بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب نواقض الوضوء
وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان
حدیث نمبر: 72
وعن عبد الله بن أبي بكر رضي الله عنه: أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لعمرو بن حزم: أن لا يمس القرآن إلا طاهر. رواه مالك مرسلا، ووصله النسائي وابن حبان، وهو معلول.
سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام کی جو تحریر عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دی تھی اس میں تحریر تھا کہ ”قرآن پاک کو پاکیزہ انسان (جس نے وضو کیا ہو) ہی ہاتھ لگائے۔“
امام مالک رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے، نسائی اور ابن حبان نے اس کو موصول بیان کیا ہے، دراصل یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 72]
امام مالک رحمہ اللہ نے اسے مرسل روایت کیا ہے، نسائی اور ابن حبان نے اس کو موصول بیان کیا ہے، دراصل یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 72]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ» عبداللہ بن ابی بکر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بیشک – «فِي» میں – «الْكِتَابِ» اس خط (تحریر) – «الَّذِي» جو – «كَتَبَهُ» لکھوایا اسے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ» عمرو بن حزم کے لیے – «أَنْ لَا يَمَسَّ» کہ نہ چھوئے – «الْقُرْآنَ» قرآن کو – «إِلَّا» مگر – «طَاهِرٌ» پاک (شخص)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مَالِكٌ» مالک نے – «مُرْسَلًا» مرسل کے طور پر – «وَوَصَلَهُ» اور اسے متصل کیا ہے – «النَّسَائِيُّ» نسائی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے – «وَهُوَ» اور وہ – «مَعْلُولٌ» معلول (علت والی) ہے۔
اور سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس خط میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم کے لیے لکھوایا تھا (یہ درج تھا) کہ: ”قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر وہ جو پاک ہو۔“ اسے امام مالک نے مرسل کے طور پر روایت کیا ہے، اور نسائی اور ابن حبان نے اسے متصل قرار دیا ہے، اور یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 72]
اور سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس خط میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم کے لیے لکھوایا تھا (یہ درج تھا) کہ: ”قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر وہ جو پاک ہو۔“ اسے امام مالک نے مرسل کے طور پر روایت کیا ہے، اور نسائی اور ابن حبان نے اسے متصل قرار دیا ہے، اور یہ حدیث معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ، القرآن، باب الأمر بالوضوء لمن مس القرآن: 1 /199 وسنده ضعيف، وللحديث شاهد قوي عند الدار قطني: 1 / 121، حديث: 429، والرواية عن الكتاب صحيحة مالم يثبت الجرح القادح فيه.»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 73
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه. رواه مسلم، وعلقه البخاري.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔“
اسے مسلم نے روایت کیا اور بخاری نے اس کو تعلیقاً نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 73]
اسے مسلم نے روایت کیا اور بخاری نے اس کو تعلیقاً نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 73]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» انہوں نے کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَذْكُرُ» ذکر کرتے – «اللَّهَ» اللہ کا – «عَلَى» پر – «كُلِّ» ہر – «أَحْيَانِهِ» اپنے اوقات۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَعَلَّقَهُ» اور اسے معلق ذکر کیا ہے – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہر وقت (ہر حال) میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور بخاری نے اسے معلق ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 73]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہر وقت (ہر حال) میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور بخاری نے اسے معلق ذکر کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «أخرج البخاري، تعليقًا، الأذان، باب هل يتتبع المؤذن فاه هاهنا وهاهنا؟...، قبل الحديث: 634، ومسلم، الحيض، باب ذكر الله تعالي في حال الجنابة وغيرها، حديث:373.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 74
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم وصلى، ولم يتوضأ. أخرجه الدارقطني، ولينه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے اور نیا وضو کئے بغیر نماز ادا کی۔“
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے کمزور کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے کمزور کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی نے – «احْتَجَمَ» پچھنے لگوائے (حجامہ کروایا) – «وَصَلَّى» اور نماز پڑھی – «وَلَمْ يَتَوَضَّأْ» اور وضو نہیں کیا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَلَيَّنَهُ» اور اسے نرم (ضعیف) قرار دیا ہے۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجامہ کروایا (پچھنے لگوائے) اور نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجامہ کروایا (پچھنے لگوائے) اور نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني: 1 /151، 152، فيه صالح بن مقاتل وليس بالقوي وأبوه غير معروف، وفيه علة أخري.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 75
وعن معاوية رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «العين وكاء السه، فإذا نامت العينان استطلق الوكاء» . رواه أحمد والطبراني، وزاد: «ومن نام فليتوضأ» وهذه الزيادة في هذا الحديث عند أبي داود من حديث علي دون قوله: «استطلق الوكاء» وفي كلا الإسنادين ضعف. ولأبي داود أيضا عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعا: «إنما الوضوء على من نام مضطجعا» . وفي إسناده ضعف أيضا.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”آنکھوں کا کھلا رہنا ریح خارج ہونے کا بندھن ہے۔ جب آنکھ سونے کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے تو بندھن ڈھیلا ہو جاتا ہے۔ (کھل جاتا ہے) (مسند احمد، طبرانی)
طبرانی نے اتنا اضافہ بھی اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ ”جس شخص کو نیند آ جائے وہ ازسرنو وضو کرے۔“ اتنا اضافہ ابوداؤد کی اس روایت میں بھی ہے جسے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ البتہ اس روایت میں «استطلق الوكاء» ”یعنی بندھن کھل جاتا ہے“ والی عبارت نہیں ہے۔ باعتبار سند، دونوں احادیث ضعیف ہیں اور ابوداؤد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے یہ مرفوع روایت بھی مروی ہے“ وضو تو اس شخص پر ہے جو لیٹ کر سو جائے۔“ سند کے اعتبار سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
طبرانی نے اتنا اضافہ بھی اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ ”جس شخص کو نیند آ جائے وہ ازسرنو وضو کرے۔“ اتنا اضافہ ابوداؤد کی اس روایت میں بھی ہے جسے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ البتہ اس روایت میں «استطلق الوكاء» ”یعنی بندھن کھل جاتا ہے“ والی عبارت نہیں ہے۔ باعتبار سند، دونوں احادیث ضعیف ہیں اور ابوداؤد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے یہ مرفوع روایت بھی مروی ہے“ وضو تو اس شخص پر ہے جو لیٹ کر سو جائے۔“ سند کے اعتبار سے یہ حدیث بھی ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
«وَعَنْ» اور سے – «مُعَاوِيَةَ» معاویہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «الْعَيْنُ» آنکھ – «وِكَاءُ» تسمہ (بندھن) ہے – «السَّهِ» دبر (پاخانے کی جگہ) کا – «فَإِذَا» پس جب – «نَامَتِ» سو جاتی ہیں – «الْعَيْنَانِ» دونوں آنکھیں – «اسْتَطْلَقَ» کھل جاتا ہے – «الْوِكَاءُ» بندھن۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَحْمَدُ» احمد – «وَالطَّبَرَانِيُّ» اور طبرانی نے – «وَزَادَ» اور زیادتی (اضافہ) بیان کی ہے: – «وَمَنْ» اور جو – «نَامَ» سو جائے – «فَلْيَتَوَضَّأْ» تو چاہیے کہ وہ وضو کرے۔ – «وَهَذِهِ» اور یہ – «الزِّيَادَةُ» زیادتی – «فِي» میں – «هَذَا» اس – «الْحَدِيثِ» حدیث – «عِنْدَ» پاس (روایت میں) ہے – «أَبِي دَاوُدَ» ابو داود کی – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «عَلِيٍّ» علی – «دُونَ» بغیر – «قَوْلِهِ» آپ کے (اس) فرمان کے: – «اسْتَطْلَقَ» کھل جاتا ہے – «الْوِكَاءُ» بندھن – «وَفِي» اور میں – «كِلَا» دونوں – «الْإِسْنَادَيْنِ» سندوں – «ضَعْفٌ» کمزوری ہے۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کے لیے (کی روایت میں) – «أَيْضًا» بھی (ہے) – «عَنْ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً: – «إِنَّمَا» درحقیقت – «الْوُضُوءُ» وضو (واجب ہے) – «عَلَى» پر – «مَنْ» جو – «نَامَ» سو جائے – «مُضْطَجِعًا» لیٹ کر۔ – «وَفِي» اور میں – «إِسْنَادِهِ» اس کی سند – «ضَعْفٌ» کمزوری ہے – «أَيْضًا» بھی۔
اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ دبر (کی ہوا رکنے) کا بندھن ہے، پس جب دونوں آنکھیں سو جاتی ہیں تو بندھن کھل جاتا ہے۔“ اسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے، اور (طبرانی نے یہ) اضافہ کیا ہے: ”اور جو سو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔“ اور اس حدیث میں یہ اضافہ ابو داود کے ہاں سیدنا علی کی حدیث سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان ”بندھن کھل جاتا ہے“ کے بغیر، اور دونوں سندوں میں کمزوری ہے۔ اور ابو داود ہی کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعاً مروی ہے کہ: ”وضو صرف اس پر واجب ہے جو لیٹ کر سو جائے۔“ اور اس کی سند میں بھی کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھ دبر (کی ہوا رکنے) کا بندھن ہے، پس جب دونوں آنکھیں سو جاتی ہیں تو بندھن کھل جاتا ہے۔“ اسے احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے، اور (طبرانی نے یہ) اضافہ کیا ہے: ”اور جو سو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔“ اور اس حدیث میں یہ اضافہ ابو داود کے ہاں سیدنا علی کی حدیث سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان ”بندھن کھل جاتا ہے“ کے بغیر، اور دونوں سندوں میں کمزوری ہے۔ اور ابو داود ہی کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعاً مروی ہے کہ: ”وضو صرف اس پر واجب ہے جو لیٹ کر سو جائے۔“ اور اس کی سند میں بھی کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد: 4 / 97، والطبراني في الكبير:19 /372، 373، حديث:875 وفيه أبوبكر ابن أبي مريم وهو ضعيف لاختلاطه، وللحديث شواهد معنوية عند أبي داود، الطهارة، حديث: 203 وغيره* حديث ابن عباس أخرجه أبوداود، حديث:202، وسنده ضعيف أبو خالد الدالاني وقتادة مدلسان وعنعنا وقال أبوداود:"منكر"»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 76
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «يأتي أحدكم الشيطان في صلاته فينفخ في مقعدته، فيخيل إليه أنه أحدث، ولم يحدث، فإذا وجد ذلك فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» . أخرجه البزار. وأصله في الصحيحين من حديث عبد الله بن زيد.ولمسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه نحوه. وللحاكم عن أبي سعيد مرفوعا: «إذا جاء أحدكم الشيطان، فقال: إنك أحدثت، فليقل: كذبت» . وأخرجه ابن حبان بلفظ:«فليقل في نفسه» .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نماز میں تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور اس کی مقعد میں پھونک مارتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال ڈالا جاتا ہے کہ وہ بےوضو ہو گیا ہے حالانکہ وہ بےوضو نہیں ہوا ہوتا لہٰذا تم میں سے جب کوئی ایسا محسوس کرے تو ریح کے خارج ہونے کی آواز سننے یا اس کی بدبو پانے تک نماز سے نہ پھرے۔“
اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی اصل بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موجود ہے۔ مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان جیسے ہی الفاظ مروی ہیں۔ اور حاکم نے ابوسعید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آئے اور ذہن میں وسواس ڈالے کہ تو بےوضو ہو گیا تو یہ شخص اسے جواب میں کہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔“ اس کو ابن حبان نے ان الفاظ سے روایت کیا ہے کہ ”وہ شخص اپنے دل میں کہے کہ تو جھوٹا ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 76]
اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی اصل بخاری میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موجود ہے۔ مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان جیسے ہی الفاظ مروی ہیں۔ اور حاکم نے ابوسعید رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ ”جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آئے اور ذہن میں وسواس ڈالے کہ تو بےوضو ہو گیا تو یہ شخص اسے جواب میں کہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔“ اس کو ابن حبان نے ان الفاظ سے روایت کیا ہے کہ ”وہ شخص اپنے دل میں کہے کہ تو جھوٹا ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 76]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» بیشک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «قَالَ» فرمایا: – «يَأْتِي» آتا ہے – «أَحَدَكُمُ» تم میں سے کسی کے پاس – «الشَّيْطَانُ» شیطان – «فِي» میں – «صَلَاتِهِ» اس کی نماز – «فَيَنْفُخُ» پھر وہ پھونک مارتا ہے – «فِي» میں – «مَقْعَدَتِهِ» اس کی سرین (بیٹھنے کی جگہ) – «فَيُخَيَّلُ» پس خیال ڈالا جاتا ہے – «إِلَيْهِ» اس کی طرف (اسے) – «أَنَّهُ» کہ بیشک اس نے – «أَحْدَثَ» حدث کیا ہے (ہوا خارج کی ہے) – «وَلَمْ يُحْدِثْ» حالانکہ اس نے حدث نہیں کیا ہوتا – «فَإِذَا» پس جب – «وَجَدَ» وہ پائے – «ذَلِكَ» یہ (شک) – «فَلَا يَنْصَرِفْ» تو وہ نہ لوٹے (نماز نہ توڑے) – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «يَسْمَعَ» وہ سن لے – «صَوْتًا» آواز – «أَوْ» یا – «يَجِدَ» پا لے – «رِيحًا» بو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا ہے – «الْبَزَّارُ» بزار نے۔ – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «فِي» میں (ہے) – «الصَّحِيحَيْنِ» صحیحین (بخاری و مسلم) – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ» عبداللہ بن زید۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کے لیے (کی روایت میں) ہے – «عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «نَحْوَهُ» اسی طرح (اسی کے مثل)۔ – «وَلِلْحَاكِمِ» اور حاکم کے لیے (کی روایت میں) ہے – «عَنْ» سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً: – «إِذَا» جب – «جَاءَ» آئے – «أَحَدَكُمُ» تم میں سے کسی کے پاس – «الشَّيْطَانُ» شیطان – «فَقَالَ» اور کہے: – «إِنَّكَ» بیشک تو نے – «أَحْدَثْتَ» حدث کیا ہے (وضو توڑا ہے) – «فَلْيَقُلْ» تو چاہیے کہ وہ کہے: – «كَذَبْتَ» تو نے جھوٹ کہا۔ – «وَأَخْرَجَهُ» اور اسے نکالا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «بِلَفْظِ» ساتھ الفاظ کے: – «فَلْيَقُلْ» چاہیے کہ وہ کہے – «فِي» میں – «نَفْسِهِ» اپنے دل (نفس)۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس نماز میں شیطان آتا ہے اور اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے، پس اسے یہ خیال گزرتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، حالانکہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا ہوتا۔ پس جب کسی کو ایسا (شک) محسوس ہو تو وہ (نماز سے) نہ لوٹے یہاں تک کہ آواز سن لے یا بو محسوس کر لے۔“ اسے بزار نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل صحیحین میں سیدنا عبداللہ بن زید کی حدیث سے ہے۔ اور مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔ اور حاکم کی روایت میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ”جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آئے اور کہے: تو نے وضو توڑ دیا ہے، تو وہ کہے: تو نے جھوٹ کہا۔“ اور اسے ابن حبان نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”پس وہ اپنے دل میں کہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 76]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس نماز میں شیطان آتا ہے اور اس کی سرین پر پھونک مارتا ہے، پس اسے یہ خیال گزرتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، حالانکہ اس کا وضو نہیں ٹوٹا ہوتا۔ پس جب کسی کو ایسا (شک) محسوس ہو تو وہ (نماز سے) نہ لوٹے یہاں تک کہ آواز سن لے یا بو محسوس کر لے۔“ اسے بزار نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل صحیحین میں سیدنا عبداللہ بن زید کی حدیث سے ہے۔ اور مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔ اور حاکم کی روایت میں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ”جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آئے اور کہے: تو نے وضو توڑ دیا ہے، تو وہ کہے: تو نے جھوٹ کہا۔“ اور اسے ابن حبان نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”پس وہ اپنے دل میں کہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار (كشف الاستار):1 / 147، حديث:281 واللفظ له، حديث عبدالله بن زيد: أخرجه البخاري، الوضوء، حديث: 137، ومسلم، الطهارة، حديث: 361، حديث أبي هريرة: أخرجه مسلم، الطهارة، حديث: 362، حديث أبي سعيد: أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1029، وابن حبان(الموارد)، حديث:1187، صحيحه الحاكم علي شرط الشيخين:1 /324، ووافقه الذهبي.»
الحكم على الحديث:
حسن