🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب المسح على الخفين
موزوں پر مسح کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 53
عن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فتوضأ فأهويت لأنزع خفيه فقال:«‏‏‏‏دعهما فإني أدخلتهما طاهرتين» فمسح عليهما. متفق عليه.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنا شروع کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتارنے کیلئے لپکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوڑ دو میں نے جب یہ موزے پہنے تھے تو میں وضو سے تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح فرمایا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 53]
«عَنِ» سے – «الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ» مغیرہ بن شعبہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «كُنْتُ» تھا میں – «مَعَ» ساتھ – «النَّبِيِّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «فَتَوَضَّأَ» تو آپ نے وضو کیا – «فَأَهْوَيْتُ» پس میں جھکا – «لِأَنْزِعَ» تاکہ میں اتاروں – «خُفَّيْهِ» آپ کے دونوں موزے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «دَعْهُمَا» چھوڑ دو ان دونوں کو – «فَإِنِّي» کیونکہ بیشک میں نے – «أَدْخَلْتُهُمَا» پہنا (داخل کیا) ہے ان دونوں کو – «طَاهِرَتَيْنِ» پاکی کی حالت میں، – «فَمَسَحَ» پھر آپ نے مسح کیا – «عَلَيْهِمَا» ان دونوں پر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، پس آپ نے وضو کیا تو میں آپ کے دونوں موزے اتارنے کے لیے جھکا، تو آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو چھوڑ دو، کیونکہ میں نے انہیں پاکی کی حالت (وضو کر کے) میں پہنا ہے۔“ پھر آپ نے ان پر مسح کیا۔ یہ متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب إذا أدخل رجليه وهما طاهرتان، حديث:206، ومسلم، الطهارة، باب المسح علي الخفين، حديث:274.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 54
وللأربعة عنه إلا النسائي: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم مسح أعلى الخف وأسفله. وفي إسناده ضعف.
(مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) نسائی کے علاوہ باقی سنن کی تین کتابوں میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ الفاظ منقول ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے اوپر اور نیچے دونوں جانب مسح کیا۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 54]
«وَلِلْأَرْبَعَةِ» اور چاروں (محدثین) کے لیے (یعنی ان کی روایت میں ہے) – «عَنْهُ» انہی سے – «إِلَّا» سوائے – «النَّسَائِيِّ» نسائی کے: – «أَنَّ» بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «مَسَحَ» مسح کیا – «أَعْلَى» اوپر والے حصے (پر) – «الْخُفِّ» موزے کے – «وَأَسْفَلَهُ» اور اس کے نیچے والے حصے پر۔ – «وَفِي» اور میں – «إِسْنَادِهِ» اس کی سند – «ضَعْفٌ» کمزوری (ہے)۔
اور نسائی کے علاوہ باقی تینوں (ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ) نے بھی انہی سے روایت کیا ہے کہ: بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزے کے اوپر والے اور نیچے والے حصے پر مسح کیا۔ اور اس کی سند میں کمزوری (ضعف) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب كيف المسح، حديث:165، والترمذي، الطهارة، حديث:97، وابن ماجه، الطهارة، حديث:550، الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل، وفيه علة أخري.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 55
وعن علي رضي الله عنه أنه قال: لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخف أولى بالمسح من أعلاه،‏‏‏‏ وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يمسح على ظاهر خفيه. أخرجه أبو داود بإسناد حسن.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”اگر دین کا دارومدار رائے اور عقل پر ہوتا تو موزوں کی نچلی سطح پر مسح اوپر کی بہ نسبت زیادہ قرین قیاس تھا۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موزے کے بالائی حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔“ ابوداؤد نے اس کو حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 55]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» بیشک انہوں نے – «قَالَ» فرمایا: – «لَوْ» اگر – «كَانَ» ہوتا – «الدِّينُ» دین – «بِالرَّأْيِ» رائے (عقل) کے ساتھ – «لَكَانَ» تو یقیناً ہوتا – «أَسْفَلُ» نچلا حصہ – «الْخُفِّ» موزے کا – «أَوْلَى» زیادہ حقدار – «بِالْمَسْحِ» مسح کے – «مِنْ» سے – «أَعْلَاهُ» اس کے اوپر والے حصے کے، – «وَقَدْ» اور البتہ تحقیق – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَمْسَحُ» وہ مسح کرتے ہیں – «عَلَى» پر – «ظَاهِرِ» ظاہر (اوپر والے حصے) – «خُفَّيْهِ» اپنے دونوں موزوں کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «بِإِسْنَادٍ» ساتھ سند کے – «حَسَنٍ» حسن۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر دین کا دارومدار عقل (رائے) پر ہوتا تو موزے کا نچلا حصہ اس کے اوپر والے حصے کی نسبت مسح کیے جانے کا زیادہ حقدار ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے ظاہری (اوپر والے) حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اسے ابو داود نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 55]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب كيف المسح، حديث:162، ابو إسحاق عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 56
وعن صفوان بن عسال رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يأمرنا إذا كنا سفرا ؛ أن لا ننزع خفافنا ثلاثة أيام ولياليهن إلا من جنابة،‏‏‏‏ ولكن من غائط وبول ونوم. أخرجه النسائي والترمذي،‏‏‏‏ واللفظ له،‏‏‏‏ وابن خزيمة وصححاه.
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ”ہم تین دن اور تین راتیں موزے نہ اتاریں، الایہ کہ حالت جنابت لاحق ہو جائے۔ البتہ بیت الخلاء جانے کی صورت میں، پیشاب اور نیند کی وجہ سے اتارنے کی ضرورت نہیں۔“
اسے نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ ترمذی میں منقول روایت کے ہیں۔ ترمذی اور ابن خزیمہ دونوں نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
«وَعَنْ» اور سے – «صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ» صفوان بن عسال – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «كَانَ» تھے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يَأْمُرُنَا» ہمیں حکم دیتے – «إِذَا» جب – «كُنَّا» ہم ہوتے – «سَفَرًا» سفر میں؛ – «أَنْ لَا نَنْزِعَ» کہ ہم نہ اتاریں – «خِفَافَنَا» اپنے موزے – «ثَلَاثَةَ» تین – «أَيَّامٍ» دن – «وَلَيَالِيَهُنَّ» اور ان کی راتیں – «إِلَّا» سوائے – «مِنْ» سے (وجہ سے) – «جَنَابَةٍ» جنابت کے، – «وَلَكِنْ» اور لیکن (ہم مسح کریں) – «مِنْ» سے (وجہ سے) – «غَائِطٍ» پاخانہ – «وَبَوْلٍ» اور پیشاب – «وَنَوْمٍ» اور نیند کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «النَّسَائِيُّ» نسائی – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے، – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لَهُ» اسی (ترمذی) کے ہیں، – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے – «وَصَحَّحَاهُ» اور ان دونوں (ترمذی اور ابن خزیمہ) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم سفر میں ہوں تو ہم اپنے موزے تین دن اور ان کی راتوں تک نہ اتاریں سوائے جنابت کے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند کی وجہ سے (نہ اتاریں بلکہ مسح کر لیں)۔ اسے نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور الفاظ ترمذی کے ہیں، اور ابن خزیمہ نے (بھی اسے روایت کیا ہے) اور ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 56]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الطهارة، باب المسح علي الخفين للمسافر والمقيم، حديث:96، والنسائي، الطهارة، حديث: 127، وابن خزيمة:1 / 99، حديث:196.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: جعل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ثلاثة أيام ولياليهن للمسافر،‏‏‏‏ ويوما وليلة للمقيم،‏‏‏‏ يعني في المسح على الخفين. أخرجه مسلم.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لئے موزوں پر مسح کے لئے تین شب و روز اور مقیم کے لئے ایک دن رات مدت مقرر فرمائی ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ» علی بن ابی طالب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «جَعَلَ» مقرر کیے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «ثَلَاثَةَ» تین – «أَيَّامٍ» دن – «وَلَيَالِيَهُنَّ» اور ان کی راتیں – «لِلْمُسَافِرِ» مسافر کے لیے، – «وَيَوْمًا» اور ایک دن – «وَلَيْلَةً» اور ایک رات – «لِلْمُقِيمِ» مقیم کے لیے، – «يَعْنِي» یعنی – «فِي» میں/کے بارے میں – «الْمَسْحِ» مسح – «عَلَى» پر – «الْخُفَّيْنِ» دونوں موزوں کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر کی ہے، یعنی دونوں موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب التوقيت في المسح علي الخفين، حديث: 276.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 58
وعن ثوبان رضي الله عنه قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سرية فأمرهم أن يمسحوا على العصائب،‏‏‏‏ يعني العمائم والتساخين،‏‏‏‏ يعني الخفاف. رواه أحمد وأبو داود،‏‏‏‏ وصححه الحاكم.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (یعنی چھوٹا لشکر) روانہ فرمایا اور انہیں پگڑیوں اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔
اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 58]
«وَعَنْ» اور سے – «ثَوْبَانَ» ثوبان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «بَعَثَ» بھیجا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «سَرِيَّةً» ایک لشکر – «فَأَمَرَهُمْ» تو آپ نے انہیں حکم دیا – «أَنْ» کہ – «يَمْسَحُوا» وہ مسح کریں – «عَلَى» پر – «الْعَصَائِبِ» پٹیوں (پگڑیوں)، – «يَعْنِي» یعنی – «الْعَمَائِمَ» پگڑیاں – «وَالتَّسَاخِينِ» اور موزوں، – «يَعْنِي» یعنی – «الْخِفَافَ» چمڑے کے موزے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے، – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پٹیوں (العصائب) یعنی پگڑیوں پر، اور التساخین یعنی چمڑے کے موزوں پر مسح کریں۔ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 58]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب المسح علي العمامة، حديث: 146، وأحمد: 5 / 277، والحاكم في المستدرك:1 / 169.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 59
وعن عمر رضي الله عنه موقوفا،‏‏‏‏ وعن أنس مرفوعا: «‏‏‏‏إذا توضأ أحدكم فلبس خفيه فليمسح عليهما،‏‏‏‏ وليصل فيهما،‏‏‏‏ ولا يخلعهما إن شاء إلا من الجنابة» .‏‏‏‏ أخرجه الدارقطني والحاكم وصححه.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقف اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی موزے پہن کر وضو کرے تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے اور ان کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے۔ اگر چاہے تو ان کو نہ اتارے، الایہ کہ غسل جنابت کی ضرورت پیش آ جائے۔“
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 59]
«وَعَنْ» اور سے – «عُمَرَ» عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مَوْقُوفًا» موقوفاً (ان کے اپنے قول کے طور پر)، – «وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «مَرْفُوعًا» مرفوعاً (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر): – «إِذَا» جب – «تَوَضَّأَ» وضو کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَلَبِسَ» پھر وہ پہن لے – «خُفَّيْهِ» اپنے دونوں موزے – «فَلْيَمْسَحْ» تو اسے چاہیے کہ مسح کرے – «عَلَيْهِمَا» ان دونوں پر، – «وَلْيُصَلِّ» اور وہ نماز پڑھے – «فِيهِمَا» ان دونوں میں، – «وَلَا يَخْلَعْهُمَا» اور وہ انہیں نہ اتارے – «إِنْ شَاءَ» اگر وہ چاہے – «إِلَّا» سوائے – «مِنَ» سے (وجہ سے) – «الْجَنَابَةِ» جنابت کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے پھر اپنے دونوں موزے پہن لے، تو وہ ان دونوں پر مسح کرے اور ان دونوں (کو پہنے ہوئے) میں نماز پڑھے، اور اگر وہ چاہے تو انہیں جنابت کے علاوہ کسی اور وجہ سے نہ اتارے۔“ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني، الطهارة، باب ما جاء في المسح علي الخفين من غير توقيت: 1 /203، 204، والحاكم:1 /181، وتعقيه الذهبي، والحديث حسن موقوفًا وأما المرفوع فسنده ضعيف: فيه مقدام بن داود وهو ضعيف، والحديث ليس علي عمومه بل خصصه الحديث الآتي.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 60
وعن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم: أنه رخص للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن،‏‏‏‏ وللمقيم يوما وليلة،‏‏‏‏ إذا تطهر فلبس خفيه: أن يمسح عليهما. أخرجه الدارقطني وصححه ابن خزيمة.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے (مسح کی مدت) تین دن اور تین راتوں کی رخصت فرمائی ہے اور مقیم کیلئے ایک دن اور ایک رات۔ اس حالت میں کہ اس نے باوضو ہو کر موزے پہنے ہوں تو ان پر مسح کر لینا چاہیئے۔
اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي بَكْرَةَ» ابو بکرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ» سے – «النَّبِيِّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «أَنَّهُ» بیشک آپ نے – «رَخَّصَ» رخصت (اجازت) دی – «لِلْمُسَافِرِ» مسافر کے لیے – «ثَلَاثَةَ» تین – «أَيَّامٍ» دن – «وَلَيَالِيَهُنَّ» اور ان کی راتوں کی، – «وَلِلْمُقِيمِ» اور مقیم کے لیے – «يَوْمًا» ایک دن – «وَلَيْلَةً» اور ایک رات کی، – «إِذَا» جب – «تَطَهَّرَ» اس نے پاکی حاصل کی ہو – «فَلَبِسَ» پھر پہنے ہوں – «خُفَّيْهِ» اپنے دونوں موزے: – «أَنْ يَمْسَحَ» کہ وہ مسح کرے – «عَلَيْهِمَا» ان دونوں پر۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا ہے – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے روایت ہے کہ: بیشک آپ نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتوں کی، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی رخصت دی ہے، کہ جب اس نے پاکی حاصل کر کے اپنے دونوں موزے پہنے ہوں تو وہ ان دونوں پر مسح کرے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني، الطهارة، باب ما في المسح علي الخفين من غير توقيت: 1 / 204، وابن خزيمة: 1 / 96، حديث: 192، وابن حبان(الموارد)، حديث:184.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 61
وعن أبي بن عمارة رضي الله عنه أنه قال: يا رسول الله أمسح على الخفين؟ قال: «‏‏‏‏نعم» ‏‏‏‏ قال: يوما؟ قال: «‏‏‏‏نعم» ‏‏‏‏ قال: ويومين؟ قال: «‏‏‏‏نعم» ‏‏‏‏ قال: وثلاثة أيام؟ قال: «‏‏‏‏نعم،‏‏‏‏ وما شئت» . أخرجه أبو داود،‏‏‏‏ وقال: ليس بالقوي.
سیدنا ابی بن عمارۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ فرمایا ”ہاں کر سکتے ہو“ عرض کیا ایک دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں ایک دن“ عرض کیا دو دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں دو دن“ میں نے عرض کیا تین دن؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں تین دن اور جب تک تیری مرضی ہو۔“
ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی کہا ہے کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
«وَعَنْ» اور سے – «أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ» ابی بن عمارہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» بیشک انہوں نے – «قَالَ» کہا: – «يَا» اے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «أَمْسَحُ» کیا میں مسح کروں – «عَلَى» پر – «الْخُفَّيْنِ» دو موزوں (کے)؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «نَعَمْ» ہاں – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «يَوْمًا» ایک دن؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «نَعَمْ» ہاں – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «وَيَوْمَيْنِ» اور دو دن؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «نَعَمْ» ہاں – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» اور تین دن؟ – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «نَعَمْ» ہاں – «وَمَا شِئْتَ» اور جو تم چاہو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَقَالَ» اور کہا: – «لَيْسَ بِالْقَوِيِّ» یہ قوی نہیں ہے۔
اور سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ایک دن؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: اور دو دن؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: اور تین دن؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور جتنے دن تم چاہو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ قوی نہیں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب التوقيت في المسح، حديث: 158، وقال الدار قطني: "هذا الإسناد لا يثبت... وعبدالرحمن و محمد بن يزيد و أيوب بن قطن مجهولون كلهم".»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں