صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. بَابُ غَزْوَةُ الطَّائِفِ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ ثَمَانٍ:
باب:غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔
حدیث نمبر: Q4324
قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ
یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4324]
حدیث نمبر: 4324
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، سَمِعَ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ"، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ"، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: الْمُخَنَّثُ هِيتٌ.حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا، وَزَادَ: وَهُوَ مُحَاصِرُ الطَّائِفِ يَوْمَئِذٍ.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم نے سفیان بن عیینہ سے سنا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ان کی والدہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عطا فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی (بادیہ نامی) کو لے لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں (یعنی بہت موٹی تازہ عورت ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اب تمہار ے گھر میں نہ آیا کریں۔ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا، اس مخنث کا نام ہیت تھا۔ ہم سے محمود نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4324]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرے ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے سنا کہ وہ حضرت عبداللہ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا تھا: ”اے عبداللہ! دیکھ اگر کل اللہ تعالیٰ تمہیں طائف میں فتح عطا کرے تو غیلان کی بیٹی پر قبضہ کر لینا کیونکہ جب وہ آتی ہے تو اس کے آگے چار بل پڑتے ہیں اور جب جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں۔“ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آئندہ یہ لوگ (مخنث) تمہارے گھروں میں نہ آیا کریں۔“ ابن عیینہ رحمہ اللہ نے ابن جریج رحمہ اللہ کے حوالے سے بیان کیا کہ اس مخنث کا نام ”ہیت“ تھا۔ ایک روایت میں اس چیز کا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4325
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا، قَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ، وَقَالُوا: نَذْهَبُ وَلَا نَفْتَحُهُ، وَقَالَ مَرَّةً: نَقْفُلُ، فَقَالَ:" اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ"، فَغَدَوْا، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ، فَقَالَ:" إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ"، فَأَعْجَبَهُمْ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فَتَبَسَّمَ، قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس نابینا شاعر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں (راوی نے) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں (یہ کیونکر ہو سکتا ہے) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4325]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن سے کچھ نہ پا سکے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ان شاء اللہ کل یہاں سے لوٹ جائیں گے۔“ یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری اور وہ کہنے لگے: کیا ہم فتح کے بغیر واپس جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا صبح جنگ کا آغاز کرو۔“ چنانچہ انہوں نے صبح جنگ چھیڑ دی تو انہیں بہت زخم آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کل ان شاء اللہ ہم واپس چلیں گے۔“ یہ سن کر مسلمان بہت خوش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔ کبھی سفیان نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرمانے لگے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَبَا بَكْرَةَ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، وَقَالَ هِشَامٌ: وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، وَأَبَا بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ: قُلْتُ: لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا، قَالَ: أَجَلْ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4326]
حضرت ابو عثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر پھینکا، نیز میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنا اور وہ ان چند آدمیوں میں سے ہیں جو طائف کے قلعے کی دیوار پر چڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے دیدہ دانستہ خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر جنت حرام ہے“۔ ہشام نے کہا: ہمیں معمر نے عاصم سے بیان کیا کہ ان (عاصم) سے ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا“۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے (ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی سے) کہا: ”آپ کے ہاں تو دو ایسے شخص گواہی دے رہے ہیں جو آپ کو کافی ہیں“۔ انہوں نے کہا: ”ہاں، کیونکہ ان میں سے ایک (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا اور دوسرے (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) تئیس (23) مردوں میں سے تیسرے شخص ہیں جو طائف کے قلعے سے اتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4326]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَبَا بَكْرَةَ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، وَقَالَ هِشَامٌ: وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، وَأَبَا بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ: قُلْتُ: لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا، قَالَ: أَجَلْ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4327]
حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر پھینکا۔ نیز میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنا اور وہ ان چند آدمیوں میں سے ہیں جو طائف کے قلعے کی دیوار پر چڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے دیدہ دانستہ خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر جنت حرام ہے۔“ ہشام نے کہا: ہمیں معمر نے عاصم سے بیان کیا کہ ان (عاصم) سے ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی نے کہا: میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے (ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی سے) کہا: آپ کے ہاں تو دو ایسے شخص گواہی دے رہے ہیں جو تمہیں کافی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں کیونکہ ان میں سے ایک (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا اور دوسرے (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) تئیس (23) مردوں میں سے تیسرے شخص ہیں جو طائف کے قلعے سے اتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4327]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلَا تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي، فَقَالَ لَهُ:" أَبْشِرْ"، فَقَالَ: قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ، فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ: رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلَا أَنْتُمَا، قَالَا: قَبِلْنَا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا"، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَنْ أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا، فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی تھا جب آپ جعرانہ سے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے اتر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ اسی دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بدوی آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بشارت ہو۔ اس پر وہ بدوی بولا بشارت تو آپ مجھے بہت دے چکے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک ابوموسیٰ اور بلال کی طرف پھیرا، آپ بہت غصے میں معلوم ہو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا اس نے بشارت واپس کر دی اب تم دونوں اسے قبول کر لو۔ ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو اس میں دھویا اور اسی میں کلی کی اور (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ ہر دو سے) فرمایا کہ اس کا پانی پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر اسے ڈال لو اور بشارت حاصل کرو۔ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور ہدایت کے مطابق عمل کیا۔ پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا اپنی ماں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دینا۔ چنانچہ ان دونوں نے ان کے لیے ایک حصہ چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4328]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا جب آپ جعرانہ میں ٹھہرے تھے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔ آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا: ”آپ نے مجھ سے ایک وعدہ کیا تھا، کیا آپ اسے پورا نہیں کرتے؟“ آپ نے فرمایا: ”تیرے لیے بشارت ہے۔“ وہ بولا: ”یہ کیا بات ہے؟ آپ اکثر یہی فرماتے رہتے ہیں: خوش ہو جاؤ۔“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف غضبناک حالت میں متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اس دیہاتی نے تو بشارت کو مسترد کر دیا ہے، لہذا تم دونوں قبول کر لو۔“ ان دونوں حضرات نے کہا: ”ہمیں منظور ہے۔“ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، اپنے دونوں ہاتھ اور منہ اس میں دھوئے اور اس میں کلی بھی کی، پھر فرمایا: ”تم دونوں اس میں سے کچھ نوش کر لو اور کچھ اپنے منہ اور سینے پر ڈال لو، نیز خوش ہو جاؤ۔“ ہم دونوں پیالہ لے کر تعمیلِ حکم کرنے لگے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پسِ پردہ پکارا کہ ”اپنی ماں کے لیے بھی کچھ پانی چھوڑ دینا“ تو انہوں نے کچھ پانی بچا کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4329
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِالطِّيبِ؟ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟" فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ:" أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ، فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ یعلیٰ نے کہا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ سکتا جب آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ کے لیے ایک کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور اس میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ موجود تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی آئے وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے، خوشبو میں بسا ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو اپنے جبہ میں خوشبو لگانے کے بعد احرام باندھے؟ فوراً ہی عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے اور اپنا سر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) اندر کیا (نزول وحی کی کیفیت سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور زور زور سے سانس چل رہی تھی۔ تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی پھر ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ابھی عمرہ کے متعلق جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہیں تلاش کر کے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو اور جبہ اتار دو اور پھر عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4329]
حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھوں جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔“ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا۔ اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ اچانک ایک دیہاتی آیا جس پر خوشبو سے لت پت جبہ تھا۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرے کا احرام ایسے جبے میں باندھا ہے جو خوشبو سے لت پت ہے؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آؤ (اور نزول وحی کی حالت کو دیکھو) چنانچہ حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا سر اس پردے میں داخل کیا، دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہے، کچھ دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لیتے رہے، پھر یہ حالت جاتی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی ابھی عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟“ اسے تلاش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو ڈالو اور جبے کو اتار دو، پھر اپنے عمرے میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4330
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا فَهَدَاكُمُ اللَّهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللَّهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللَّهُ بِي"، كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ:" مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالَ: كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ:" لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ؟ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو دیا انہیں کیوں نہیں دیا۔ آپ نے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نااتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت پیدا کی اور تم محتاج تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ غنی کیا۔ آپ کے ایک ایک جملے پر انصار کہتے جاتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کیا چیز مانع رہی؟ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اشارہ پر انصار عرض کرتے جاتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے تو مجھ سے اس طرح بھی کہہ سکتے تھے (کہ آپ آئے تو لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ اونٹ اور بکریاں لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ لوگ خواہ کسی گھاٹی یا وادی میں رہیں گے میں تو انصار کی گھاٹی اور وادی میں رہوں گا۔ انصار استر کی طرح ہیں جو جسم سے ہمیشہ لگا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر کے کپڑے یعنی ابرہ کی طرح ہیں۔ تم لوگ (انصار) دیکھو گے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم ایسے وقت میں صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4330]
حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ حنین میں غنیمت عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں میں مال غنیمت تقسیم کیا جن کے دل اسلام پر جمانے مقصود تھے اور انصار کو کچھ نہ دیا، گویا وہ اس وجہ سے غمناک ہوئے کہ جو مال لوگوں کو ملا انہیں نہ ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں سیدھی راہ دکھائی؟ تم ایک دوسرے سے جدا جدا تھے، اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں اتحاد و اتفاق پیدا فرمایا۔ تم محتاج تھے، اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں غنی کر دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کچھ فرماتے تو انصار کہتے: ”اللہ اور اس کے رسول کا بہت احسان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟“ لیکن جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرماتے تو وہ کہتے: ”واقعی اللہ اور اس کے رسول کا سب سے بڑا احسان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ آپ ہمارے پاس ان ان حالات میں تشریف لائے۔ کیا تم خوش نہیں ہو کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار تو اندر کا کپڑا، یعنی استر ہیں اور دوسرے لوگ باہر کے کپڑے، یعنی ابرہ کی طرح ہیں۔ میرے بعد تمہیں ترجیحات سے واسطہ پڑے گا۔ صبر کرتے رہو حتیٰ کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4331
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا رُؤَسَاؤُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتَجِدُونَ أُثْرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ"، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ يَصْبِرُوا.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، بیان کیا کہ جب قبیلہ ہوازن کے مال میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دینا تھا وہ دیا تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو سو اونٹ دے دئیے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول کی مغفرت کرے، قریش کو تو آپ عنایت فرما رہے ہیں اور ہم کو آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں آئی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا، ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو بھی آپ نے نہیں بلایا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ البتہ ہمارے کچھ لوگ جو ابھی نوعمر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، قریش کو آپ دے رہے ہیں اور ہمیں آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ تو مال و دولت لے جائیں اور تم نبی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس وقت صبر کرنا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوض کوثر پر ملوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن انصار نے صبر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4331]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن کے اموال بطور انعام عطا فرمائے تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو، سو اونٹ دینا شروع کر دیے۔ انصار نے کہا: ”اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے، آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ابھی ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے؟“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی گفتگو بیان کی گئی تو آپ نے انصار کی طرف پیغام بھیج کر چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا۔ آپ نے ان کے ہمراہ کسی اور کو نہ بلایا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟“ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی، البتہ ہمارے کچھ نوخیز لڑکوں نے کہا ہے: ”اللہ تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ابھی ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے؟“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ، میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح ان کی دل جوئی کرنا میرا مقصد ہے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو مال و دولت لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔“ انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس پر خوش ہیں۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر سے کام لینا حتیٰ کہ قیامت کے دن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرو۔ یقیناً میں حوضِ کوثر پر ہوں گا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن انصار نے صبر سے کام نہ لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4332
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، فَغَضِبَتْ الْأَنْصَارُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں (حنین کی) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4332]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس روز مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں اموالِ غنیمت تقسیم کیے تو انصار غضبناک ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة