بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب الوقف
وقف کا بیان
حدیث نمبر: 785
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا مات ابن آدم انقطع عنه عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية أو علم ينتفع به أو ولد صالح يدعو له» . رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب اسے مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہو، صالح اولاد جو مرنے والے کیلئے دعا کرے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 785]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا مَاتَ» جب مر جاتا ہے – «ابْنُ آدَمَ» آدم کا بیٹا – «انْقَطَعَ عَنْهُ» اس سے منقطع ہو جاتا ہے – «عَمَلُهُ» اس کا عمل – «إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ» سوائے تین (چیزوں) کے – «صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ» جاری رہنے والا صدقہ – «أَوْ عِلْمٍ» یا علم – «يُنْتَفَعُ بِهِ» جس سے فائدہ اٹھایا جائے – «أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ» یا نیک اولاد – «يَدْعُو لَهُ» جو اس کے لیے دعا کرے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 785]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الوصية، باب ما يلحق الإنسان من الثواب بعد وفاته، حديث:1631.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 786
وعن ابن عمر قال: أصاب عمر رضي الله عنه أرضا بخيبر فأتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستأمره فيها فقال: يا رسول الله إني أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط هو أنفس عندي منه فقال: «إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها» قال: فتصدق بها عمر: أنه لا يباع أصلها ولا يورث ولا يوهب فتصدق بها في الفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف ويطعم صديقا غير متمول مالا.متفق عليه واللفظ لمسلم. وفي رواية للبخاري: تصدق بأصلها لا يباع ولا يوهب ولكن ينفق ثمره.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے علاقہ میں زمین ملی تھی۔ (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ طلب کرنے کیلئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں کچھ زمین حاصل ہوئی ہے ایسی نفیس و قیمتی کہ اس سے پہلے کبھی بھی ایسی زمین مجھے نہیں ملی۔ میں اسے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر چاہو تو اصل کو اپنے پاس روک لو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔“ راوی کا بیان ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو فقیروں، قرابت داروں، غلاموں کو آزاد کرنے میں اور راہ خدا میں، راہ چلتے مسافروں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کیلئے وقف کر دیا اور وصیت بھی کر دی کہ اس کا منتظم و نگہبان معروف طریقہ کے مطابق خود بھی کھا سکتا ہے اور احباب و رفقاء کو بھی کھلا سکتا ہے۔ مگر مال کو ذخیرہ بنا کر نہ رکھے۔ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور بخاری کی روایت میں ہے کہ اس کے اصل کو صدقہ کر دیا (یعنی وقف کر دیا) جو نہ فروخت کیا جائے گا اور نہ ھبہ کیا جائے گا لیکن اس کی پیداوار، راہ خدا میں خرچ کی جائے گی۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 786]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَصَابَ» حاصل کی – «عُمَرُ» عمر نے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَرْضًا» ایک زمین – «بِخَيْبَرَ» خیبر میں – «فَأَتَى النَّبِيَّ» تو وہ نبی کے پاس آئے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْتَأْمِرُهُ» آپ سے مشورہ لیتے ہوئے – «فِيهَا» اس کے بارے میں – «فَقَالَ» تو کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنِّي» بے شک میں نے – «أَصَبْتُ» حاصل کی ہے – «أَرْضًا بِخَيْبَرَ» خیبر میں ایک زمین – «لَمْ أُصِبْ» میں نے حاصل نہیں کیا – «مَالًا قَطُّ» کبھی کوئی مال – «هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي» جو میرے نزدیک زیادہ نفیس ہو – «مِنْهُ» اس سے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنْ شِئْتَ» اگر تم چاہو – «حَبَسْتَ» روک (وقف کر) لو – «أَصْلَهَا» اس کی اصل – «وَتَصَدَّقْتَ بِهَا» اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو – «قَالَ» (راوی نے) کہا: – «فَتَصَدَّقَ بِهَا» تو اسے صدقہ کر دیا – «عُمَرُ» عمر نے – «أَنَّهُ» (اس شرط پر) کہ – «لَا يُبَاعُ» نہ بیچی جائے – «أَصْلُهَا» اس کی اصل – «وَلَا يُورَثُ» اور نہ وراثت میں دی جائے – «وَلَا يُوهَبُ» اور نہ ہبہ کی جائے – «فَتَصَدَّقَ بِهَا» پس انہوں نے اسے صدقہ کیا – «فِي الْفُقَرَاءِ» فقیروں میں – «وَفِي الْقُرْبَى» اور رشتہ داروں میں – «وَفِي الرِّقَابِ» اور گردنیں (غلام) آزاد کرانے میں – «وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ» اور اللہ کی راہ میں – «وَابْنِ السَّبِيلِ» اور مسافر – «وَالضَّيْفِ» اور مہمان (کے لیے) – «لَا جُنَاحَ» کوئی گناہ نہیں – «عَلَى مَنْ وَلِيَهَا» اس پر جو اس کا متولی ہو – «أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا» کہ وہ اس میں سے کھائے – «بِالْمَعْرُوفِ» دستور کے مطابق – «وَيُطْعِمَ» اور کھلائے – «صَدِيقًا» کسی دوست کو – «غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ» مال جمع نہ کرنے والا ہو کر – «مَالًا» مال۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: – «تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا» اس کی اصل کو صدقہ کر دو – «لَا يُبَاعُ» نہ بیچی جائے – «وَلَا يُوهَبُ» اور نہ ہبہ کی جائے – «وَلَكِنْ» لیکن – «يُنْفَقُ ثَمَرُهُ» اس کا پھل خرچ کیا جائے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس کے بارے میں مشورہ لینے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں ایک زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ نفیس ہو۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس کی اصل (زمین) کو وقف کر دو اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو۔“ راوی نے کہا: چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ اس کی اصل نہ بیچی جائے گی، نہ وراثت میں تقسیم ہو گی اور نہ ہبہ کی جائے گی، اور انہوں نے اسے فقیروں، رشتہ داروں، غلام آزاد کرانے، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا، اور جو اس کا متولی ہو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دستور کے مطابق اس میں سے کھائے اور کسی دوست کو کھلائے، بشرطیکہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اس کی اصل کو صدقہ (وقف) کر دو، نہ وہ بیچی جائے اور نہ ہبہ کی جائے، لیکن اس کا پھل خرچ کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 786]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی تو وہ اس کے بارے میں مشورہ لینے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں ایک زمین ملی ہے، مجھے کبھی کوئی ایسا مال نہیں ملا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ نفیس ہو۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو اس کی اصل (زمین) کو وقف کر دو اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو۔“ راوی نے کہا: چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس شرط پر صدقہ کر دیا کہ اس کی اصل نہ بیچی جائے گی، نہ وراثت میں تقسیم ہو گی اور نہ ہبہ کی جائے گی، اور انہوں نے اسے فقیروں، رشتہ داروں، غلام آزاد کرانے، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا، اور جو اس کا متولی ہو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ دستور کے مطابق اس میں سے کھائے اور کسی دوست کو کھلائے، بشرطیکہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ اور بخاری کی ایک روایت میں ہے: ”اس کی اصل کو صدقہ (وقف) کر دو، نہ وہ بیچی جائے اور نہ ہبہ کی جائے، لیکن اس کا پھل خرچ کیا جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 786]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشروط، باب الشروط في الوقف، حديث:2737، ومسلم، الوصية، باب الوقف، حديث:1632.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 787
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عمر على الصدقة الحديث وفيه: «وأما خالد فقد احتبس أدراعه وأعتاده في سبيل الله» . متفق عليه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو صدقات کی وصولی پر مقرر فرما کر بھیجا۔ (الحدیث) اور اس میں ہے کہ ”رہا خالد (رضی اللہ عنہ) تو انہوں نے اپنی تمام زرہیں اللہ کے راستے میں وقف کر دی ہیں۔“ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 787]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «بَعَثَ» بھیجا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عُمَرَ» عمر کو – «عَلَى الصَّدَقَةِ» صدقہ (زکاۃ کی وصولی) پر – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «وَأَمَّا خَالِدٌ» اور رہے خالد – «فَقَدِ احْتَبَسَ» تو انہوں نے وقف کر رکھی ہیں – «أَدْرَاعَهُ» اپنی زرہیں – «وَأَعْتَادَهُ» اور اپنا سامانِ جنگ – «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو صدقہ (زکاۃ) وصول کرنے پر بھیجا، (پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”رہے خالد، تو انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنا جنگی سامان اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 787]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو صدقہ (زکاۃ) وصول کرنے پر بھیجا، (پوری) حدیث ذکر کی، اور اس میں ہے: ”رہے خالد، تو انہوں نے اپنی زرہیں اور اپنا جنگی سامان اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب قول الله تعالي:(وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله)، حديث:1468، ومسلم، الزكاة، باب في تقديم الزكاة ومنعها، حديث:983.»
الحكم على الحديث:
صحيح