سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب مَنْ هَابَ الْفُتْيَا مَخَافَةَ السَّقَطِ:
غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
حدیث نمبر: 273
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ حَدِيثٍ، فَحَدَّثَنِيهِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ يُرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "لَا، عَلَى مَنْ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيْنَا، فَإِنْ كَانَ فِيهِ زِيَادَةٌ أَوْ نُقْصَانٌ، كَانَ عَلَى مَنْ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عاصم نے بیان کیا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے ایک حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے وہ حدیث بتائی، میں نے کہا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی جاتی ہے؟ کہا: نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو ہیں (ان کی طرف حدیث منسوب کرنا) ہم کو محبوب ہے کیونکہ اگر (حدیث میں) کمی یا زیادتی ہو تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے کی (طرف منسوب) ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 274] »
اس قول کی سند شعبی سے صحیح ہے، اور اس کو ابن ابی شیبہ نے [مصنف 6275] میں ذکر کیا ہے۔
اس قول کی سند شعبی سے صحیح ہے، اور اس کو ابن ابی شیبہ نے [مصنف 6275] میں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 274
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ"، فَقِيلَ لَهُ: أَمَا تَحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا؟، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ أَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ، أَحَبُّ إِلَيَّ.
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، کہا گیا کیا آپ کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث یاد نہیں؟ فرمایا: یاد تو ہے، لیکن مجھے قال عبدالله، قال علقمہ کہنا زیادہ پسند ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 275] »
اس قول کی سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، اور حدیث محاقلہ و مزابنہ متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 2207] ، [صحيح مسلم 1539] اس حدیث کی مزید تفصیل کتاب البيوع میں آگے آ رہی ہے۔
اس قول کی سند صحیح ہے لیکن مرسل ہے، اور حدیث محاقلہ و مزابنہ متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 2207] ، [صحيح مسلم 1539] اس حدیث کی مزید تفصیل کتاب البيوع میں آگے آ رہی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 272 سے 274)
«محاقله» : کھڑی کھیتی کو پکنے سے پہلے بیچنا۔
«مزابنه» : کچی کھجور پکنے سے پہلے پکی کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔
«محاقله» : کھڑی کھیتی کو پکنے سے پہلے بیچنا۔
«مزابنه» : کچی کھجور پکنے سے پہلے پکی کھجور کے بدلے بیچنے کو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 275
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِذَا حَدَّثَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، أَوْ شِبْهَهُ، أَوْ شَكْلَهُ".
اسماعیل بن عبیداللہ نے کہا: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تو کہتے: «قال كذا أو نحوه أو شبهه أو شكله» (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح، اس جیسا یا اس کے معنی میں فرمایا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: إسماعيل بن عبيد الله المخزومي لم يدرك أبا الدرداء ومحمد بن كثير الثقفي الصنعاني ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 276] »
اس روایت میں دو خرابیاں ہیں، اسماعیل کا لقاء سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اور محمد بن کثیر ضعیف ہیں اور اس کو ابوزرعہ نے [تاريخ 1473] میں اور خطیب نے [الكفاية ص: 206] میں ذکر کیا ہے۔
اس روایت میں دو خرابیاں ہیں، اسماعیل کا لقاء سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اور محمد بن کثیر ضعیف ہیں اور اس کو ابوزرعہ نے [تاريخ 1473] میں اور خطیب نے [الكفاية ص: 206] میں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 276
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا، قَالَ: "اللَّهُمَّ إِلَّا هَكَذَا، أَوْ كَشَكْلِهِ".
ربیعہ بن یزید نے کہا: سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب کوئی حدیث بیان فرماتے تو کہتے: «اللهم إلا هكذا أو كشكله»، یعنی یہ حدیث ایسے یا اس کے مثل ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع: ربيعة بن يزيد لم يدرك أبا الدرداء، [مكتبه الشامله نمبر: 277] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں لیکن اس میں انقطاع ہے، ربیعہ نے بھی سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا نہیں، لہٰذا اس قول کی نسبت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف صحیح نہیں ہے۔ اور یہ روایت [تاريخ أبى زرعة 1484] ، [الكفاية ص: 205] ، [مجمع الزوائد 612] ، [تدريب الراوي 103/2] میں موجود ہے۔
اس روایت کے رجال ثقات ہیں لیکن اس میں انقطاع ہے، ربیعہ نے بھی سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا نہیں، لہٰذا اس قول کی نسبت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی طرف صحیح نہیں ہے۔ اور یہ روایت [تاريخ أبى زرعة 1484] ، [الكفاية ص: 205] ، [مجمع الزوائد 612] ، [تدريب الراوي 103/2] میں موجود ہے۔
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ:"كُنْتُ لَا تَفُوتُنِي عَشِيَّةُ خَمِيسٍ إِلَّا وَآتِي فِيهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ، قَطُّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، حَتَّى كَانَتْ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَاغْرَوْرَقَتَا عَيْنَاهُ وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُه، فَأَنَا رَأَيْتُهُ مَحْلُولَةً أَزْرَارُهُ، وَقَالَ: أَوْ مِثْلُهُ، أَوْ نَحْوُهُ، أَوْ شَبِيهٌ بِهِ".
عمرو بن میمون نے کہا کہ میں ہر جمعرات کی شام کو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آتا تھا۔ اور میں نے ان کو کبھی بھی قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے نہیں سنا، ایک شام انہوں نے قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا تو آنکھیں بھر آئیں، گردن کی رگیں پھول گئیں، میں نے دیکھا کرتے کے بٹن کھلے ہیں اور انہوں نے کہا: «مثله أو نحوه أو شبيه به» ۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 278] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 23] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6273] ، [المحدث الفاصل ص: 549]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 23] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6273] ، [المحدث الفاصل ص: 549]
وضاحت: (تشریح احادیث 274 سے 277)
یعنی مارے خوف اور ادب کے ان کا یہ حال تھا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور پھر آخر میں فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا، یا اس جیسا، یا اس کے مشابہ فرمایا، اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔
یعنی مارے خوف اور ادب کے ان کا یہ حال تھا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور پھر آخر میں فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا، یا اس جیسا، یا اس کے مشابہ فرمایا، اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 278
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَيَّامِ، تَرَبَّدَ وَجْهُهُ، وَقَالَ: "هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ، هَكَذَا أَوْ نَحْوَهُ".
امام شعبی اور امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہما نے روایت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایام کے بارے میں کوئی حدیث بیان کرتے تو ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور وہ کہتے: «هكذا أو نحوه، هكذا أونحوه» (یعنی اس طرح یا اس کے ہم معنی آپ نے فرمایا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه أشعث بن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 279] »
اس روایت کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن آگے صحیح سند سے آ رہی ہے۔
اس روایت کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن آگے صحیح سند سے آ رہی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 277)
ان تمام روایات سے صحابہ و تابعین کے احتیاط کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ کہ وہ ڈرتے تھے کہ یہ کہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور حقیقت میں ان کے حافظے میں کمی واقع ہوگئی ہو اور وہ ہلاکت میں پڑ جائیں، اس لئے وہ یہ کہنا پسند کرتے تھے کہ علقمہ یا عبداللہ نے یہ کہا، یا یہ کہ ایسا فرمایا، یا اس کے مثل یا مشابہ فرمایا، یا یہ کہتے تھے: «أو كما قال صلى اللّٰه عليه وسلم» ۔
ان تمام روایات سے صحابہ و تابعین کے احتیاط کا پتہ چلتا ہے، نیز یہ کہ وہ ڈرتے تھے کہ یہ کہیں کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور حقیقت میں ان کے حافظے میں کمی واقع ہوگئی ہو اور وہ ہلاکت میں پڑ جائیں، اس لئے وہ یہ کہنا پسند کرتے تھے کہ علقمہ یا عبداللہ نے یہ کہا، یا یہ کہ ایسا فرمایا، یا اس کے مثل یا مشابہ فرمایا، یا یہ کہتے تھے: «أو كما قال صلى اللّٰه عليه وسلم» ۔
حدیث نمبر: 279
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا تَوْبَةُ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ: "أَرَأَيْتَ فُلَانًا الَّذِي يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَعَدْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ سَنَتَيْنِ، أَوْ سَنَةً وَنِصْفًا، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ".
توبہ عنبری نے کہا کہ امام شعبی رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: تمہاری فلاں شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو کہتے رہتے ہیں قال رسول الله، قال رسول اللہ؟ میں تو (صحابی رسول) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس دو ڈیڑھ سال تک بیٹھا رہا اور ”اس حدیث“ کے علاوہ کبھی ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 280] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المصنف 6278] ، [المحدث الفاصل 739] ، [البيهقي 323/9]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المصنف 6278] ، [المحدث الفاصل 739] ، [البيهقي 323/9]
حدیث نمبر: 280
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: میں سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سال تک بیٹھتا رہا لیکن میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث ذکر کرتے نہیں سنا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 281] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 26] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6279] ، [المحدث الفاصل 739]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 26] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6279] ، [المحدث الفاصل 739]
حدیث نمبر: 281
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، "يُحَدِّثُنَا فِي الشَّهْرِ بِالْحَدِيثَيْنِ، أَوْ الثَّلَاثَةِ".
ثابت بن قطبہ انصاری نے کہا کہ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک مہینے میں دو یا تین حدیث بیان کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش، [مكتبه الشامله نمبر: 282] »
اس روایت کی سند حسن ہے، کسی اور جگہ یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس روایت کی سند حسن ہے، کسی اور جگہ یہ روایت نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 282
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: مَرَّ بِنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِبَعْضِ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: "وَأَتَحَلَّلُ".
عبدالملک بن عبید نے کہا کہ ہمارے پاس سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ گزرے تو ہم نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا اس میں سے کچھ بیان کیجئے، کہنے لگے «واتحلل» یعنی «أو كما قال» وغیرہ کہہ کر جائز کر لوں گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 283] »
اس کی سند جید ہے، تفصیل آگے آ رہی ہے۔
اس کی سند جید ہے، تفصیل آگے آ رہی ہے۔