🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب الحوالة والضمان
ضمانت اور کفالت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 738
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏مطل الغني ظلم وإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية لأحمد: «‏‏‏‏ومن أحيل فليحتل» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی مالدار کا حوالہ دیا جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیئے۔“ (بخاری و مسلم) اور احمد کی ایک روایت میں «فليحتل» (حوالہ قبول کر لے) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 738]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَطْلُ الْغَنِيِّ» مالدار کا ٹال مٹول کرنا – «ظُلْمٌ» ظلم ہے – «وَإِذَا أُتْبِعَ» اور جب پیچھے لگایا جائے (حوالہ کیا جائے) – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کسی کو – «عَلَى مَلِيءٍ» کسی مالدار پر – «فَلْيَتْبَعْ» تو وہ پیچھے لگ جائے (حوالہ قبول کر لے)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِأَحْمَدَ» احمد کی – «وَمَنْ أُحِيلَ» اور جس کا حوالہ کیا جائے – «فَلْيَحْتَلْ» تو وہ حوالہ قبول کر لے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کا (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے، اور جب تم میں سے کسی (کے قرض) کو کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو وہ اس حوالے کو قبول کر لے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور احمد کی ایک روایت میں ہے: ”اور جس کا (قرض کسی پر) حوالہ کیا جائے تو وہ حوالہ قبول کر لے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحوالات، باب الحوالة وهل يرجع في الحوالة، حديث:2287، ومسلم، المساقاة، باب تحريم مطل الغني، حديث:1564، وأحمد:2 /463.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 739
وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال: توفي رجل منا فغسلناه وحنطناه وكفناه ثم أتينا به رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقلنا: تصلي عليه؟ فخطى خطا ثم قال:«‏‏‏‏أعليه دين؟» ‏‏‏‏ قلنا: ديناران فانصرف فتحملهما أبو قتادة فأتيناه فقال أبو قتادة: الديناران علي فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏حق الغريم وبرىء منهما الميت؟» ‏‏‏‏ قال: نعم،‏‏‏‏ فصلى عليه. رواه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه ابن حبان والحاكم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا، خوشبو لگائی اور کفن پہنایا۔ پھر ہم اسے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قدم آگے بڑھنے کیلئے اٹھائے اور دریافت فرمایا کہ ”کیا اس کے ذمہ قرض ہے؟“ ہم نے عرض کیا دو دینار تھے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے دو دینار کی ادائیگی اپنے ذمہ لے لی۔ پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا دو دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مقروض کی طرح لازم و حق ہو گیا اور میت اس سے بری الذمہ ہو گئی۔“ اس نے کہا کہ ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسے احمد، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 739]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «تُوُفِّيَ» فوت ہو گیا – «رَجُلٌ مِنَّا» ہم میں سے ایک آدمی – «فَغَسَّلْنَاهُ» تو ہم نے اسے غسل دیا – «وَحَنَّطْنَاهُ» اور اسے خوشبو (حنوط) لگائی – «وَكَفَّنَّاهُ» اور اسے کفن دیا – «ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ» پھر ہم اسے لے کر آئے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقُلْنَا» تو ہم نے کہا: – «تُصَلِّي عَلَيْهِ» کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟ – «فَخَطَا خُطًا» تو آپ چند قدم چلے – «ثُمَّ قَالَ» پھر فرمایا: – «أَعَلَيْهِ دَيْنٌ» کیا اس پر قرض ہے؟ – «قُلْنَا» ہم نے کہا: – «دِينَارَانِ» دو دینار – «فَانْصَرَفَ» تو آپ لوٹ گئے – «فَتَحَمَّلَهُمَا» تو ان دونوں کا ذمہ اٹھا لیا – «أَبُو قَتَادَةَ» ابو قتادہ نے – «فَأَتَيْنَاهُ» پھر ہم آپ کے پاس آئے – «فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ» تو ابو قتادہ نے کہا: – «الدِّينَارَانِ عَلَيَّ» دونوں دینار میرے ذمے ہیں – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حُقَّ الْغَرِيمُ» قرض خواہ کا حق (تم پر) ثابت ہو گیا – «وَبَرِئَ مِنْهُمَا» اور ان دونوں سے بری ہو گیا – «الْمَيِّتُ» میت؟ – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «نَعَمْ» ہاں – «فَصَلَّى عَلَيْهِ» تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا، حنوط (خوشبو) لگائی اور کفن دیا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لائے اور عرض کیا: کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے؟ آپ چند قدم آگے بڑھے، پھر فرمایا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ ہم نے عرض کیا: دو دینار۔ تو آپ واپس پلٹ گئے۔ پھر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کا ذمہ لے لیا۔ ہم آپ کے پاس آئے تو سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دونوں دینار میرے ذمے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قرض خواہ کا حق (تم پر) لازم ہو گیا اور میت ان دونوں سے بری ہو گئی؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اسے احمد، ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 739]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في التشديد في الدين، حديث:3343، والنسائي، الجنائز، حديث:1964، وأحمد:3 /330، 5 /297، 304، وابن حبان (الإحسان):5 /25،26، حديث:3048.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 740
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يؤتى بالرجل المتوفى عليه الدين فيسأل: «‏‏‏‏هل ترك لدينه من قضاء؟» ‏‏‏‏ فإن حدث أنه ترك وفاء صلى عليه وإلا قال: «‏‏‏‏صلوا على صاحبكم» ‏‏‏‏ فلما فتح الله عليه الفتوح قال:«‏‏‏‏أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن توفي وعليه دين فعلي قضاؤه» .‏‏‏‏ متفق عليه. وفي رواية للبخاري: «‏‏‏‏فمن مات ولم يترك وفاء» .‏‏‏‏
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقروض آدمیوں کے جنازے لائے جاتے تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے تھے کہ ”کیا اس نے قرضہ کی ادائیگی کیلئے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر بتایا جاتا کہ اس نے اپنا مال چھوڑا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ فرما دیتے کہ ”جاؤ تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں مومنوں کو ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ لہٰذا اب جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرضہ کا بار ہو تو اس قرضہ کی ادائیگی میرے ذمہ ہے۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ”جو آدمی مر گیا اور اس نے اتنا ترکہ پیچھے نہیں چھوڑا جو قرضہ کی ادائیگی کیلئے کافی ہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 740]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ» کہ اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يُؤْتَى» لایا جاتا تھا (آپ کے پاس) – «بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى» فوت شدہ آدمی کو – «عَلَيْهِ الدَّيْنُ» جس پر قرض ہوتا – «فَيَسْأَلُ» تو آپ پوچھتے: – «هَلْ تَرَكَ» کیا اس نے چھوڑا ہے – «لِدَيْنِهِ» اپنے قرض کے لیے – «مِنْ قَضَاءٍ» کچھ ادائیگی (کا مال)؟ – «فَإِنْ حُدِّثَ» پھر اگر بتایا جاتا – «أَنَّهُ تَرَكَ» کہ اس نے چھوڑا ہے – «وَفَاءً» (ادائیگی کے) پورا مال – «صَلَّى عَلَيْهِ» آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے – «وَإِلَّا» ورنہ – «قَالَ» فرماتے: – «صَلُّوا» نماز پڑھو – «عَلَى صَاحِبِكُمْ» اپنے ساتھی پر۔ – «فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ» پھر جب اللہ نے کھول دیں – «عَلَيْهِ» آپ پر – «الْفُتُوحَ» فتوحات – «قَالَ» فرمایا: – «أَنَا أَوْلَى» میں زیادہ حق دار ہوں – «بِالْمُؤْمِنِينَ» مومنوں کا – «مِنْ أَنْفُسِهِمْ» ان کی اپنی جانوں سے – «فَمَنْ تُوُفِّيَ» پس جو فوت ہو جائے – «وَعَلَيْهِ دَيْنٌ» اور اس پر قرض ہو – «فَعَلَيَّ» تو مجھ پر ہے – «قَضَاؤُهُ» اس کی ادائیگی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کی – «فَمَنْ مَاتَ» پس جو مر جائے – «وَلَمْ يَتْرُكْ» اور نہ چھوڑے – «وَفَاءً» ادائیگی کا مال۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ آدمی لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر بتایا جاتا کہ اس نے ادائیگی کے لائق مال چھوڑا ہے تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، ورنہ فرماتے: ”اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ پر فتوحات کے دروازے کھول دیے تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں کا ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق دار ہوں، لہٰذا جو (مومن) فوت ہو جائے اور اس پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”پس جو مر جائے اور ادائیگی کا مال نہ چھوڑے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 740]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النفقات، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم من ترك كلًّا أو ضياعًا فإلي، حديث:5371، ومسلم، الفرائض، باب من ترك مالاً فلورثته، حديث:1619.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 741
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا كفالة في حد» .‏‏‏‏ رواه البيهقي بإسناد ضعيف
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کی حد میں ضمانت و ذمہ داری نہیں۔ ”اسے بیہقی نے کمزور سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 741]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» وہ اپنے دادا سے – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا كَفَالَةَ» کوئی کفالت (ضمانت) نہیں – «فِي حَدٍّ» حد میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبَيْهَقِيُّ» بیہقی نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حد میں کوئی کفالت (ضمانت) نہیں۔“ اسے بیہقی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 741]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي:6 /77، وقال: تفرد به بقية عن أبي محمد عمر بن أبي عمر الكلاعي وهو من مشايخ بقية المجهولين ورواياته منكرة.* أبو محمد عمر بن أبي عمر الكلاعي مجهول كما عرفت وبقية عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں