🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. بَابُ قِصَّةُ الأَسْوَدِ الْعَنْسِيِّ:
باب: اسود عنسی کا قصہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4378
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ نَشِيطٍ وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ فِي دَارِ بِنْتِ الْحَارِثِ، وَكَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ كُرَيْزٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضِيبٌ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ لَهُ مُسَيْلِمَةُ: إِنْ شِئْتَ خَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَمْرِ ثُمَّ جَعَلْتَهُ لَنَا بَعْدَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ سَأَلْتَنِي هَذَا الْقَضِيبَ مَا أَعْطَيْتُكَهُ، وَإِنِّي لَأَرَاكَ الَّذِي أُرِيتُ فِيهِ مَا أُرِيتُ، وَهَذَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ وَسَيُجِيبُكَ عَنِّي"، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے ان کے والد ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن عبیدہ بن نشیط نے، دوسرے موقع پر (ابن عبیدہ رضی اللہ عنہ) کے نام کی تصریح ہے یعنی عبداللہ اور ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب مسیلمہ کذاب مدینہ آیا تو بنت حارث کے گھر اس نے قیام کیا، کیونکہ بنت حارث بن کریز اس کی بیوی تھی۔ یہی عبداللہ بن عبداللہ بن دعامر کی ماں ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے یہاں تشریف لائے (تبلیغ کے لیے) آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ثابت رضی اللہ عنہ وہی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب کے نام سے مشہور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آ کر ٹھہر گئے اور اس سے گفتگو کی اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ مسیلمہ نے کہا کہ میں اس شرط پر مسلمان ہوتا ہوں کہ آپ کے بعد مجھ کو حکومت ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مجھ سے یہ چھڑی مانگو گے تو میں یہ بھی نہیں دے سکتا اور میں تو سمجھتا ہوں کہ تم وہی ہو جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں اور میری طرف سے تمہاری باتوں کا یہی جواب دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4378]
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ بات پہنچی کہ مسیلمہ کذاب مدینہ طیبہ میں آیا ہے اور اس نے بنت حارث کی حویلی میں پڑاؤ کیا ہے۔ اس کے نکاح میں حارث بن کریز کی بیٹی تھی اور وہ (عبداللہ بن) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ماں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ وہی ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطیب کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں کھجور کی چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آ کر ٹھہرے اور اس سے گفتگو کی تو مسیلمہ کذاب نے کہا: اگر آپ چاہیں تو اپنے بعد حکومت اور خلافت ہمارے حوالے کر دیں۔ آپ کی زندگی میں حکومت آپ کے پاس رہے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ چھڑی مانگے تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور میں سمجھتا ہوں کہ تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے۔ یہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہیں، میری طرف سے تیری باتوں کا یہی جواب دیں گے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے آئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4378]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4379
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُرِيتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ"، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ الْكَذَّابُ.
عبیداللہ بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا کہ میرے ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے ہیں۔ میں اس سے بہت گھبرایا اور ان کنگنوں سے مجھے تشویش ہوئی، پھر مجھے حکم ہوا اور میں نے انہیں پھونک دیا تو دونوں کنگن اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جو خروج کرنے والے ہیں۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اسود عنسی تھا، جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4379]
عبیداللہ بن عبداللہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق دریافت کیا جس کا آپ نے ذکر فرمایا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ میری معلومات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سو رہا تھا، مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن ہیں۔ میں ان سے بہت گھبرایا اور ان دونوں کنگنوں سے مجھے تشویش لاحق ہوئی۔ اس دوران میں مجھے ان پر پھونک مارنے کی اجازت دی گئی۔ میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ دونوں کنگن اڑ گئے۔ میں نے اس خواب کی تعبیر دو جھوٹوں سے کی جو عنقریب ظاہر ہوں گے۔ عبیداللہ نے کہا: ان میں ایک اسود عنسی ہے جسے فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4379]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں