🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب غزوة الطائف فى شوال سنة ثمان:
باب:غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَبَا بَكْرَةَ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ"، وَقَالَ هِشَامٌ: وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا، وَأَبَا بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَاصِمٌ: قُلْتُ: لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا، قَالَ: أَجَلْ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے (ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب (سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے (ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4327]
حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر پھینکا۔ نیز میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنا اور وہ ان چند آدمیوں میں سے ہیں جو طائف کے قلعے کی دیوار پر چڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں حضرات نے کہا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس نے دیدہ دانستہ خود کو اپنے والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کیا اس پر جنت حرام ہے۔ ہشام نے کہا: ہمیں معمر نے عاصم سے بیان کیا کہ ان (عاصم) سے ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی نے کہا: میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے (ابو العالیہ یا ابو عثمان نہدی سے) کہا: آپ کے ہاں تو دو ایسے شخص گواہی دے رہے ہیں جو تمہیں کافی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں کیونکہ ان میں سے ایک (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) تو وہ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا اور دوسرے (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) تئیس (23) مردوں میں سے تیسرے شخص ہیں جو طائف کے قلعے سے اتر کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4327]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنثقة
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة
Newنفيع بن مسروح الثقفي ← عاصم الأحول
صحابي
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق
Newسعد بن أبي وقاص الزهري ← نفيع بن مسروح الثقفي
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة ثبت
👤←👥أبو العالية الرياحي، أبو العالية
Newأبو العالية الرياحي ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو العالية الرياحي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عاصم الأحول
ثقة ثبت فاضل
👤←👥هشام بن يوسف الأبناوي، أبو عبد الرحمن
Newهشام بن يوسف الأبناوي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة
👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة
Newنفيع بن مسروح الثقفي ← هشام بن يوسف الأبناوي
صحابي
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاق
Newسعد بن أبي وقاص الزهري ← نفيع بن مسروح الثقفي
صحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة ثبت
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4327
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام
صحيح البخاري
6766
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
صحيح مسلم
220
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
سنن ابن ماجه
2610
من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4327 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4327
حدیث حاشیہ:
حافظ نے کہا یہ ہشام کی تعلیق مجھے موصولاً نہیں ملی اور اس کے سند کے بیان کرنے سے امام بخار ی ؒ کی غرض یہ ہے کہ اگلی روایت کی تفصیل ہوجائے، اس میں مجملًا یہ مذکور تھا کہ کئی آدمیوں کے ساتھ قلعہ پر چڑھے تھے، اس میں بیان ہے کہ وہ تیس آدمی تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4327]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 4327
لغوی توضیح:
«وَعَــاهُ» اسے یاد کر لیا۔
«قَلْبـِيْ» میرے دل نے۔
فہم الحدیث:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جان بوجھ کر اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ اور اگر کوئی کسی دوسرے ملک میں نیشنیلٹی حاصل کرنے کی غرض سے بھی ایسا کرتا ہے (جیسا کہ آج کل کیا جاتا ہے) تو وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ منہ بولے بیٹوں کو بھی اپنے ناموں کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے اصلی باپوں کے ناموں سے ہی پکارنا چاہیے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ «ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ» [الاحزاب: 5] لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک پورا انصاف ہے۔
[جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 42]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4327
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب طائف کا محاصرہ کیا تو قلعے کے اندر ہی چند آدمیوں نے مشورہ کیا کہ ہم کیوں نہ مسلمان ہوجائیں، لیکن قلعے سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نہ بنتی تھی۔
وہ دیوار پر چڑھے اور بکرہ، یعنی سیڑھی کے ذریعے قلعے سے باہرنکلے۔
یہ تحریک جس شخص نے برپا کی تھی وہ ابوبکرہ کے نام سے مشہور ہوئے۔
ان کا اصل نام نفیع بن حارث ہے اور وہ ثقیف کے غلاموں میں سے ہیں۔

پہلی روایت میں قلعے سے نکلنے والوں کی تعداد مبہم تھی، دوسری روایت میں وضاحت کردی گئی کہ ان کی تعداد تئیس(23)
تھی۔
سب سے پہلے ابوبکرہ ؓ نیچے اترے، شارحین نے قلعے سے اترنے والوں کے نام بھی لکھے ہیں۔
ان میں زیاد کی والدہ حضرت سمیہ ؓ کے شوہر ازرق بھی تھے۔
یہی وہی زیاد ہے جو بعد میں زیاد بن ابوسفیان کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ حضرت ابوبکرہ ؓ کا مادری بھائی تھا۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ جب زیاد نے خود کو ابوسفیان ؓ کی طرف منسوب کیاتو ابوعثمان نہدی نے حضرت ابوبکرہ ؓ سے کہا:
آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ پھر انھوں نے مذکورہ حدیث کا حوالہ دیا۔
ابوبکرہ ؓ نے کہا:
میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
(صحیح مسلم، الإیمان حدیث 219(63)

امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ حضرت ابوبکرہ ؓ ان اصحاب میں سے ہیں جو طائف کا قلعہ پھلانک کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کو آزاد کردیا جو قلعے سے اترکر آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے۔
(فتح الباري: 58/8۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4327]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2610
کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولیٰ بنانے کی برائی کا بیان۔
سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2610]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نسبت کے ثبوت پربہت معاملات کاا انحصار ہےمثلاً:

(ا)
محرم نامحرم کی پہچان۔

(ب)
وارثت کی تقسیم وغیرہ اس لیے شریعت اسلامیہ میں نسب کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔

(2)
آزاد کرنے اور ہونے والے کے درمیان جو تعلق قائم ہوتا ہے اسےولاء کہتے ہیں اس پر بعض شریعی مسائل کا انحصار ہے مثلاً:
نسبی وارثوں کی غیر موجوگی میں وراثت کی تقسم وغیرہ۔

(3)
نسب اور ولاء کا جو تعلق قدرتی طور پرقائم ہو گیا ہے اس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اس لیے شریعت میں منہ بولے بیٹے یا بھائی وغیرہ جیسے مصنوعی رشتوں کی قانونی اورشریعی حیثیت نہیں۔

(4)
باپ کےسوا کسی اور کو والد قراردینا حرام ہے البتہ احترام کے طورپرکسی کوچچا کہہ دینا پیار سے کسی کو بیٹا کہہ دینا اس میں شامل نہیں۔
حرمت اس وقت ہےجب اس مصنوعی رشتوں کو اصلی رشتے کا مقام دینے کی کوشش کی جائے۔

(5)
آزاد غلام کے لیے جائز نہیں کہ کسی اور قبیلے سے تعلق قائم کرنے کےلیے اس قبیلے کے کسی فرد کو اپنا آزاد کرنے والا قرار دے۔
اس کی وجہ سے بعض شرعی معاملات میں مشکل پیش آ سکتی ہےاس کے علاوہ یہ ایک بڑی احسان فراموشی بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2610]

Sahih Bukhari Hadith 4327 in Urdu