🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب الصلح
صلح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
عن عمرو بن عوف المزني رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما» .‏‏‏‏ رواه الترمذي وصححه وأنكروا عليه لأنه من رواية كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف وهو ضعيف وكأنه اعتبره بكثرة طرقه. وقد صححه ابن حبان من حديث أبي هريرة رضي الله عنه.
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر ایسی صلح جائز اور درست نہیں جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر دے۔ مسلمان اپنی شرائط پر قائم ہیں (ان کی تمام شرائط ٹھیک ہیں) مگر بجز اس شرط کے جس سے کوئی حلال چیز حرام ہو جائے یا حرام چیز حلال ہو جائے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے اور دوسرے محدثین نے ان پر انکار کیا ہے کیونکہ اس کا ایک راوی کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف ضعیف ہے۔ ایسا محسوس و معلوم ہوتا ہے کہ ترمذی نے کثرت طرق کی وجہ سے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 735]
«عَنْ» سے – «عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ» عمرو بن عوف مزنی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «الصُّلْحُ» صلح – «جَائِزٌ» جائز ہے – «بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں کے درمیان – «إِلَّا صُلْحًا» سوائے اس صلح کے – «حَرَّمَ حَلَالًا» جو کسی حلال کو حرام کر دے – «أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» یا کسی حرام کو حلال کر دے – «وَالْمُسْلِمُونَ» اور مسلمان – «عَلَى شُرُوطِهِمْ» اپنی شرطوں پر (قائم) ہیں – «إِلَّا شَرْطًا» سوائے اس شرط کے – «حَرَّمَ حَلَالًا» جو حلال کو حرام کر دے – «أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» یا حرام کو حلال کر دے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «وَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ» اور (علماء نے) ان پر اعتراض کیا – «لِأَنَّهُ» کیونکہ یہ – «مِنْ رِوَايَةِ» روایت سے ہے – «كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ» کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی – «وَهُوَ ضَعِيفٌ» اور وہ ضعیف ہے – «وَكَأَنَّهُ» اور گویا انہوں نے – «اعْتَبَرَهُ» اس کا اعتبار کیا – «بِكَثْرَةِ طُرُقِهِ» اس کی سندوں کی کثرت کی وجہ سے۔ – «وَقَدْ صَحَّحَهُ» اور یقیناً اسے صحیح کہا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ کی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو۔
سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے، سوائے اس صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے، اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں، سوائے اس شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال کر دے۔“ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے، اور (محدثین نے) اس پر ان کا انکار کیا ہے کیونکہ یہ کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف کی روایت سے ہے اور وہ ضعیف ہے، اور گویا انہوں نے اس کی کثرتِ طرق کی بنا پر اس کا اعتبار کیا ہے۔ اور ابن حبان نے اسے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، الأحكام، باب ما ذكر عن رسول الله صلي الله عليه وسلم في الصلح بين الناس، حديث:1352، وسنده ضعيف جدًا ولكن له شواهد كثيرة عند أبي داود وابن حبان وغيرهما.* حديث أبي هريرة أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:1199، وأبوداود، القضاء، حديث:3594، [وسنده حسن] .»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبة في جداره» ‏‏‏‏ ثم يقول أبو هريرة: ما لي أراكم عنها معرضين؟ والله لأرمين بها بين أكتافكم. متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی ہمسایہ اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار پر لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خود کہا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس پر عمل پیرا ہونے سے گریز کرتے دیکھ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے کندھوں پر ماروں گا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 736]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «لَا يَمْنَعْ» نہ روکے – «جَارٌ» کوئی پڑوسی – «جَارَهُ» اپنے پڑوسی کو – «أَنْ يَغْرِزَ» کہ وہ گاڑے – «خَشَبَةً» لکڑی (شہتیر) – «فِي جِدَارِهِ» اس کی دیوار میں۔ – «ثُمَّ يَقُولُ» پھر کہتے تھے – «أَبُو هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ: – «مَا لِي أَرَاكُمْ» کیا بات ہے میں تمہیں دیکھتا ہوں – «عَنْهَا» اس (سنت) سے – «مُعْرِضِينَ» منہ پھیرنے والے؟ – «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم! – «لَأَرْمِيَنَّ بِهَا» میں اسے ضرور پھینکوں گا (بیان کرتا رہوں گا) – «بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ» تمہارے کندھوں کے درمیان۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (شہتیر) گاڑنے سے نہ روکے۔“ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس (سنت) سے منہ پھیرتے دیکھتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور پھینکوں گا (یعنی تمہیں بار بار سناتا رہوں گا)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المظالم، باب لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبة في جداره، حديث:2463، ومسلم، المساقاة، باب غرر الخشبة في جدار الجار، حديث:1609.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 737
وعن أبي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يحل لامرىء أن يأخذ عصا أخيه بغير طيبة نفس منه» .‏‏‏‏ رواه ابن حبان والحاكم في صحيحيهما.
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کا عصا (لاٹھی) بھی اس کی خوشنودی و رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 737]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ» ابو حمید ساعدی – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَحِلُّ» حلال نہیں – «لِامْرِئٍ» کسی آدمی کے لیے – «أَنْ يَأْخُذَ» کہ وہ لے – «عَصَا أَخِيهِ» اپنے بھائی کی لاٹھی – «بِغَيْرِ طِيبَةِ نَفْسٍ» دل کی خوشی کے بغیر – «مِنْهُ» اس کی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «فِي صَحِيحَيْهِمَا» اپنی اپنی صحیح میں۔
اور سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی بھی اس کی دلی رضامندی کے بغیر لے۔“ اسے ابن حبان اور حاکم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان (الإحسان):7 /587، حديث:5946 (الموارد)، حديث:1166، والحاكم:3 /637، وللحديث شواهد.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں