن مجید میں یہ آیت پڑھا کرتے تھے جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا: ”ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ وہ ہم سے راضی ہوا اور اس نے ہمیں بھی راضی کر دیا۔“ (راویِ حدیث) قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں ایک مہینہ قنوت پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبائلِ عرب رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان پر بددعا کرتے تھے۔ (راویِ حدیث) خلیفہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مزید یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ وہ ستر قراء انصار میں سے تھے جو بئر معونہ پر قتل کر دیے گئے۔ اس حدیث میں قرآن سے مراد اللہ کی کتاب ہے۔ (یہ حدیث) پہلی (عبدالاعلیٰ کی) حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4091
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ ," أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالَهُ أَخٌ لِأُمِّ سُلَيْمٍ فِي سَبْعِينَ رَاكِبًا , وَكَانَ رَئِيسَ الْمُشْرِكِينَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ خَيَّرَ بَيْنَ ثَلَاثِ خِصَالٍ , فَقَالَ: يَكُونُ لَكَ أَهْلُ السَّهْلِ وَلِي أَهْلُ الْمَدَرِ أَوْ أَكُونُ خَلِيفَتَكَ أَوْ أَغْزُوكَ بِأَهْلِ غَطَفَانَ بِأَلْفٍ وَأَلْفٍ , فَطُعِنَ عَامِرٌ فِي بَيْتِ أُمِّ فُلَانٍ , فَقَالَ: غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَكْرِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ آلِ فُلَانٍ , ائْتُونِي بِفَرَسِي فَمَاتَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَيْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ أَعْرَجُ , وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ , قَالَ: كُونَا قَرِيبًا حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي كُنْتُمْ وَإِنْ قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ , فَقَالَ: أَتُؤْمِنُونِي أُبَلِّغْ رِسَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ , فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ , قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسِبُهُ حَتَّى أَنْفَذَهُ بِالرُّمْحِ , قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ , فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلُوا كُلُّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ جَبَلٍ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْنَا , ثُمَّ كَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا , فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ , وَذَكْوَانَ , وَبَنِي لَحْيَانَ , وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ٰ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں، ام سلیم (انس کی والدہ) کے بھائی کو بھی ان ستر سواروں کے ساتھ بھیجا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (شرارت اور تکبر سے) تین صورتیں رکھی تھیں۔ اس نے کہا کہ یا تو یہ کیجئے کہ دیہاتی آبادی پر آپ کی حکومت ہو اور شہری آبادی پر میری ہو یا پھر مجھے آپ کا جانشیں مقرر کیا جائے ورنہ پھر میں ہزاروں غطفانیوں کو لے کر آپ پر چڑھائی کر دوں گا۔ (اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی) اور ام فلاں کے گھر میں وہ مرض طاعون میں گرفتار ہوا۔ کہنے لگا کہ اس فلاں کی عورت کے گھر کے جوان اونٹ کی طرح مجھے بھی غدود نکل آیا ہے۔ میرا گھوڑا لاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر ہی مر گیا۔ بہرحال ام سلیم کے بھائی حرام بن ملحان ایک اور صحابی جو لنگڑے تھے اور تیسرے صحابی جن کا تعلق بنی فلاں سے تھا، آگے بڑھے۔ حرام نے (اپنے دونوں ساتھیوں سے بنو عامر تک پہنچ کر پہلے ہی) کہہ دیا کہ تم دونوں میرے قریب ہی کہیں رہنا۔ میں ان کے پاس پہلے جاتا ہوں اگر انہوں نے مجھے امن دے دیا تو تم لوگ قریب ہی ہو اور اگر انہوں نے قتل کر دیا تو آپ حضرات اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ چنانچہ قبیلہ میں پہنچ کر انہوں نے ان سے کہا، کیا تم مجھے امان دیتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام تمہیں پہنچا دوں؟ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام انہیں پہنچانے لگے تو قبیلہ والوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے آ کر ان پر نیزہ سے وار کیا۔ ہمام نے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ نیزہ آر پار ہو گیا تھا۔ حرام کی زبان سے اس وقت نکلا ”اللہ اکبر، کعبہ کے رب کی قسم! میں نے تو اپنی مراد حاصل کر لی۔“ اس کے بعد ان میں سے ایک صحابی کو بھی مشرکین نے پکڑ لیا (جو حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور انہیں بھی شہید کر دیا) پھر اس مہم کے تمام صحابہ کو شہید کر دیا۔ صرف لنگڑے صحابی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے۔ ان شہداء کی شان میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی، بعد میں وہ آیت منسوخ ہو گئی (آیت یہ تھی) «إنا قد لقينا ربنا فرضي عنا وأرضانا.» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قبائل رعل، ذکوان، بنو لحیان اور عصیہ کے لیے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تیس دن تک صبح کی نماز میں بددعا کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4091]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں (حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی) کو ستر (70) سواروں کے ساتھ بھیجا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مشرکین کے سردار عامر بن طفیل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین صورتیں رکھی تھیں۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”دیہاتی آبادی پر آپ کی اور شہری آبادی پر میری حکومت ہو گی یا میں آپ کا جانشین ہوں گا یا پھر دو ہزار غطفانی لشکر سے آپ پر حملہ کروں گا“، چنانچہ وہ ام فلاں کے گھر میں مرض طاعون میں مبتلا ہوا اور کہنے لگا: ”فلاں قبیلے کی عورت کے گھر میں جوان اونٹ کی طرح مجھے بھی غدود نکل آیا ہے، میرا گھوڑا لاؤ“، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر ہی مر گیا۔ بہرحال حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ، ایک اور صحابی جو لنگڑے تھے اور تیسرے صحابی جن کا تعلق بنو فلاں سے تھا، آگے بڑھے۔ حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”تم میرے قریب رہو، میں ان کے پاس جاتا ہوں؛ اگر انہوں نے مجھے امن دے دیا تو تم لوگ قریب ہی رہو اور اگر انہوں نے مجھے قتل کر دیا تو آپ حضرات اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جائیں“، چنانچہ حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا تم مجھے امن دیتے ہو تاکہ میں تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچاؤں؟“ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام انہیں پہنچانے لگے تو قبیلے والوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا، اس نے پیچھے سے آ کر ان پر نیزے سے وار کیا اور وہ نیزہ ان کے آر پار ہو گیا۔ حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ، فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ”اللہ اکبر، اللہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ہوں“۔ دوسرے شخص کو بھی پکڑ لیا گیا، الغرض لنگڑے شخص کے علاوہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قتل کر دیا گیا؛ وہ لنگڑے صحابی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے تھے۔ ان شہداء کی شان میں اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں جو بعد میں منسوخ ہو گئیں: ”ہم اپنے رب سے جا ملے، وہ ہم سے خوش ہوا اور اس نے ہمیں خوش کر دیا“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشرکین پر تیس (30) دن تک بددعا فرمائی، یعنی رعل، ذکوان اور بنو لِحبان پر قنوت کی اور عُصیہ کے لیے بھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4092
حَدَّثَنِي حِبَّانُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ , سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ:" لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَكَانَ خَالَهُ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ , قَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا فَنَضَحَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ , ثُمَّ قَالَ: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ".
مجھ سے حبان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، ان کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب حرام بن ملحان کو جو ان کے ماموں تھے بئرمعونہ کے موقع پر زخمی کیا گیا تو زخم پر سے خون کو ہاتھ میں لے کر انہوں نے اپنے چہرہ اور سر پر لگا لیا اور کہا کعبہ کے رب کی قسم! میری مراد حاصل ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4092]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”جب ان کے ماموں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو بئرِ معونہ کے دن نیزہ مارا گیا تو انہوں نے اس طرح اپنا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے اپنے چہرے اور سر پر چھڑک لیا، پھر کہا: ”ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا ہوں۔“” [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4092]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4093
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخُرُوجِ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْأَذَى , فَقَالَ لَهُ: أَقِمْ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنِّي لَأَرْجُو ذَلِكَ" , قَالَتْ: فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ , فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ظُهْرًا فَنَادَاهُ , فَقَالَ:" أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ" , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ , فَقَالَ:" أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصُّحْبَةَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الصُّحْبَةَ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ , فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ , فَرَكِبَا فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِثَوْرٍ فَتَوَارَيَا فِيهِ , فَكَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ غُلَامًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لِأُمِّهَا , وَكَانَتْ لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ فَكَانَ يَرُوحُ بِهَا وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ وَيُصْبِحُ فَيَدَّلِجُ إِلَيْهِمَا , ثُمَّ يَسْرَحُ فَلَا يَفْطُنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّعَاءِ , فَلَمَّا خَرَجَ خَرَجَ مَعَهُمَا يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ. وَعَنْ أَبِي أُسَامَةَ , قَالَ: قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: فَأَخْبَرَنِي أَبِي , قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الَّذِينَ بِبِئْرِ مَعُونَةَ وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ قَالَ لَهُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ: مَنْ هَذَا؟ فَأَشَارَ إِلَى قَتِيلٍ , فَقَالَ لَهُ: عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ , فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ , حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ , ثُمَّ وُضِعَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ فَنَعَاهُمْ , فَقَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ أُصِيبُوا وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّهُمْ , فَقَالُوا رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا" , فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ وَأُصِيبَ يَوْمَئِذٍ فِيهِمْ عُرْوَةُ بْنُ أَسْماءَ بْنِ الصَّلْتِ فَسُمِّيَ عُرْوَةُ بِهِ وَمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو سُمِّيَ بِهِ مُنْذِرًا.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب مکہ میں مشرک لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سخت تکلیف دینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی یہیں ٹھہرے رہو۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی (اللہ تعالیٰ سے) اپنے لیے ہجرت کی اجازت کے امیدوار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مجھے اس کی امید ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ انتظار کرنے لگے۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ظہر کے وقت (ہمارے گھر) تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارا اور فرمایا کہ تخلیہ کر لو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صرف میری دونوں لڑکیاں یہاں موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے مجھے بھی ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا مجھے بھی ساتھ چلنے کی سعادت حاصل ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں اور میں نے انہیں ہجرت ہی کی نیت سے تیار کر رکھا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک اونٹنی جس کا نام ”الجدعا“ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ دونوں بزرگ سوار ہو کر روانہ ہوئے اور یہ غار ثور پہاڑی کا تھا اس میں جا کر دونوں پوشیدہ ہو گئے۔ عامر بن فہیرہ جو عبداللہ بن طفیل بن سنجرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدہ کی طرف سے بھائی تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک دودھ دینے والی اونٹنی تھی تو عامر بن فہیرہ صبح و شام (عام مویشیوں کے ساتھ) اسے چرانے لے جاتے اور رات کے آخری حصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے۔ (غار ثور میں ان حضرات کی خوراک اسی کا دودھ تھی) اور پھر اسے چرانے کے لیے لے کر روانہ ہو جاتے۔ اس طرح کوئی چرواہا اس پر آگاہ نہ ہو سکا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ غار سے نکل کر روانہ ہوئے تو پیچھے پیچھے عامر بن فہیرہ بھی پہنچے تھے۔ آخر دونوں حضرات مدینہ پہنچ گئے۔ بئرمعونہ کے حادثہ میں عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو گئے تھے۔ ابواسامہ سے روایت ہے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ جب بئرمعونہ کے حادثہ میں قاری صحابہ شہید کئے گئے اور عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ قید کئے گئے تو عامر بن طفیل نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے ایک لاش کی طرف اشارہ کیا۔ عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ یہ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ شہید ہو جانے کے بعد ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔ میں نے اوپر نظر اٹھائی تو لاش آسمان و زمین کے درمیان لٹک رہی تھی۔ پھر وہ زمین پر رکھ دی گئی۔ ان شہداء کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرائیل علیہ السلام نے باذن خدا بتا دیا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شہادت کی خبر صحابہ کو دی اور فرمایا کہ تمہارے ساتھی شہید کر دیئے گئے ہیں اور شہادت کے بعد انہوں نے اپنے رب کے حضور میں عرض کیا کہ اے ہمارے رب! ہمارے (مسلمان) بھائیوں کو اس کی اطلاع دیدے کہ ہم تیرے پاس پہنچ کر کس طرح خوش ہیں اور تو بھی ہم سے راضی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید کے ذریعہ) مسلمانوں کو اس کی اطلاع دے دی۔ اسی حادثہ میں عروہ بن اسماء بن صلت رضی اللہ عنہما بھی شہید ہوئے تھے (پھر زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے جب پیدا ہوئے) تو ان کا نام عروہ، انہیں عروہ ابن اسماء رضی اللہ عنہما کے نام پر رکھا گیا۔ منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ اس حادثہ میں شہید ہوئے تھے۔ (اور زبیر رضی اللہ عنہ کے دوسرے صاحب زادے کا نام) منذر انہیں کے نام پر رکھا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4093]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب مکہ مکرمہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کفار کی سختیاں زیادہ ہو گئیں تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابھی ٹھہرے رہو۔“ انہوں نے پوچھا: ”اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی اجازت ملنے کی امید ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، میں بھی ہجرت کی اجازت کا امیدوار ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ انتظار کرنے لگے۔ آخر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کے وقت تشریف لائے۔ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارا اور فرمایا: ”جو اہل خانہ آپ کے پاس ہیں انہیں ایک طرف کر دو۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اور کوئی نہیں صرف دو بیٹیاں ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں علم ہے کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا مجھے رفاقت نصیب ہوگی؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں، تم میرے ساتھ چلو گے۔“ عرض کی: ”اللہ کے رسول! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں اور میں نے انہیں ہجرت کے لیے تیار کر رکھا ہے“، چنانچہ انہوں نے ایک اونٹنی، جس کا نام جدعاء تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی۔ دونوں بزرگ سوار ہو کر چل پڑے حتی کہ غار ثور تک پہنچ گئے اور اس غار میں دونوں چھپے رہے۔ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھائی عبداللہ بن طفیل بن سخبرہ کے غلام تھے، یہ (عامر رضی اللہ عنہ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دودھ دینے والی اونٹنی کو صبح و شام چرانے کے لیے لے جاتے، رات کے آخری حصے میں ان دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے پاس آتے۔ پھر اسے چرانے کے لیے صبح صبح لے جاتے۔ اس طرح کسی چرواہے کو بھی اس کا علم نہ ہو سکا۔ پھر جب یہ دونوں بزرگ غار ثور سے نکل کر روانہ ہوئے تو حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ ہی نکلے۔ وہ دونوں حضرات ان کو باری باری اپنا ردیف بناتے تھے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ بئر معونہ کے حادثے میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو گئے تھے۔ ابواسامہ رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد گرامی (عروہ رحمہ اللہ) نے بتایا: جب بئر معونہ کے حادثے میں یہ حضرات شہید کر دیے گئے اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو قیدی بنا لیا گیا تو عامر بن طفیل نے ایک مقتول کی طرف اشارہ کر کے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اسے بتایا کہ یہ حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس نے کہا: ”میں نے اسے شہید ہونے کے بعد دیکھا کہ اسے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا۔ میں نے اوپر نظر اٹھائی تو اس کی لاش زمین و آسمان کے درمیان تھی۔ پھر اسے زمین پر رکھ دیا گیا۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان شہداء کی اطلاع ملی تو آپ نے ان حضرات کو خبر دیتے ہوئے فرمایا: ”تمہارے ساتھی شہید ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے رب سے درخواست کی ہے: «أَيْ رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا» ”اے ہمارے رب! ہمارے بھائیوں کو اس امر کی اطلاع دے دے کہ ہم تیرے پاس پہنچ کر خوش ہیں اور تو ہم سے راضی ہے۔““ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے ہمیں یہ اطلاع کر دی ہے۔ اسی حادثے میں حضرت عروہ بن اسماء بن صلت رضی اللہ عنہ بھی شہید کر دیے گئے تھے۔ (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاں جب بچہ پیدا ہوا تو اس کا نام) عروہ، انہی عروہ بن اسماء رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا گیا۔ حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی اسی حادثے میں شہید کیے گئے تھے تو (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے دوسرے صاحبزادے کا نام) منذر انہی کے نام پر رکھا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4093]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ , وَذَكْوَانَ , وَيَقُولُ: عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سلیمان تیمی نے خبر دی، انہیں ابومجلز (لاحق بن حمید) نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔ اس دعائے قنوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل اور ذکوان نامی قبائل کے لیے بددعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4094]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہینہ بھر نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت فرمائی، اس قنوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رعل اور ذکوان نامی قبائل کے خلاف بددعا فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «عَصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ”قبیلہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4094]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة