سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب الْبَلاَغِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَعْلِيمِ السُّنَنِ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
حدیث نمبر: 569
وَعَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:"مَنْ رَقَّ وَجْهُهُ، رَقَّ عِلْمُهُ"..
حفص بن عمر سے مروی ہے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے حیا کی اس کا علم رقیق ہوا (کمزور ہوا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 569] »
اس روایت میں حفص بن عمر الشامی مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ «و انفرد به الدارمي» ۔
اس روایت میں حفص بن عمر الشامی مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ «و انفرد به الدارمي» ۔
حدیث نمبر: 570
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا يَتَعَلَّمُ مَنْ اسْتَحْيَا وَاسْتَكْبَرَ".
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: جو شرم اور تکبر کرے، علم حاصل نہیں کر سکتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 570] »
اس قول کی سند ضعیف ہے، امام بخاری نے [كتاب العلم، باب الحياء فى العلم] میں تعلیقاً روایت کیا ہے اور ابونعیم نے [الحلية 287/3] ، خطیب نے [الفقيه 1008] ، سخاوی نے [المقاصد الحسنة 1318] میں ذکر کیا ہے۔
اس قول کی سند ضعیف ہے، امام بخاری نے [كتاب العلم، باب الحياء فى العلم] میں تعلیقاً روایت کیا ہے اور ابونعیم نے [الحلية 287/3] ، خطیب نے [الفقيه 1008] ، سخاوی نے [المقاصد الحسنة 1318] میں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 571
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَجْمَعُ بَنِيهِ، فَيَقُولُ:"يَا بَنِيَّ، تَعَلَّمُوا، فَإِنْ تَكُونُوا صِغَارَ قَوْمٍ، فَعَسَى أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ آخَرِينَ، وَمَا أَقْبَحَ عَلَى شَيْخٍ يُسْأَلُ لَيْسَ عِنْدَهُ عِلْمٌ".
ہشام بن عروہ نے کہا: ان کے والد اپنے بیٹوں کو جمع کر کے فرماتے تھے: بیٹو! علم حاصل کرو، اگر جماعت میں تم سب سے چھوٹے ہو تو آخر میں تم ہی کبھی دوسروں کے بڑے ہو گے، اور کتنا قبیح ہے وہ شیخ جس سے سوال کیا جائے اور اس کے پاس علم نہ ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 571] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 68] ، [المعرفة 551/1] ، [المقاصد الحسنة ص: 261] و [جامع بيان العلم 487]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 68] ، [المعرفة 551/1] ، [المقاصد الحسنة ص: 261] و [جامع بيان العلم 487]
حدیث نمبر: 572
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "يَضَعُ فِي رِجْلَيَّ الْكَبْلَ، وَيُعَلِّمُنِي الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ".
عکرمہ (مولی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پیر میں بیڑی لگا دیتے اور مجھے قرآن و سنت کی تعلیم دیتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 572] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ للفسوي 5/2] و [الفقيه 172]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ للفسوي 5/2] و [الفقيه 172]
حدیث نمبر: 573
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: "مَنْ تَرَأَّسَ سَرِيعًا، أَضَرَّ بِكَثِيرٍ مِنْ الْعِلْمِ، وَمَنْ لَمْ يَتَرَأَّسْ، طَلَبَ وَطَلَبَ حَتَّى يَبْلُغَ".
یحییٰ بن ضریس نے بیان کیا، میں نے سفیان کو سنا، فرماتے تھے: جو جلدی رئیس ہو گیا وہ بہت سے علم سے محروم رہ گیا، اور جو رئیس نہ ہوا تو وہ علم کی طلب میں رہا یہاں تک کہ بلند مقام کو پہنچا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 573] »
اس روایت کی سند میں محمد بن حمید ضعیف ہے۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1670] میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے، لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند میں محمد بن حمید ضعیف ہے۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1670] میں اس کے ہم معنی روایت موجود ہے، لیکن وہ بھی ضعیف ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 558 سے 573)
غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ تھوڑا علم حاصل کر کے جو شخص مسندِ درس لگائے وہ بہت سا علم حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا، اس لیے پہلے خوب علم حاصل کرنا چاہیے اور پھر مسندِ درس پر بیٹھے۔
واللہ اعلم
غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ تھوڑا علم حاصل کر کے جو شخص مسندِ درس لگائے وہ بہت سا علم حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا، اس لیے پہلے خوب علم حاصل کرنا چاہیے اور پھر مسندِ درس پر بیٹھے۔
واللہ اعلم
حدیث نمبر: 574
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "عِلْمٌ لَا يُقَالُ بِهِ , كَكَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ".
حصین بن عقبہ سے مروی ہے، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس علم کو پھیلایا نہ جائے وہ اس خزانے کی طرح ہے جسے خرچ نہ کیا جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 574] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 16514] و [العلم 12]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 16514] و [العلم 12]
حدیث نمبر: 575
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ، كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس علم کی مثال جس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ایسے خزانے کی ہے جس سے اللہ کے راستے میں خرچ نہ کیا جائے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مسلم الهجري، [مكتبه الشامله نمبر: 575] »
ابراہیم بن مسلم ہجری کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 449/2] ، [مسند البزار 176] ، [العلم 162] ، [المعجم الأوسط 693] ، [مجمع البحرين 229] ان روایات میں بعض سے بعض کو تقویت ملتی ہے۔
ابراہیم بن مسلم ہجری کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 449/2] ، [مسند البزار 176] ، [العلم 162] ، [المعجم الأوسط 693] ، [مجمع البحرين 229] ان روایات میں بعض سے بعض کو تقویت ملتی ہے۔
حدیث نمبر: 576
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَمِّهِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "إِنَّ الْعِلْمَ كَالْيَنَابِيعِ يَغْشَاهُنَّ النَّاسُ، فَيَخْتَلِجُهُ هَذَا وَهَذَا، فَيَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّ حِكْمَةً لَا يُتَكَلَّمُ بِهَا كَجَسَدٍ لَا رُوحَ فِيهِ، وَإِنَّ عِلْمًا لَا يُخْرَجُ كَكَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْعَالِمِ كَمَثَلِ رَجُلٍ حَمَلَ سِرَاجًا فِي طَرِيقٍ مُظْلِمٍ يَسْتَضِيءُ بِهِ مَنْ مَرَّ بِهِ، وَكُلٌّ يَدْعُو لَهُ بِالْخَيْرِ".
محمد بن اسحاق نے اپنے چچا موسیٰ بن یسار سے بیان کیا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو لکھا: علم چشموں کی طرح ہے جس پر لوگ وارد ہوتے ہیں، اور وہ سب اس کو کھنگالتے ہیں، اور کئی آدمی اس سے مستفید ہوتے ہیں، اور وہ حدیث حکمت جس کی تبلیغ نہ کی جائے اس جسم کے مانند ہے جس میں روح نہ ہو، اور وہ علم جو پھیلایا نہ جائے اس خزانے کے مانند ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے، عالم کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے اندھیرے راستے میں چراغ رکھ دیا، جس سے ہر گزرنے والے کو روشنی ملتی ہے، اور ہر آدمی اس کے لئے دعائے خیر کرتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 576]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ابن إسحاق قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 576] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ابن اسحاق مدلس اور موسیٰ و سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبي شيبه 16515]
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ابن اسحاق مدلس اور موسیٰ و سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبي شيبه 16515]
وضاحت: (تشریح احادیث 573 سے 576)
«اختلج يختلج» کسی چیز کو کھینچ کر نکالنا۔
«اختلج يختلج» کسی چیز کو کھینچ کر نکالنا۔
حدیث نمبر: 577
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يَتْبَعُ الرَّجُلَ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلَاثُ خِلَالٍ: صَدَقَةٌ تَجْرِي بَعْدَهُ، وَصَلَاةُ وَلَدِهِ عَلَيْهِ، وَعِلْمٌ أَفْشَاهُ يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ".
ابراہیم نے فرمایا: آدمی اپنی موت کے بعد تین چیزیں چھوڑ جاتا ہے، صدقہ جاریہ، اولاد کی اس کے لئے دعا اور علم جس کو پھیلایا اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 577] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور ابراہیم پر موقوف ہے، کہیں اور یہ روایت ان سے نہ مل سکی، لیکن یہ الفاظ صحیح حدیث کے ہم معنی ہیں جو آگے آرہی ہے۔
اس قول کی سند صحیح ہے، اور ابراہیم پر موقوف ہے، کہیں اور یہ روایت ان سے نہ مل سکی، لیکن یہ الفاظ صحیح حدیث کے ہم معنی ہیں جو آگے آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ صَدَقَةٍ تَجْرِي لَهُ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے، وہ علم جس سے انتفاع کیا جائے، یا وہ صدقہ جو اس کے لئے جاری رہے، یا وہ صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 578]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 578] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1631] ، [مسند أبى يعلی 6457] ، [صحيح ابن حبان 3016] ، [الكنى للدولابي 190/1] ، [شرح السنة للبغوي 139] و [معرفة السنن والآثار للبيهقي 12865]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 1631] ، [مسند أبى يعلی 6457] ، [صحيح ابن حبان 3016] ، [الكنى للدولابي 190/1] ، [شرح السنة للبغوي 139] و [معرفة السنن والآثار للبيهقي 12865]