🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

94. باب الْكُدْرَةِ إِذَا كَانَتْ بَعْدَ الْحَيْضِ:
مٹیالا رنگ حیض کے بعد آئے تو اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 890
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الدَّمَ فِي أَيَّامِ طُهْرِهَا، قَالَ: "أَرَى أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ"..
امام حسن رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں کہا جو طہر کے ایام میں خون دیکھے، فرمایا: میری رائے میں غسل کر کے نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 890]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 894] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 94/1]
وضاحت: (تشریح حدیث 889)
یعنی یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 891
وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: "لَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ بِالْكُدْرَةِ وَالصُّفْرَةِ بَأْسًا"..
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: صفرۃ و کدرۃ میں لوگ کوئی برائی سمجھتے نہ تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 895] »
اس قول کی یہ سند صحیح ہے۔ حوالہ گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف 93/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ، قَالَ: "تِلْكَ التَّرِيَّةُ تَغْسِلُهُ وَتَوَضَّأُ وَتُصَلِّي".
محمد بن الحنفيۃ نے اس عورت کے بارے میں کہا جس کو طہر (پاکی) کے بعد زردی دکھائی دے کہ یہ تریہ (یعنی تری، رطوبت) ہے، اس کو وہ دھو لے وضو کرے اور نماز پڑھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 896] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ مصنف ابن أبى شيبه 93/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 890 سے 892)
«ترية» غالباً اردو کی تری سے ہے یعنی رطوبت۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 893
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ وَحَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَيْسَ فِي التَّرِيَّةِ شَيْءٌ بَعْدَ الْغُسْلِ إِلَّا الطُّهُورُ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: التَّرِيَّةُ الصُّفْرَةُ وَالْكُدْرَةُ.
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: غسل کے بعد تریہ میں طہور کے سوا کچھ نہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تریہ سے مراد: صفرۃ و کدرة ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 893]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 897] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابونعیم کا نام فضل بن دکین اور حجاج: ابن منہال ہیں، دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 94/1] و [بيهقي 336/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الْمَرْأَةُ التَّرِيَّةَ بَعْدَ الْغُسْلِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطَهَّرُ وَتُصَلِّي".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہانے کے ایک یا دو دن کے بعد عورت تری محسوس کرے تو وہ صفائی کر کے نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف حجاج هو: ابن أرطاة وهو ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 898] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے، نیز حارث الاعور بھی متکلم فیہ ہے۔ عبدالرزاق نے [مصنف 1161] میں لمبے سیاق سے یہ روایت نقل کی ہے، اسی طرح ابن ابی شیبہ نے بھی [المصنف 93/1] میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 895
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "لَيْسَ فِي التَّرِيَّةِ بَعْدَ الْغُسْلِ إِلَّا الطُّهُورُ".
عطاء نے فرمایا: غسل کے بعد تری میں سوائے صفائی کے اور کچھ نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 899] »
اس قول کی یہ سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 94/1] ۔ نیز آگے آنے والی اثر رقم (901)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 896
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَكَانَتْ قَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "كُنَّا لَا نَعْتَدُّ بِالْكُدْرَةِ وَالصُّفْرَةِ بَعْدَ الْغُسْلِ شَيْئًا".
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہوں نے کہا: غسل کے بعد ہم صفرۃ و کدرۃ کی کچھ پرواہ نہیں کرتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 900] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حماد: ابن سلمہ اور ام ہذیل: حفصہ بنت سیرین ہیں، حوالہ دیکھئے: [المستدرك 174/1] ، [أبوداؤد 307] ، نیز یہ حدیث (889) پر گزر چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 892 سے 896)
صحابی یا صحابیہ جب یہ کہیں کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے تو یہ قواعدِ حدیث کے مطابق مرفوع مانا جاتا ہے۔
اس کا مطلب ہوا حیض رک جانے اور غسل کر لینے کے بعد جو رطوبت خارج ہو وہ مانع صلاۃ نہ ہوگی، عورت وضو کر کے نماز پڑھے گی۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الْحَائِضُ دَمًا عَبِيطًا بَعْدَ الْغُسْلِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، فَإِنَّهَا تُمْسِكُ عَنْ الصَّلَاةِ يَوْمًا، ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مُسْتَحَاضَةٌ".
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: حیض والی عورت نہانے کے ایک یا دو دن بعد اگر جما ہوا تازہ خون دیکھے تو ایک دن اور نماز نہ پڑھے، اس کے بعد وہ مستحاضہ مانی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 901] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال اور حماد: ابن سلمہ و یونس: ابن عبید ہیں، کہیں اور یہ روایت نہ مل سکی۔ بعض نسخ میں «تريا غليظا» کی جگہ «دما عبيطا» ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 898
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا تَطَهَّرَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْمَحِيضِ، ثُمَّ رَأَتْ بَعْدَ الطُّهْرِ مَا يَرِيبُهَا، فَإِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فِي الرَّحِمِ، فَإِذَا رَأَتْ مِثْلَ الرُّعَافِ، أَوْ قَطْرَةِ الدَّمِ، أَوْ غُسَالَةِ اللَّحْمِ، تَوَضَّأَتْ وُضُوءَهَا لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُصَلِّي فَإِنْ كَانَ دَمًا عَبِيطًا الَّذِي لَا خَفَاءَ بِهِ، فَلْتَدَعْ الصَّلَاةَ" , قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ:"إِذَا كَانَ أَيَّامُ الْمَرْأَةِ سَبْعَةً، فَرَأَتْ الطُّهْرَ بَيَاضًا، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَشْرِ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ صَحِيحٌ، فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ دُونَ السَّبْعِ، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ، فَلَا يَجُوزُ، وَهُوَ حَيْضٌ"، وسُئِلَ عَبْد اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت جب حیض سے پاک ہو جائے، پھر پاکی کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، تو یہ رحم میں شیطان کی حرکت ہے، پس جب نکسیر کی طرح کا یا خون کا دھبہ یا گوشت کی دھوون جیسی کوئی چیز دیکھے تو نماز کا وضو کر لے اور نماز پڑھ لے، اور اگر تازہ خون دیکھے جس میں شک و شبہ نہ ہو تو نماز ترک کر دے (یعنی اسے حیض کا خون شمار کرے)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا: اگر عورت کی مدت حیض سات دن ہو اور وہ طہر کی سفیدی دیکھ لے پھر شادی کر لے، اور پھر اس 7 یوم کی مدت سے دس دن کے اندر خون دیکھے تو اس کا نکاح جائز و صحیح ہے۔ اور اگر سات دن سے کم میں پاک ہو گئی اور شادی کر لی، پھر خون آ گیا تو اس کا نکاح صحیح و جائز نہیں، وہ حیض کا خون ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل الحارث الأعور، [مكتبه الشامله نمبر: 902] »
حارث الاعور کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 93/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 896 سے 898)
یعنی آخری حیض کے سات دن پورے ہونے پر اس کی عدت پوری ہوگئی، لہٰذا نکاح جائز ہے اور خونِ استحاضہ مانا جائے گا، اور سات دن سے کم مدت میں خون رک کر پھر آ گیا تو وہ حیض کا خون ہے، لہٰذا عدت پوری نہیں ہوئی اس لئے نکاح جائز نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 899
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَرْأَةِ "يَكُونُ حَيْضُهَا سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ تَرَى كُدْرَةً أَوْ صُفْرَةً، أَوْ تَرَى الْقَطْرَةَ أَوْ الْقَطْرَتَيْنِ مِنْ الدَّمِ، أَنَّ ذَلِكَ بَاطِلٌ وَلَا يَضُرُّهَا شَيْءٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی عورت کے بارے میں مروی ہے جس کی مدت حیض چھ یا سات دن ہو، پھر وہ صفرہ یا کدرہ یا ایک قطره یا دو قطرے خون کے دیکھے تو یہ بے کار ہے اور اس میں کوئی مضرت نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف شريك متأخر السماع من أبي إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 903] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، کیونکہ شریک کا سماع ابواسحاق سے بہت تاخیر سے ہوا۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (894)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں