سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب الْبَلاَغِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعْلِيمِ السُّنَنِ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
حدیث نمبر: 579
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ قَدِمَ الْبَصْرَةَ: "بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُعَلِّمُكُمْ كِتَابَ رَبِّكُمْ، وَسُنَّتَكُمْ، وَأُنَظِّفُ طُرُقَكُمْ".
حسن سے مروی ہے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ جب بصرہ تشریف لائے تو فرمایا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تم کو تمہارے رب کی کتاب اور تمہاری سنت کی تعلیم دوں، اور تمہارے راستے کو صاف کر دوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 579]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لعنعنة الحسن البصري، [مكتبه الشامله نمبر: 579] »
حسن بصری کے عنعنہ اور صالح بن رستم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبي شيبه 5974] ، لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے۔
حسن بصری کے عنعنہ اور صالح بن رستم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبي شيبه 5974] ، لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے۔
حدیث نمبر: 580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ سَخْبَرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى".
سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم کو طلب کیا تو جو کچھ گزر گیا اس کے لئے کفارہ ہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 580]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هذا إسناد فيه محمد بن حميد وهو ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 580] »
اس حدیث کی سند محمد بن حمید اور ابوداؤد نفیع بن الحارث کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2650]
اس حدیث کی سند محمد بن حمید اور ابوداؤد نفیع بن الحارث کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2650]
وضاحت: (تشریح احادیث 576 سے 580)
ان تمام احادیث و آثار میں علم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے اور عام کرنے کی ترغیب ہے، جو الباقيات الصالحات میں سے ہے۔
ان تمام احادیث و آثار میں علم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے اور عام کرنے کی ترغیب ہے، جو الباقيات الصالحات میں سے ہے۔