🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب المساجد
مساجد کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 195
عن عائشة رضي الله عنها قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ببناء المساجد في الدور،‏‏‏‏ وأن تنظف وتطيب. رواه أحمد وأبو داود والترمذي،‏‏‏‏ وصحح إرساله.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں جائے نماز متعین کرنے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسے احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 195]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أَمَرَ» حکم دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِبِنَاءِ» بنانے کا – «الْمَسَاجِدِ» مسجدوں کو – «فِي الدُّورِ» محلوں میں – «وَأَنْ تُنَظَّفَ» اور یہ کہ انہیں صاف رکھا جائے – «وَتُطَيَّبَ» اور خوشبو دار رکھا جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَ» اور (ترمذی نے) صحیح قرار دیا – «إِرْسَالَهُ» اس کے مرسل ہونے کو۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا اور خوشبو دار رکھنے کا حکم دیا۔ اسے احمد، ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 195]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب اتخاذ المساجد في الدور، حديث:455، والترمذي، الجمعة، حديث:594، 595، وأحمد:5 /17، 371، 6 /269.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 196
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏قاتل الله اليهود اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد» .‏‏‏‏ متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد مسلم: «‏‏‏‏والنصارى» .‏‏‏‏ولهما من حديث عائشة رضي الله عنها: «‏‏‏‏كانوا إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا» .‏‏‏‏ وفيه: «‏‏‏‏أولئك شرار الخلق» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت و برباد کرے انہوں نے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ “
اسے بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نصاریٰ کے لفظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ” جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے۔ “ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ” یہ بدترین مخلوق ہیں۔ “ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 196]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَاتَلَ اللَّهُ» اللہ ہلاک کرے – «الْيَهُودَ» یہودیوں کو – «اتَّخَذُوا» انہوں نے بنا لیا – «قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ» اپنے انبیاء کی قبروں کو – «مَسَاجِدَ» سجدہ گاہیں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے: – «وَالنَّصَارَى» اور عیسائیوں کو۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ» عائشہ کی حدیث سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو: – «كَانُوا» وہ (ایسے) تھے کہ – «إِذَا مَاتَ» جب فوت ہو جاتا – «فِيهِمُ» ان میں – «الرَّجُلُ الصَّالِحُ» کوئی نیک آدمی – «بَنَوْا» تو وہ بنا لیتے – «عَلَى قَبْرِهِ» اس کی قبر پر – «مَسْجِدًا» مسجد۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «أُولَئِكَ» وہ لوگ – «شِرَارُ الْخَلْقِ» مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہودیوں کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور مسلم نے ”اور عیسائیوں کو“ کا اضافہ کیا ہے۔ اور بخاری و مسلم دونوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہے: ”ان کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے۔“ اور اس میں ہے: ”یہ لوگ مخلوق میں سب سے بدترین ہیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 196]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب (55)، حديث:437، ومسلم، المساجد، باب النهي عن بناء المساجد علي القبور...، حديث: 530، وحديث عائشة أخرجه البخاري، الصلاة، حديث:427، ومسلم، المساجد، حديث:528.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 197
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: بعث النبي صلى الله عليه وآله وسلم خيلا فجاءت برجل،‏‏‏‏ فربطوه بسارية من سواري المسجد. الحديث. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سا دستہ کسی طرف روانہ کیا۔ یہ لوگ ایک (مشرک) مرد کو (گرفتار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) لائے اور اس کو مسجد (نبوی) کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا (قید کر دیا)۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 197]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «بَعَثَ» بھیجا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَيْلًا» کچھ سوار دستہ – «فَجَاءَتْ» تو وہ لے آئے – «بِرَجُلٍ» ایک آدمی کو – «فَرَبَطُوهُ» تو انہوں نے اسے باندھ دیا – «بِسَارِيَةٍ» ایک ستون سے – «مِنْ سَوَارِي» ستونوں میں سے – «الْمَسْجِدِ» مسجد کے۔ – «الْحَدِيثَ» (آگے) پوری حدیث۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ سوار (نجد کی طرف) بھیجے، وہ ایک آدمی (ثمامہ بن اثال) کو پکڑ لائے اور انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ (آگے) پوری حدیث ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب الاغتسال إذا أسلم، وربط الأسير...، حديث:462، ومسلم، الجهاد والسير، باب ربط الأسير وحبسه وجواز المن عليه، حديث:1764.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 198
وعنه أن عمر رضي الله عنه مر بحسان ينشد في المسجد،‏‏‏‏ فلحظ إليه،‏‏‏‏ فقال: قد كنت أنشد فيه،‏‏‏‏ وفيه من هو خير منك. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف گھور کر دیکھا (اس پر) سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا (گھورتے کیوں ہیں؟) میں تو اس وقت مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا جب مسجد میں وہ ذات گرامی موجود ہوتی تھی جو آپ سے افضل تھی (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 198]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ عُمَرَ» کہ عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مَرَّ» گزرے – «بِحَسَّانَ» حسان کے پاس سے – «يُنْشِدُ» (جبکہ وہ) شعر پڑھ رہے تھے – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «فَلَحَظَ إِلَيْهِ» تو (عمر نے) ان کی طرف (ناگواری سے) دیکھا – «فَقَالَ» تو (حسان نے) کہا: – «قَدْ كُنْتُ» یقیناً میں – «أُنْشِدُ فِيهِ» اس میں شعر پڑھا کرتا تھا – «وَفِيهِ» درحالیکہ اس میں – «مَنْ هُوَ» وہ ہستی ہوتی تھی جو – «خَيْرٌ مِنْكَ» تم سے بہتر ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا حسان (بن ثابت) رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، تو سیدنا عمر نے ان کی طرف (ناگواری سے) دیکھا، اس پر انہوں نے کہا: میں اس (مسجد) میں اس وقت بھی شعر پڑھا کرتا تھا جب اس میں وہ ہستی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہوتی تھی جو آپ سے بہتر ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، بدء الخلق، باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم، حديث:3212، ومسلم، فضائل الصحابة، باب فضائل حسان بن ثابت، حديث:2485.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
وعنه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل: لا ردها الله عليك،‏‏‏‏ فإن المساجد لم تبن لهذا» . رواه مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ جو کوئی یہ سنے کہ کوئی آدمی مسجد میں اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا ہے تو سننے والا اسے یہ کہے کہ اللہ کرے وہ چیز تمہیں واپس نہ ملے۔ مسجدیں اس مقصد کے لئے تو نہیں بنائی گئی ہیں۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ سَمِعَ» جو سنے – «رَجُلًا» کسی آدمی کو – «يَنْشُدُ» ڈھونڈتے ہوئے (اعلان کرتے ہوئے) – «ضَالَّةً» کوئی گمشدہ چیز – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «فَلْيَقُلْ» تو وہ کہے: – «لَا رَدَّهَا اللَّهُ» اللہ اسے نہ لوٹائے – «عَلَيْكَ» تجھ پر – «فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ» کیونکہ مسجدیں – «لَمْ تُبْنَ» نہیں بنائی گئیں – «لِهَذَا» اس کام کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو وہ کہے: اللہ اسے تجھے واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب النهي عن نشد الضالة في المسجد...، حديث:568.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
وعنه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد؛ فقولوا له: لا أربح الله تجارتك» .‏‏‏‏ رواه النسائي والترمذي وحسنه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاروبار و تجارت میں نفع نہ دے۔ “
اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا رَأَيْتُمْ» جب تم دیکھو – «مَنْ يَبِيعُ» جو بیچ رہا ہو – «أَوْ يَبْتَاعُ» یا خرید رہا ہو – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «فَقُولُوا لَهُ» تو اس سے کہو: – «لَا أَرْبَحَ اللَّهُ» اللہ نفع نہ دے – «تِجَارَتَكَ» تیری تجارت کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَحَسَّنَهُ» اور (ترمذی نے) اسے حسن قرار دیا۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو اس سے کہو: اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے۔“ اسے نسائی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، البيوع، باب النهي عن البيع في المسجد، حديث:1321، والنسائي في الكبرٰي: 6 /52، حديث:10004، وعمل اليوم والليلة، حديث:1760، وأصله في صحيح مسلم، المساجد، حديث:568.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
وعن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تقام الحدود في المساجد،‏‏‏‏ ولا يستقاد فيها» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود بسند ضعيف.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص (خون کا بدلہ) لیا جائے۔“ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 201]
«وَعَنْ» اور سے – «حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ» حکیم بن حزام – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تُقَامُ» قائم نہ کی جائیں – «الْحُدُودُ» حدیں (شرعی سزائیں) – «فِي الْمَسَاجِدِ» مسجدوں میں – «وَلَا يُسْتَقَادُ» اور نہ قصاص لیا جائے – «فِيهَا» ان میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسجدوں میں حدیں قائم نہ کی جائیں اور نہ ان میں قصاص لیا جائے۔“ اسے احمد اور ابو داود نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الحدود، باب في إقامة الحد في المسجد، حديث:4490، وأحمد:3 /434، وللحديث شواهد ضعيفة عند ابن ماجه، الحدود، حديث:2599 وغيره.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
وعن عائشة قالت: أصيب سعد يوم الخندق فضرب عليه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ” غزوہ خندق کے روز سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے مسجد میں خیمہ لگوایا تھا، تاکہ قریب سے ان کی تیمارداری (بآسانی) کر سکیں۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «أُصِيبَ» زخمی ہو گئے – «سَعْدٌ» سعد – «يَوْمَ الْخَنْدَقِ» خندق کے دن – «فَضَرَبَ عَلَيْهِ» تو ان پر لگایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «خَيْمَةً» ایک خیمہ – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «لِيَعُودَهُ» تاکہ ان کی عیادت کریں – «مِنْ قَرِيبٍ» قریب سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ خندق کے دن سیدنا سعد (بن معاذ) رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگوا دیا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب الخيمة في المسجد للمرضيٰ وغيرهم، حديث: 463، ومسلم، الجهاد والسير، باب جواز قتال من نقض العهد، حديث:1769.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
وعنها قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة يلعبون في المسجد... الحديث. متفق عليه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے پردہ بنے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کے کھیل کو دیکھ رہی تھی جو وہ مسجد میں کھیل رہے تھے۔“ یہ طویل حدیث کا جز ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «رَأَيْتُ» میں نے دیکھا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْتُرُنِي» (کہ آپ) مجھے پردے میں لیے ہوئے تھے – «وَأَنَا أَنْظُرُ» درحالیکہ میں دیکھ رہی تھی – «إِلَى الْحَبَشَةِ» حبشیوں کی طرف – «يَلْعَبُونَ» (جو) کھیل رہے تھے – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «الْحَدِيثَ» (آگے) پوری حدیث۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے (اپنی چادر سے) پردہ کیے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں (جنگی کرتب کا) کھیل کھیل رہے تھے۔۔۔ (آگے) پوری حدیث ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: «أجرجه البخاري، الصلاة، باب أصحاب الحراب في المسجد، حديث:454، ومسلم، صلاة العيدين، باب الرخصة في اللعب، حديث:892.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
وعنها: أن وليدة سوداء كان لها خباء في المسجد فكانت تأتيني فتحدث عندي.. الحديث. متفق عليه
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ ” ایک سیاہ رنگ لڑکی کا خیمہ مسجد میں تھا وہ میرے پاس باتیں کرنے کے لئے آیا کرتی تھی۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 204]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «أَنَّ» کہ – «وَلِيدَةً» ایک لونڈی – «سَوْدَاءَ» کالی – «كَانَ لَهَا» اس کا تھا – «خِبَاءٌ» ایک خیمہ – «فِي الْمَسْجِدِ» مسجد میں – «فَكَانَتْ تَأْتِينِي» تو وہ میرے پاس آیا کرتی تھی – «فَتَحَدَّثُ» پھر باتیں کرتی – «عِنْدِي» میرے پاس – «الْحَدِيثَ» (آگے) پوری حدیث۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی تھی جس کا مسجد میں ایک خیمہ تھا، وہ میرے پاس آیا کرتی اور میرے پاس بیٹھ کر باتیں کیا کرتی تھی۔۔۔ (آگے) پوری حدیث ہے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب نوم المرأة في المسجد، حديث:439، ومسلم: لم أجده بسند البخاري.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں