🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
غسل اور جنبی کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغتسل من أربع: من الجنابة،‏‏‏‏ ويوم الجمعة،‏‏‏‏ ومن الحجامة،‏‏‏‏ ومن غسل الميت. رواه أبو داود وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ جنابت، جمعہ کے روز، سینگی لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الغسل اللجمعة، حديث:348، وانظر، حديث:3160، وابن خزيمة:1 / 126، حديث:256، وضعفه أبوداود، والسند حسن، وللحديث شواهد.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3160
يغتسل من أربع من الجنابة ويوم الجمعة ومن الحجامة وغسل الميت
سنن أبي داود
348
يغتسل من أربع من الجنابة ويوم الجمعة ومن الحجامة ومن غسل الميت
بلوغ المرام
98
يغتسل من اربع: من الجنابة،‏‏‏‏ ويوم الجمعة،‏‏‏‏ ومن الحجامة،‏‏‏‏ ومن غسل الميت
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 98 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 98
فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث میں جن چار چیزوں سے غسل کرنے کا ذکر ہے ان میں سے غسل جنابت بالاتفاق فرض ہے۔
➋ جمعے کے روز غسل جمہور صحابہ و تابعین اور اکثر ائمہ کے نزدیک مسنون ہے، البتہ امام احمد اور امام مالک رحمہما اللہ کا ایک قول یہ ہے کہ فرض ہے۔ امام داود ظاہری اور ابن خزیمہ رحمہما اللہ کا بھی یہی موقف ہے، اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا بھی زاد المعاد میں اسی طرف رحجان ہے۔
➌ سینگی لگوانے سے غسل مسنون ہے، فرض نہیں۔ پیچھے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ آپ نے سینگی لگوائی اور وضو کیے بغیر نماز پڑھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سینگی لگوانے کے بعد کبھی غسل کیا اور کبھی وضو بھی نہیں کیا۔ رہا میت کو غسل دینے سے غسل تو اس کے بارے میں بھی بیان گزر چکا ہے کہ یہ مستحب ہے، فرض نہیں۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 98]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 348
جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: (ا) جنابت کی وجہ سے، (۲) جمعہ کے دن (۳) پچھنے لگانے سے، (۴) اور میت کو نہلانے سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 348]
348۔ اردو حاشیہ:
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ «ليس بذاك» یعنی غیر معیاری ہے۔ امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی رحمۃ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ غسل میت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔ [منذري]
مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  نے التلخیص الحبیر میں کہا ہے کہ کثرت طرق کی بنا پر یہ درجہ حسن سے کم نہیں اور جمہور اس کے استحباب کے قائل ہیں۔ [الروضة النديه]
اور ظاہر ہے کہ غسل جنابت واجب ہے۔ جمعہ کا غسل واجب یا بہت زیادہ مؤکد ہے۔ سینگی اور میت کو غسل دینے سے غسل بطور نظافت مستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 348]