🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب الْعَمَلِ بِالْعِلْمِ وَحُسْنِ النِّيَّةِ فِيهِ:
علم کے ساتھ عمل اور اس میں حسن نیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 268
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ:"مَنْ يَزْدَدْ عِلْمًا، يَزْدَدْ وَجَعًا".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے درد بھی بڑھ جاتا ہے (یعنی خشیت الہٰی اور انابت الی اللہ میں اضافہ ہو جاتا ہے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 268]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الأولى مالك بن دينار لم يدرك أبا الدرداء فالإسناد منقطع والثانية: أبو قدامة وهو: الحارث بن عبيد وهو ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 269] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے اور ابوقدامہ حارث بن عبید ضعیف ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 900]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 269
أخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: "مَا أَخَافُ عَلَى نَفْسِي أَنْ يُقَالَ لِي: مَا عَلِمْتَ، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ يُقَالَ لِي: مَاذَا عَمِلْتَ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس کا ڈر نہیں کہ کہا جائے تم نے کیا علم حاصل کیا؟ بلکہ ڈر یہ ہے کہ مجھے کہا جائے عمل کیسا کیا؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 270] »
یہ اثر متعدد کتب میں ہے، لیکن سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الزهد لابن المبارك 39] ، [جامع بيان العلم 1201] ، [اقتضاء العلم والعمل 54] ، [مصنف ابن أبى شيبه 16446] ، [الزهد لأحمد 136] ، [حلية الأولياء 213/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 267 سے 269)
یہ حدیث «يوتي يوم القيامة ............ فماذا عملت» کی طرف اشارہ ہے (یعنی قیامت کے دن پوچھا جائے گا علم حاصل کرنے کے بعد عمل کتنا کیا تھا)۔
اور اس میں صحابیٔ جلیل سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے کہ ڈرتے ہیں قیامت کے دن اللہ کے نزدیک یہ سوال نہ کیا جائے کہ کیا عمل کیا؟

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 270
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يَذْكُرُ عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنْ اللَّيْلِ، خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا".
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات کے کچھ وقت میں علم کا مذاکرہ کرنا پوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 270]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 271] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 20469] ، [جامع بيان العلم 107] لیکن بیہقی نے [المدخل 459] میں صحیح سند سے ذکر کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [جامع بيان العلم 96، 106] و [الفقيه والمتفقه 14/1، 19]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 271
أَخْبَرَنَا وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "إِنِّي لَأُجَزِّئُ اللَّيْلَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ: فَثُلُثٌ أَنَامُ، وَثُلُثٌ أَقُومُ، وَثُلُثٌ أَتَذَكَّرُ أَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں: ایک تہائی سوتا ہوں، ایک تہائی قیام کرتا ہوں اور ایک تہائی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم یاد کرتا ہوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 271]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 272] »
اس روایت کی سند مذکورہ بالا روایت کی طرح ہے، لیکن یہ روایت امام دارمی کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 272
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "مَنْ ابْتَغَى شَيْئًا مِنْ الْعِلْمِ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ، آتَاهُ اللَّهُ مِنْهُ مَا يَكْفِيهِ".
امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص الله تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے علم حاصل کرے الله تعالیٰ اس کو اتنا دیتا ہے جو اس کے لئے کافی ہوتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 272]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 273] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 17248] ، [حلية الأولياء 228/4] و [العلم لأبي خيثمة 111]
وضاحت: (تشریح احادیث 269 سے 272)
یہ آیتِ شریفہ: «﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا [2] وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ [الطلاق: 2، 3] » کی تفسیر ہے۔
یعنی جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
ان تمام روایات میں علم حاصل کرنے کے ساتھ اس پر عمل کی ترغیب ہے، نیز یہ کہ علم کا حصول اور عملِ صالح ہر ایک میں خلوص وللّٰہیت بے حد ضروری ہے، ورنہ سب کچھ ضائع کر دیا جائے گا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں