🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب الغسل وحكم الجنب
غسل اور جنبی کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الماء من الماء» رواه مسلم،‏‏‏‏ وأصله في البخاري.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانی کا استعمال خروج پانی سے ہے۔“ (یعنی جب تک منی کا خروج نہ ہو اس وقت تک غسل واجب نہیں ہوتا۔) اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اصل روایت بخاری میں بھی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 94]
«عَنْ» سے - «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابوسعید خدری - «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «الْمَاءُ» پانی (غسل) - «مِنَ» سے ہے - «الْمَاءِ» پانی (منی کے نکلنے) - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «مُسْلِمٌ» مسلم نے - «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل - «فِي» میں ہے - «الْبُخَارِيِّ» بخاری۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی (یعنی غسل واجب ہونا) پانی (یعنی منی کے خارج ہونے) سے ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری میں ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، اليحض، باب إنما الماء من الماء، حديث:343 واللفظ له، والبخاري، الوضوء، باب من لم يرالوضوءإلا من المخرجين من القبل والدبر، حديث:180.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا جلس بين شعبها الأربع ثم جهدها،‏‏‏‏ فقد وجب الغسل» .‏‏‏‏ متفق عليه. وزاد مسلم: «‏‏‏‏وإن لم ينزل» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب تم میں سے کوئی عورت کی چار شاخوں کے درمیان میں بیٹھے پھر اپنی پوری کوشش کر لے تو اس پر غسل واجب ہو گیا۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ”خواہ انزال نہ ہوا ہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 95]
«وَعَنْ» اور سے - «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابوہریرہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «إِذَا» جب - «جَلَسَ» وہ (مرد) بیٹھے - «بَيْنَ» درمیان - «شُعَبِهَا» اس (عورت) کی شاخوں (ہاتھوں اور پیروں) - «الْأَرْبَعِ» چار - «ثُمَّ» پھر - «جَهَدَهَا» وہ اس کے ساتھ مشقت (جماع) کرے - «فَقَدْ» تو تحقیق - «وَجَبَ» واجب ہو گیا - «الْغُسْلُ» غسل - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر - «وَزَادَ» اور زیادتی (اضافہ) کی ہے - «مُسْلِمٌ» مسلم نے - «وَإِنْ» اور اگرچہ - «لَمْ» نہ - «يُنْزِلْ» اس نے انزال کیا ہو۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد عورت کے چاروں اعضاء (ہاتھوں اور پاؤں) کے درمیان بیٹھے، پھر اس سے جماع کرے تو غسل واجب ہو گیا۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: ”اگرچہ انزال نہ ہوا ہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب إذاالتقي الختانان، حديث:291، ومسلم، الحيض، باب نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانين، حديث:348.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
وعن أم سلمة رضي الله عنها أن أم سليم- وهي امرأة أبي طلحة- قالت: يا رسول الله! إن الله لا يستحيي من الحق،‏‏‏‏ فهل على المرأة الغسل إذا احتلمت؟ قال: «‏‏‏‏نعم إذا رأت الماء» ‏‏‏‏. الحديث متفق عليه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیاء نہیں کرتا تو بتائیں کیا عورت کو جب احتلام ہو جائے تو اس پر بھی غسل فرض ہے؟ فرمایا ”ہاں! جب وہ پانی دیکھے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 96]
وَعَنْ» اور سے - «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو - «أَنَّ» کہ - «أُمَّ سُلَيْمٍ» ام سلیم - «وَهِيَ» اور وہ - «امْرَأَةُ» بیوی ہیں - «أَبِي طَلْحَةَ» ابوطلحہ کی - «قَالَتْ» انہوں نے کہا - «يَا» اے - «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول - «إِنَّ» بیشک - «اللَّهَ» اللہ - «لَا» نہیں - «يَسْتَحْيِي» شرماتا - «مِنَ» سے - «الْحَقِّ» حق - «فَهَلْ» تو کیا - «عَلَى» پر - «الْمَرْأَةِ» عورت - «الْغُسْلُ» غسل ہے - «إِذَا» جب - «احْتَلَمَتْ» اسے احتلام ہو - «قَالَ» فرمایا - «نَعَمْ» ہاں - «إِذَا» جب - «رَأَتِ» وہ دیکھے - «الْمَاءَ» پانی (تری) - «الْحَدِيثُ» حدیث - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم - اور وہ سیدنا ابوطلحہ کی بیوی ہیں - نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک اللہ تعالیٰ حق (بیان کرنے) سے نہیں شرماتا، تو کیا عورت پر غسل (واجب) ہے جب اسے احتلام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ پانی (تری) دیکھے۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب إذا احتلمت المرأة، حديث:282، وانظر، حديث:130، ومسلم، الحيض، باب وجوب الغسل علي المرأة بخروج المني منها، حديث:313.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: في المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل،‏‏‏‏ قال: «‏‏‏‏تغتسل» .‏‏‏‏ متفق عليه. وزاد مسلم: فقالت أم سلمة: وهل يكون هذا؟ قال:«‏‏‏‏نعم،‏‏‏‏ فمن أين يكون الشبه؟» .‏‏‏‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو خواب میں وہی کچھ دیکھے جو ایک نوجوان مرد دیکھتا ہے (احتلام) ”کہ وہ غسل کرے۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم نے اتنا اضافہ بھی کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب دینے پر مزید دریافت کیا، کیا ایسا (عورت) کے ساتھ بھی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! اگر ایسا نہ ہوتا تو مشابہت کہاں سے ہوتی۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 97]
«وَعَنْ» اور سے - «أَنَسٍ» انس - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَ» انہوں نے کہا - «قَالَ» فرمایا - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «فِي» میں / کے بارے میں - «الْمَرْأَةِ» عورت - «تَرَى» جو دیکھتی ہے - «فِي» میں - «مَنَامِهَا» اپنی نیند - «مَا» جو - «يَرَى» دیکھتا ہے - «الرَّجُلُ» مرد - «قَالَ» فرمایا - «تَغْتَسِلُ» وہ غسل کرے گی - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر - «وَزَادَ» اور زیادتی (اضافہ) کی ہے - «مُسْلِمٌ» مسلم نے - «فَقَالَتْ» تو کہا - «أُمُّ سَلَمَةَ» ام سلمہ نے - «وَهَلْ» اور کیا - «يَكُونُ» ہوتا ہے - «هَذَا» یہ - «قَالَ» فرمایا - «نَعَمْ» ہاں - «فَمِنْ أَيْنَ» تو کہاں سے - «يَكُونُ» ہوتی ہے - «الشَّبَهُ» مشابہت۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جو اپنی نیند میں وہ کچھ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے (یعنی احتلام): ”وہ غسل کرے۔“ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور مسلم نے یہ اضافہ کیا ہے: تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اور کیا یہ (عورتوں کو بھی احتلام) ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (ہوتا ہے)، تو (بچے میں) مشابہت کہاں سے آتی ہے؟“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: لم أجده من حديث أنس رضي الله عنه، ومسلم، الحيض، باب وجوب الغسل علي المرأة بخروج المني منها، حديث: 310، 312.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغتسل من أربع: من الجنابة،‏‏‏‏ ويوم الجمعة،‏‏‏‏ ومن الحجامة،‏‏‏‏ ومن غسل الميت. رواه أبو داود وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ جنابت، جمعہ کے روز، سینگی لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 98]
«وَعَنْ» اور سے - «عَائِشَةَ» عائشہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو - «قَالَتْ» انہوں نے کہا - «كَانَ» تھے - «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «يَغْتَسِلُ» غسل کرتے - «مِنْ» سے - «أَرْبَعٍ» چار (چیزوں) - «مِنَ» سے - «الْجَنَابَةِ» جنابت - «وَيَوْمَ» اور دن - «الْجُمُعَةِ» جمعہ کے - «وَمِنَ» اور سے - «الْحِجَامَةِ» پچھنے لگوانے (حجامہ) - «وَمِنْ» اور سے - «غُسْلِ» غسل دینے - «الْمَيِّتِ» میت کو - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «أَبُو دَاوُدَ» ابوداؤد نے - «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے - «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار چیزوں (کی وجہ) سے غسل فرمایا کرتے تھے: جنابت سے، جمعہ کے دن، پچھنے لگوانے (حجامہ کروانے) سے، اور میت کو غسل دینے سے۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الغسل اللجمعة، حديث:348، وانظر، حديث:3160، وابن خزيمة:1 / 126، حديث:256، وضعفه أبوداود، والسند حسن، وللحديث شواهد.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
وعن أبي هريرة رضي الله عنه- في قصة ثمامة بن أثال عندما أسلم- وأمره النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يغتسل. رواه عبد الرزاق،‏‏‏‏ وأصله متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعہ کے متعلق مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غسل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ عبدالرزاق نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 99]
«وَعَنْ» اور سے - «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابوہریرہ - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «فِي» میں - «قِصَّةِ» قصہ - «ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ» ثمامہ بن اثال کے - «عِنْدَمَا» جب - «أَسْلَمَ» وہ اسلام لائے - «وَأَمَرَهُ» اور انہیں حکم دیا - «النَّبِيُّ» نبی نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «أَنْ» کہ - «يَغْتَسِلَ» وہ غسل کریں - «رَوَاهُ» اسے روایت کیا - «عَبْدُ الرَّزَّاقِ» عبدالرزاق نے - «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل - «مُتَّفَقٌ» متفق - «عَلَيْهِ» اس پر۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال کے قصے میں روایت ہے کہ جب وہ اسلام لائے، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا۔ اسے عبدالرزاق نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل متفق علیہ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «أخرجه عبدالرزاق، ومن طريقه ابن خزيمة: 1 / 125، حديث:253، والبيهقي: 1 / 171، والبخاري، المغازي، حديث:4372، ومسلم، الجهاد، حديث:1764.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم» ‏‏‏‏. أخرجه السبعة.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔“
اس کو ساتوں یعنی بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 100]
«وَعَنْ» اور سے - «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابوسعید خدری - «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو - «أَنَّ» کہ - «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے - «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی - «قَالَ» فرمایا - «غُسْلُ» غسل - «يَوْمِ» دن - «الْجُمُعَةِ» جمعہ کے - «وَاجِبٌ» واجب ہے - «عَلَى» پر - «كُلِّ» ہر - «مُحْتَلِمٍ» بالغ - «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) ہے - «السَّبْعَةُ» ساتوں نے۔
اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ (شخص) پر واجب ہے۔“ اسے ساتوں (محدثین) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الجمعة، باب فضل الغسل يوم الجمعة...، حديث:879، ومسلم، الجمعة، باب الطيب والسواك يوم الجمعة، حديث:846، وأبوداود، الطهارة، حديث:341، وأشار إليه الترمذي، الصلاة، حديث: 492، وابن ماجه، الصلاة، حديث:1089، والنسائي، الصلاة، حديث:1376، وأحمد:3 /60.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل أفضل» ‏‏‏‏. رواه الخمسة وحسنه الترمذي.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمعہ کے روز جس نے وضو کیا اس نے اچھا اور بہتر کیا اور جس نے غسل کیا تو بہرحال افضل ہے اور بہترین ہے۔“
اس کو پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 101]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «مَنْ» جس نے – «تَوَضَّأَ» وضو کیا – «يَوْمَ» دن – «الْجُمُعَةِ» جمعہ کے – «فَبِهَا» تو اسی (سنت) پر (اس نے عمل کیا) – «وَنِعْمَتْ» اور وہ اچھا ہے – «وَمَنِ» اور جس نے – «اغْتَسَلَ» غسل کیا – «فَالْغُسْلُ» تو غسل – «أَفْضَلُ» زیادہ بہتر ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچ نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن قرار دیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے۔
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اسی (سنت) پر عمل کیا اور یہ اچھا ہے، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے۔“ اسے پانچوں (امام احمد اور اصحاب سنن) نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الرخصة في ترك الغسل يوم الجمعة، حديث:354، والترمذي، الصلاة، حديث:497، والنسائي، الصلاة، حديث:1371، وابن ماجه، الصلاة، حديث:1091من حديث أنس رضي الله عنه، وأحمد: 5 /15، 16، 22، والحسن البصري صرح بالسماع عند الطوسي في مختصر الأحكام:3 /10، حديث:334 /467 وسنده حسن.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
وعن علي رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرئنا القران ما لم يكن جنبا. رواه أحمد والخمسة وهذا لفظ الترمذي وحسنه وصححه ابن حبان.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت کے علاوہ ہر حالت میں ہمیں قرآن مجید پڑھا دیا کرتے تھے۔“
اسے پانچوں یعنی احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ ترمذی کے ہیں اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 102]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلِيٍّ» علی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «يُقْرِئُنَا» ہمیں پڑھاتے تھے – «الْقُرْآنَ» قرآن – «مَا لَمْ يَكُنْ» جب تک کہ نہیں ہوتے تھے – «جُنُبًا» ناپاک (حالت جنابت میں)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَالْخَمْسَةُ» اور پانچ نے – «وَهَذَا» اور یہ – «لَفْظُ» لفظ ہے – «التِّرْمِذِيِّ» ترمذی کے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن قرار دیا – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن پڑھاتے تھے جب تک کہ آپ حالت جنابت میں نہ ہوتے۔ اسے امام احمد اور دیگر پانچ نے روایت کیا ہے، اور یہ الفاظ امام ترمذی کے ہیں، انہوں نے اسے حسن قرار دیا ہے، اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الجنب يقرأ القر آن، حديث:229، والترمذي، الطهارة، حديث:146، والنسائي، الطهارة، حديث:267، وابن ماجه، الطهارة، حديث:594، وأحمد:1 / 83.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ بينهما وضوءا» ‏‏‏‏. رواه مسلم.زاد الحاكم: «‏‏‏‏فإنه أنشط للعود» .‏‏‏‏
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے (یعنی تعلق زن و شو قائم کرے، ہمبستری کرے) پھر دوبارہ لطف اندوز ہونے کا ارادہ ہو تو درمیان میں وضو کر لے۔“ (مسلم)
اور حاکم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ (یہ وضو) دوبارہ مباشرت کیلئے زیادہ باعث نشاط ہے یعنی فرحت بخش اور تازگی پیدا کرتا ہے اور سنن اربعہ یعنی ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے۔ یہ روایت معلول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 103]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «إِذَا» جب – «أَتَى» آئے (صحبت کرے) – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «أَهْلَهُ» اپنی بیوی کے پاس – «ثُمَّ» پھر – «أَرَادَ» وہ ارادہ کرے – «أَنْ يَعُودَ» کہ دوبارہ کرے – «فَلْيَتَوَضَّأْ» تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان – «وُضُوءًا» (ایک بار) وضو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «زَادَ» اضافہ کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے: – «فَإِنَّهُ» بے شک یہ – «أَنْشَطُ» زیادہ چست کرنے والا ہے – «لِلْعَوْدِ» دوبارہ کرنے کے لیے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے (جماع کرے) پھر وہ دوبارہ کرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ ان دونوں (مرتبوں) کے درمیان وضو کر لے۔“ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور حاکم نے یہ اضافہ کیا ہے: ”بے شک یہ دوبارہ کرنے کے لیے زیادہ چست کر دینے والا عمل ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب جواز نوم الجنب واستحباب الوضوء له، حديث:308، والحاكم في المستدرك:1 / 152 وسنده صحيح، وأبوداود، الطهارة، حديث:228، والترمذي، الطهارة، حديث:118، والنسائي في الكبرٰي: 5 /332، حديث:9092، وابن ماجه، الطهارة، حديث:581، 582، 583، وإسناده ضعيف، أبوإسحاق السبيعي لم يثبت تصريح سماعه.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں