🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. باب إحياء الموات
بے آباد و بنجر زمین کو آباد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 776
عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من عمر أرضا ليست لأحد فهو أحق بها» ‏‏‏‏ رواه البخاري. قال عروة: وقضى به عمر في خلافته.
سیدنا عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے غیر آباد زمین کو آباد کیا، وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے۔“ عروہ نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اسی پر فیصلہ فرمایا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 776]
«عَنْ» سے – «عُرْوَةَ» عروہ – «عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ عَمَرَ» جس نے آباد کیا – «أَرْضًا» کسی زمین کو – «لَيْسَتْ لِأَحَدٍ» جو کسی کی ملکیت نہ ہو – «فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا» تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔ – «قَالَ عُرْوَةُ» عروہ نے کہا: – «وَقَضَى بِهِ» اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا – «عُمَرُ» عمر نے – «فِي خِلَافَتِهِ» اپنی خلافت میں۔
عروہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسی زمین آباد کی جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ عروہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحرث والمزارعة، باب من أحيا أرضًا مواتًا، حديث:2335.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 777
وعن سعيد بن زيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من أحيا أرضا ميتة فهي له» .‏‏‏‏ رواه الثلاثة وحسنه الترمذي وقال: روي مرسلا وهو كما قال. واختلف في صحابيه فقيل: جابر وقيل: عائشة وقيل: عبد الله بن عمر والراجح الأول.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس کسی نے بے آباد بیکار پڑی زمین کو زندہ کیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔“ اسے تینوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے حسن کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسے مرسل بھی روایت کیا گیا ہے اور وہ اسی طرح ہے جس طرح کہا ہے۔ اس حدیث کے صحابی میں اختلاف ہے۔ ایک قول ہے کہ وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ مگر راجح قول پہلا ہی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 777]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ» سعید بن زید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «مَنْ أَحْيَا» جس نے زندہ (آباد) کیا – «أَرْضًا مَيْتَةً» کسی مردہ (بنجر) زمین کو – «فَهِيَ لَهُ» تو وہ اسی کی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الثَّلَاثَةُ» تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی) نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَقَالَ» اور کہا: – «رُوِيَ مُرْسَلًا» یہ مرسل بھی روایت کی گئی ہے – «وَهُوَ كَمَا قَالَ» اور وہ ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے کہا۔ – «وَاخْتُلِفَ» اور اختلاف کیا گیا ہے – «فِي صَحَابِيِّهِ» اس کے صحابی (راوی) کے بارے میں – «فَقِيلَ» پس کہا گیا: – «جَابِرٌ» جابر – «وَقِيلَ» اور کہا گیا: – «عَائِشَةُ» عائشہ – «وَقِيلَ» اور کہا گیا: – «عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ» عبداللہ بن عمر – «وَالرَّاجِحُ» اور راجح – «الْأَوَّلُ» پہلا (قول) ہے۔
اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی بنجر (مردہ) زمین کو آباد کیا تو وہ اسی کی ہے۔“ اسے تینوں (ابو داود، ترمذی اور نسائی) نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور کہا ہے کہ یہ مرسل بھی روایت کی گئی ہے، اور بات ویسی ہی ہے جیسی انہوں نے کہی۔ اور اس کے صحابی راوی کے بارے میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہیں، اور کہا گیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، اور کہا گیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، اور راجح پہلا قول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب في إحياء الموات، حديث:3073، والترمذي، الأحكام، حديث:1378، والنسائي في الكبرٰي:3 /405، حديث:5761.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 778
وعن ابن عباس أن الصعب بن جثامة الليثي أخبره أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا حمى إلا لله ولرسوله» .‏‏‏‏ رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مصعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے لئے چراگاہ مخصوص کر لے۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 778]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «أَنَّ» کہ – «الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ» صعب بن جثامہ لیثی نے – «أَخْبَرَهُ» انہیں خبر دی – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا حِمَى» کوئی چراگاہ مخصوص نہیں – «إِلَّا لِلَّهِ» سوائے اللہ کے لیے – «وَلِرَسُولِهِ» اور اس کے رسول کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”(کسی چراگاہ کو) مخصوص (ممنوعہ) کرنا صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المساقاة، باب لا حمي إلا لله ولرسوله صلي الله عليه وسلم، حديث:2370.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 779
وعنه رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا ضرر ولا ضرار» . رواه أحمد وابن ماجه. وله من حديث أبي سعيد مثله وهو في الموطأ مرسل.
انہی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے بھائی کو ایسا ضرر پہنچانا کہ اس کے حق میں کمی واقع ہو جائے اور پہنچائی گئی اذیت و ضرر سے زیادہ ضرر و نقصان پہنچانا جائز نہیں۔“ اسے احمد، ابن ماجہ نے روایت کیا اور ابن ماجہ میں ابوسعید سے اسی طرح کی حدیث منقول ہے اور وہی حدیث موطا میں مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 779]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا ضَرَرَ» نہ نقصان اٹھانا ہے – «وَلَا ضِرَارَ» اور نہ نقصان پہنچانا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے۔ – «وَلَهُ» اور ان (ابن ماجہ) کے ہاں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» حدیث سے – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید کی – «مِثْلُهُ» اسی کی مثل – «وَهُوَ» اور وہ – «فِي الْمُوَطَّإِ» موطا میں – «مُرْسَلٌ» مرسل ہے۔
اور انہی (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ (ابتداءً) نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ (بدلے میں) نقصان پہنچانا۔“ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ کے ہاں سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی اسی طرح ہے، اور موطا میں یہ مرسل ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الأحكام، باب من بني في حقه ما يضر بجاره، حديث:2341، وأحمد:5 /327، وحديث أبي سعيد أخرجه الحاكم:2 /58، والبيهقي:6 /69، 70، ومرسل يحي المازني أخرجه مالك:2 /745.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 780
وعن سمرة بن جندب رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من أحاط حائطا على أرض فهي له» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وصححه ابن الجارود.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کسی نے غیر مملوکہ زمین کے اردگرد دیوار بنا لی، اتنی زمین اسی کی ملکیت ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن جارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 780]
«وَعَنْ» اور سے – «سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ» سمرہ بن جندب – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ أَحَاطَ» جس نے گھیر لیا – «حَائِطًا» دیوار سے – «عَلَى أَرْضٍ» کسی زمین کو – «فَهِيَ لَهُ» تو وہ اسی کی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ الْجَارُودِ» ابن جارود نے۔
اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (کسی غیر آباد) زمین کے گرد دیوار بنا لی تو وہ اسی کی ہے۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن جارود نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إحياء الموات، حديث:3077.* قتادة عنعن.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 781
وعن عبد الله بن مغفل أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏من حفر بئرا فله أربعون ذراعا عطنا لماشيته» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص کہیں کنواں کھودے تو وہاں مال مویشی باندھنے کیلئے چالیس ہاتھ زمین اس کی ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 781]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ» عبداللہ بن مغفل – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ حَفَرَ» جس نے کھودا – «بِئْرًا» کوئی کنواں – «فَلَهُ» تو اس کے لیے ہے – «أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا» چالیس ہاتھ (جگہ) – «عَطَنًا» بٹھانے کی جگہ کے طور پر – «لِمَاشِيَتِهِ» اپنے مویشیوں کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی کنواں کھودا تو اس کے (گرد) چالیس ہاتھ جگہ اس کے مویشیوں کے بیٹھنے کے لیے اسی کی ہے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الرهون، باب حريم البئر، حديث:2486، وسنده ضعيف، وله شاهد عند البيهقي:6 /155.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 782
وعن علقمة بن وائل عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أقطعه أرضا بحضرموت. رواه أبو داود والترمذي وصححه ابن حبان.
سیدنا علقمہ بن وائل نے اپنے باپ وائل رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرموت میں زمین بطور جاگیر عطا فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 782]
«وَعَنْ» اور سے – «عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ» علقمہ بن وائل – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَقْطَعَهُ» نے انہیں جاگیر میں دی – «أَرْضًا» ایک زمین – «بِحَضْرَمَوْتَ» حضرموت میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور علقمہ بن وائل اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حضرموت میں ایک زمین جاگیر کے طور پر عطا فرمائی۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3058، والترمذي، الأحكام، حديث:1381، وابن حبان(الإحسان):9 /166، 167.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 783
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أقطع الزبير حضر فرسه فأجرى الفرس حتى قام ثم رمى بسوطه فقال: «أعطوه حيث بلغ السوط» .‏‏‏‏ رواه أبو داود وفيه ضعف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھوڑے کی دوڑ کے برابر زمین جاگیر کے طور پر عنایت فرمائی۔ جب ان کا گھوڑا ٹھہر گیا تو انہوں نے اپنا کوڑا آگے پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہاں تک کوڑا گرا وہاں تک زبیر کی زمین ہے۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے مگر اس میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 783]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَقْطَعَ» جاگیر میں دی – «الزُّبَيْرَ» زبیر کو – «حُضْرَ فَرَسِهِ» ان کے گھوڑے کی دوڑ (کی مسافت) – «فَأَجْرَى الْفَرَسَ» تو انہوں نے گھوڑا دوڑایا – «حَتَّى قَامَ» یہاں تک کہ وہ رک گیا – «ثُمَّ رَمَى» پھر پھینکا – «بِسَوْطِهِ» اپنا کوڑا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَعْطُوهُ» اسے دے دو – «حَيْثُ بَلَغَ» جہاں تک پہنچا – «السَّوْطُ» کوڑا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَفِيهِ ضَعْفٌ» اور اس میں کمزوری ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھوڑے کی دوڑ جتنی زمین جاگیر میں دی، تو انہوں نے گھوڑا دوڑایا یہاں تک کہ وہ رک گیا، پھر انہوں نے اپنا کوڑا (آگے) پھینکا، تو آپ نے فرمایا: ”جہاں تک کوڑا پہنچا ہے وہاں تک انہیں دے دو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الخراج، باب في إقطاع الأرضين، حديث:3072.* عبدالله بن عمر العمري حسن الحديث عن نافع، ضعيف عن غيره.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
وعن رجل من الصحابة رضي الله عنه قال: غزوت مع النبي صلى الله عليه وآله وسلم فسمعته يقول: «‏‏‏‏الناس شركاء في ثلاثة: في الكلإ والماء والنار» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود ورجاله ثقات.
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ”تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سب حصہ دار ہیں۔ گھاس، پانی اور آگ۔“ احمد و ابوداؤد اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 784]
«وَعَنْ» اور سے – «رَجُلٍ» ایک آدمی – «مِنَ الصَّحَابَةِ» صحابہ میں سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «غَزَوْتُ» میں نے جہاد کیا – «مَعَ النَّبِيِّ» نبی کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَسَمِعْتُهُ» تو میں نے آپ کو سنا – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «النَّاسُ» لوگ – «شُرَكَاءُ» شریک ہیں – «فِي ثَلَاثَةٍ» تین چیزوں میں – «فِي الْكَلَإِ» گھاس میں – «وَالْمَاءِ» اور پانی میں – «وَالنَّارِ» اور آگ میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور صحابہ میں سے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں: گھاس، پانی اور آگ میں۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في منع الماء، حديث:3477، وأحمد:5 /364.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں