یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب غزوة الرجيع ورعل وذكوان وبئر معونة:
باب: غزوہ رجیع کا بیان اور رعل و ذکوان اور بئرمعونہ کے غزوہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4087
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , سَمِعَ جَابِرًا , يَقُولُ:" الَّذِي قَتَلَ خُبَيْبًا هُوَ أَبُو سِرْوَعَةَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر سے سنا کہ خبیب رضی اللہ عنہ کو ابوسروعہ (عقبہ بن عامر) نے قتل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4087]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جس شخص نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا، اس کی کنیت ابو سروعہ تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4087 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4087
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں سانحہ رجیع کو بیان کیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے بعد دس جاں نثاروں کو ایک مہم پرروانہ کیا۔
ان میں سات کے نام حسب ذیل ہیں:
۔
عاصم بن ثابت۔
۔
مرثد بن ابی مرثد ۔
عبداللہ بن طارق ۔
خبیب بن عدی ۔
زید بن وثنہ ۔
خالد بن بکیر ۔
معتب بن عبیدہ جو عبداللہ بن طارق کے مادری بھائی تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ باقی تین ان کے خدمت گزار ہوں گے، اس لیے ان کے نام معلوم نہیں ہوسکے اور نہ اس طرف کسی نے توجہ ہی دی ہے۔
(فتح الباري: 475/7)
ان دس حضرات میں سے سات نے کفار کے عہد و پیمان پر اعتبار نہ کیا، اس لیے وہ اپنی بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے وہاں شہید ہوگئے۔
حضرت عاصم ؓ کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شہید ہونے کی خبر اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تک پہنچادی۔
ان میں سے عبداللہ بن طارق ؓ، حضرت خبیب بن عدی ؓ، اور زید بن دثنہ ؓ ان کے بہکاوے میں آگئے بالآخر کفار نے انھیں قید کرلیا۔
حضرت عبداللہ بن طارق کو بھی وہیں قتل کردیا گیا جبکہ باقی دو ساتھیوں کو مکہ مکرمہ میں فروخت کردیا گیا۔
2۔
حضرت عاصم ؓ کے جسم کاکوئی حصہ لینے کے لیے قریش نے چند آدمی بھیجے تاکہ ان کے شہید ہونے کا علم ہوجائے لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
بعض نے لکھا ہے کہ سلافہ بنت سعد نے نذر مانی تھی کہ اگر میں نے عاصم پرقدرت حاصل کرلی تو میں اس کی کھوپڑی میں شراب نوشی کروں گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے شہید کی مکھیوں کے چھتے سے حضرت عاصم ؓ کے جسم کی حفاظت فرمائی۔
(فتح الباري: 480/7)
3۔
حضرت خبیب بن عدی ؓ کو ابوسروعہ عقبہ بن حارث نے قتل کیا تھا۔
لیکن ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ عقبہ بن حارث نے کہا:
میں نے حضرت خبیب بن عدی ؓ کو قتل نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت بہت چھوٹاتھا، البتہ ابومیسرہ عبدری نے میرے ہاتھ میں نیزہ دیا، پھر میراہاتھ پکڑ کر نیزے کو حرکت دی اورحضرت خبیب ؓ کے جسم میں پیوست کردیا۔
(فتح الباري: 481/7)
1۔
اس حدیث میں سانحہ رجیع کو بیان کیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے بعد دس جاں نثاروں کو ایک مہم پرروانہ کیا۔
ان میں سات کے نام حسب ذیل ہیں:
عاصم بن ثابت۔
مرثد بن ابی مرثد
عبداللہ بن طارق
خبیب بن عدی
زید بن وثنہ
خالد بن بکیر
معتب بن عبیدہ جو عبداللہ بن طارق کے مادری بھائی تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ باقی تین ان کے خدمت گزار ہوں گے، اس لیے ان کے نام معلوم نہیں ہوسکے اور نہ اس طرف کسی نے توجہ ہی دی ہے۔
(فتح الباري: 475/7)
ان دس حضرات میں سے سات نے کفار کے عہد و پیمان پر اعتبار نہ کیا، اس لیے وہ اپنی بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے وہاں شہید ہوگئے۔
حضرت عاصم ؓ کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شہید ہونے کی خبر اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تک پہنچادی۔
ان میں سے عبداللہ بن طارق ؓ، حضرت خبیب بن عدی ؓ، اور زید بن دثنہ ؓ ان کے بہکاوے میں آگئے بالآخر کفار نے انھیں قید کرلیا۔
حضرت عبداللہ بن طارق کو بھی وہیں قتل کردیا گیا جبکہ باقی دو ساتھیوں کو مکہ مکرمہ میں فروخت کردیا گیا۔
2۔
حضرت عاصم ؓ کے جسم کاکوئی حصہ لینے کے لیے قریش نے چند آدمی بھیجے تاکہ ان کے شہید ہونے کا علم ہوجائے لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
بعض نے لکھا ہے کہ سلافہ بنت سعد نے نذر مانی تھی کہ اگر میں نے عاصم پرقدرت حاصل کرلی تو میں اس کی کھوپڑی میں شراب نوشی کروں گی، لیکن اللہ تعالیٰ نے شہید کی مکھیوں کے چھتے سے حضرت عاصم ؓ کے جسم کی حفاظت فرمائی۔
(فتح الباري: 480/7)
3۔
حضرت خبیب بن عدی ؓ کو ابوسروعہ عقبہ بن حارث نے قتل کیا تھا۔
لیکن ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ عقبہ بن حارث نے کہا:
میں نے حضرت خبیب بن عدی ؓ کو قتل نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت بہت چھوٹاتھا، البتہ ابومیسرہ عبدری نے میرے ہاتھ میں نیزہ دیا، پھر میراہاتھ پکڑ کر نیزے کو حرکت دی اورحضرت خبیب ؓ کے جسم میں پیوست کردیا۔
(فتح الباري: 481/7)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4087]
Sahih Bukhari Hadith 4087 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري