بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب المساجد
مساجد کا بیان
حدیث نمبر: 195
عن عائشة رضي الله عنها قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ببناء المساجد في الدور، وأن تنظف وتطيب. رواه أحمد وأبو داود والترمذي، وصحح إرساله.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں جائے نماز متعین کرنے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 195]
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، حديث:455، والترمذي، الجمعة، حديث:594، 595، وأحمد:5 /17، 371، 6 /269.»
حدیث نمبر: 196
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «قاتل الله اليهود اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد» . متفق عليه، وزاد مسلم: «والنصارى» .ولهما من حديث عائشة رضي الله عنها: «كانوا إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا» . وفيه: «أولئك شرار الخلق» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت و برباد کرے انہوں نے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ “
اسے بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نصاریٰ کے لفظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ” جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے۔ “ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ” یہ بدترین مخلوق ہیں۔ “ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 196]
اسے بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نصاریٰ کے لفظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ” جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے۔ “ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ” یہ بدترین مخلوق ہیں۔ “ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب (55)، حديث:437، ومسلم، المساجد، باب النهي عن بناء المساجد علي القبور...، حديث: 530، وحديث عائشة أخرجه البخاري، الصلاة، حديث:427، ومسلم، المساجد، حديث:528.»
حدیث نمبر: 197
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بعث النبي صلى الله عليه وآله وسلم خيلا فجاءت برجل، فربطوه بسارية من سواري المسجد. الحديث. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سا دستہ کسی طرف روانہ کیا۔ یہ لوگ ایک (مشرک) مرد کو (گرفتار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) لائے اور اس کو مسجد (نبوی) کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا (قید کر دیا)۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب الاغتسال إذا أسلم، وربط الأسير...، حديث:462، ومسلم، الجهاد والسير، باب ربط الأسير وحبسه وجواز المن عليه، حديث:1764.»
حدیث نمبر: 198
وعنه أن عمر رضي الله عنه مر بحسان ينشد في المسجد، فلحظ إليه، فقال: قد كنت أنشد فيه، وفيه من هو خير منك. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف گھور کر دیکھا (اس پر) سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا (گھورتے کیوں ہیں؟) میں تو اس وقت مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا جب مسجد میں وہ ذات گرامی موجود ہوتی تھی جو آپ سے افضل تھی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، بدء الخلق، باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم، حديث:3212، ومسلم، فضائل الصحابة، باب فضائل حسان بن ثابت، حديث:2485.»
حدیث نمبر: 199
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك، فإن المساجد لم تبن لهذا» . رواه مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ جو کوئی یہ سنے کہ کوئی آدمی مسجد میں اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا ہے تو سننے والا اسے یہ کہے کہ اللہ کرے وہ چیز تمہیں واپس نہ ملے۔ مسجدیں اس مقصد کے لئے تو نہیں بنائی گئی ہیں۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب النهي عن نشد الضالة في المسجد...، حديث:568.»
حدیث نمبر: 200
وعنه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد؛ فقولوا له: لا أربح الله تجارتك» . رواه النسائي والترمذي وحسنه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاروبار و تجارت میں نفع نہ دے۔ “
اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، البيوع، باب النهي عن البيع في المسجد، حديث:1321، والنسائي في الكبرٰي: 6 /52، حديث:10004، وعمل اليوم والليلة، حديث:1760، وأصله في صحيح مسلم، المساجد، حديث:568.»
حدیث نمبر: 201
وعن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تقام الحدود في المساجد، ولا يستقاد فيها» . رواه أحمد وأبو داود بسند ضعيف.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص (خون کا بدلہ) لیا جائے۔“ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الحدود، باب في إقامة الحد في المسجد، حديث:4490، وأحمد:3 /434، وللحديث شواهد ضعيفة عند ابن ماجه، الحدود، حديث:2599 وغيره.»
حدیث نمبر: 202
وعن عائشة قالت: أصيب سعد يوم الخندق فضرب عليه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ” غزوہ خندق کے روز سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے مسجد میں خیمہ لگوایا تھا، تاکہ قریب سے ان کی تیمارداری (بآسانی) کر سکیں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب الخيمة في المسجد للمرضيٰ وغيرهم، حديث: 463، ومسلم، الجهاد والسير، باب جواز قتال من نقض العهد، حديث:1769.»
حدیث نمبر: 203
وعنها قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة يلعبون في المسجد... الحديث. متفق عليه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے پردہ بنے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کے کھیل کو دیکھ رہی تھی جو وہ مسجد میں کھیل رہے تھے۔“ یہ طویل حدیث کا جز ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «أجرجه البخاري، الصلاة، باب أصحاب الحراب في المسجد، حديث:454، ومسلم، صلاة العيدين، باب الرخصة في اللعب، حديث:892.»
حدیث نمبر: 204
وعنها: أن وليدة سوداء كان لها خباء في المسجد فكانت تأتيني فتحدث عندي.. الحديث. متفق عليه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ” ایک سیاہ رنگ لڑکی کا خیمہ مسجد میں تھا وہ میرے پاس باتیں کرنے کے لئے آیا کرتی تھی۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب نوم المرأة في المسجد، حديث:439، ومسلم: لم أجده بسند البخاري.»