🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب صلاة الجماعة والإمامة
نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 324
وعن عائشة رضي الله عنها في قصة صلاة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالناس وهو مريض قالت: فجاء حتى جلس عن يسار أبي بكر فكان يصلي بالناس جالسا وأبو بكر قائما يقتدي أبو بكر بصلاة النبي صلى الله عليه وآله وسلم ويقتدي الناس بصلاة أبي بكر. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے ضمن میں فرماتی ہیں جو انہوں نے لوگوں کو اس حالت میں پڑھائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بائیں جانب بیٹھ گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھے بیٹھے نماز پڑھا رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الرجل يأتم با لإمام، حديث:713، ومسلم، الصلاة، باب استخلاف الإمام إذا عرض له عذرٌ....، حديث:418.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا أم أحدكم الناس فليخفف فإن فيهم الصغير والكبير والضعيف وذا الحاجة فإذا صلى وحده فليصل كيف شاء» . متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کے فرائض انجام دے تو اسے قرآت میں تخفیف کرنی چاہیئے۔ اس لئے کہ مقتدیوں میں بچے، بوڑھے، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں جب تنہا نماز پڑھے تو پھر جس طرح چاہے پڑھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا صلي لنفسه فليطول ما شاء، حديث:703، واللفظ مركب، ومسلم، الصلاة، باب أمر الأئمة بتخفيف الصلاة في تمام، حديث:467.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
وعن عمرو بن سلمة رضي الله عنه قال: قال أبي: جئتكم والله من عند النبي صلى الله عليه وآله وسلم حقا فقال: «‏‏‏‏فإذا حضرت الصلاة فليؤذن أحدكم وليؤمكم أكثركم قرآنا» . قال: فنظروا فلم يكن أحد أكثر قرآنا مني،‏‏‏‏ فقدموني بين أيديهم،‏‏‏‏ وأنا ابن ست أو سبع سنين. رواه البخاري وأبو داود والنسائي.
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے والد نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے حق لے کر آ رہا ہوں ان کا ارشاد گرامی ہے کہ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان کہے اور امامت ایسا شخص کرائے جو قرآن حمید کا زیادہ عالم ہو۔ عمرو نے کہا میری قوم نے دیکھا میرے سوا کوئی دوسرا قرآن کا عالم نہیں ہے تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا۔ اس وقت میری عمر چھ سات برس کی تھی۔ (بخاری، ابوداؤد، نسائی) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المغازي، باب (54)، حديث:4302، وأخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:585-587، والنسائي، الأذان، حديث:637.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 327
وعن أبن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله تعالى فإن كانوا في القراءة سواء فأعلمهم بالسنة فإن كانوا في السنة سواء فأقدمهم هجرة فإن كانوا في الهجرة سواء فأقدمهم سلما- وفي رواية: «‏‏‏‏سنا» ‏‏‏‏- ولا يؤمن الرجل الرجل في سلطانه ولا يقعد في بيته على تكرمته إلا بإذنه» . رواه مسلم.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کا امام ایسا آدمی ہو جسے قرآن حمید کا علم زیادہ ہو۔ اگر اس وصف میں لوگ مساوی ہوں پھر وہ امام بنے جسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم زیادہ ہو اور اگر سنت کے علم میں بھی لوگ مساوی ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے ہجرت پہلے کی۔ اگر اس وصف میں سب برابر ہوں تو پھر وہ امام بنے جس نے پہلے اسلام قبول کیا ہو اور ایک روایت میں «سلما» (اسلام) کی بجائے «سنا» (عمر) کا لفظ بھی ہے (یعنی اگر مذکورہ بالا اوصاف میں سبھی برابر ہوں تو پھر ان میں جس کی عمر زیادہ ہو اسے امام بنایا جائے) کوئی آدمی کسی آدمی کے دائرہ اقتدار میں امامت نہ کرائے اور نہ گھر میں اس کی مخصوص نشست (بستر) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساجد، باب من أحق بالإمامة، حديث:673.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 328
ولابن ماجه من حديث جابر رضي الله عنه: «‏‏‏‏ولا تؤمن امرأة رجلا ولا أعرابي مهاجرا ولا فاجر مؤمنا» . وإسناده واه.
ابن ماجہ میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کوئی عورت کسی مرد کی امام نہ بنے اور نہ کوئی بدوی دیہاتی کسی مہاجر کی امامت کرائے اور نہ کوئی فاجر کسی مومن کا امام بنے۔ اس روایت کی سند «واه» ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، إقامة الصلوات، باب في فرض الجمعة، حديث:1081.* العدوي متروك، رماه وكيع بالوضع، والواليد لين الحديث، وعلي بن زيد ضعيف.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 329
وعن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالأعناق» ‏‏‏‏ رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے اپنی صفوں کو مضبوطی سے ملاؤ اور ان کے درمیان فاصلہ کم رکھو اور اپنی گردنوں کو ایک محاذ پر رکھو (برابر برابر رکھو)۔
اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب تسوية الصفوف، حديث:667، والنسائي، الإمامة، حديث:815، وابن حبان (الإحسان): 3 /298، حديث:2163، وابن خزيمة، حديث:1545.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 330
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏خير صفوف الرجال أولها وشرها آخرها وخير صفوف النساء آخرها وشرها أولها» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی بہترین اور سب سے زیادہ خیر و بھلائی والی صف، ان کی پہلی صف ہے اور بدترین اور بری صف ان کی آخری صف ہے اور خواتین کی بہترین اور خیر و بھلائی ان کی آخری صف ہے اور بدترین اور بری صف ان کی پہلی صف ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب بسوية الصفوف، حديث:440.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 331
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ذات ليلة فقمت عن يساره فأخذ رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم برأسي من ورائي فجعلني عن يمينه. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 331]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا قام الرجل عن يسار الإمام، حديث:698، ومسلم، صلاة المسافرين، باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه، حديث:763.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 332
وعن أنس رضي الله عنه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقمت ويتيم خلفه وأم سليم خلفنا. متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ میں اور یتیم دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے (تنہا) نماز ادا کی۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب المرأة وحدها تكون صفًّا، حديث:727، ومسلم، المساجد، باب جواز الجماعة في النافلة، حديث:658.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
وعن أبي بكرة رضي الله عنه انتهى إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم وهو راكع فركع قبل أن يصل إلى الصف فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏زادك الله حرصا ولا تعد» .‏‏‏‏ رواه البخاري زاد أبو داود فيه: فركع دون الصف ثم مشى إلى الصف.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عین اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرما رہے تھے۔ پس انھوں نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تیری حرص و طمع میں اضافہ فرمائے! آئندہ ایسا مت کرنا۔ (بخاری)
ابوداؤد نے اتنا اضافہ کیا نقل کیا ہے کہ انھوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کیا اور رکوع کی حالت میں ہی چل کر صف میں شامل ہو گئے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب إذا ركع دون الصف، حديث:783، وأبوداود، الصلاة، حديث:683، 684 والحديث لا يدل علي إدراك الركعة بإ دراك الركوع كما حققه الإمام البخاري في جزء القراءة خلف الإمام.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں