🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. باب إِذَا اخْتَلَطَتْ عَلَى الْمَرْأَةِ أَيَّامُ حَيْضِهَا في أَيَّامِ اسْتِحَاضَتِهَا:
عورت کے حیض اور استحاضہ کے ایام گڈمڈ ہو جائیں تو کیا کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 937
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ الْكُوفِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: "عَلَيْكِ بِالْمَاءِ فَانْضَحِيهِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ الدَّمَ عَنْكِ".
ایک عورت نے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مجھے خون جاری رہتا ہے۔ تو انہوں نے کہا: پانی چھڑک لیا کرو، وہ تم سے خون کو روک دے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 937]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 941] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 938
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُطَلَّقَةِ الَّتِي ارْتِيبَ بِهَا "تَرَبَّصُ سَنَةً، فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا تَرَبَّصَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا فَقَدْ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا".
امام حسن رحمہ اللہ سے اس مطلقہ کے بارے میں مروی ہے جس کے حیض کا پتہ نہ چل سکے (یعنی آتا ہے یا رک گیا ہے)، انہوں نے کہا: پورے سال وہ انتظار کرے گی، حیض آیا تو ٹھیک ورنہ ایک سال کے بعد تین مہینے عدت گزارے گی، پھر حیض آیا تو ٹھیک ہے، نہیں آیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 942] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 11098]
وضاحت: (تشریح احادیث 932 سے 938)
مطلب یہ ہے کہ حیض رک گیا ہے اور طلاق ہوگئی تو ایک سال تک حیض کا انتظار کرے گی، اور پھر تین مہینے عدت کے گذارے گی، ان تین مہینوں کے اندر حیض آجائے تو حیض کے حساب سے عدت گذارے گی، اور تین ماہ کے دوران پھر حیض رک جائے تو تین مہینے گزار لے تو اس کی عدت پوری مانی جائے گی۔
جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں تفصیلاً ذکر ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 939
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ عِدَّةِ الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا طُلِّقَتْ، فَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: "عِدَّتُهَا سَنَةٌ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هُوَ قَوْلُ مَالِكٍ.
امام مالک رحمہ اللہ سے مستحاضہ کی طلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ابن شہاب (زہری) عن سعید بن المسیب رحمہما اللہ سے نقل کیا کہ اس کی عدت ایک سال ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 939]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 943] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ الموطا الطلاق 71] ، [ابن أبى شيبه 158/5] ، نیز رقم (944)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 940
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ وَهِيَ الشَّابَّةٌ فترتفع حيضتها من غير كبر، قَالَ: "مِنْ غَيْرِ حَيْضٍ تَحَيَّضُ؟!"، وَقَالَ طَاوُسٌ:"ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ".
عمرو بن دینار نے کہا: جابر بن زید سے ایسی نوجوان لڑکی کی طلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا، بنا کبر سنی کے جس کا حیض رک گیا ہو، (اس کی عدت کیا ہو گی؟) تو انہوں نے فرمایا: بنا حیض کے حیض کی طرح کی مدت گزارے گی۔ امام طاؤوس رحمہ اللہ نے (وضاحت کی) فرمایا: تین مہینے عدت گزارے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 940]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 944] »
اس روایت کی سند تو صحیح ہے، لیکن جابر کا قول اور کہیں نہیں مل سکا، طاؤوس کا قول البتہ اسی سند سے [مصنف عبدالرزاق 11122] میں موجود ہے جو صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 941
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ، ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا إِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ كِبَرٍ، اعْتَدَّتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، وَإِنْ كَانَتْ شَابَّةً وَارْتَابَتْ، اعْتَدَّتْ سَنَةً بَعْدَ الرِّيبَةِ".
معمر سے مروی ہے امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور ایک یا دو مرتبہ حیض آنے کے بعد رک جائے، اور یہ رکاوٹ زیادہ عمر کی وجہ سے ہو تو تین مہینے عدت کے پورے کرے گی، اور کم عمر ہے اور شبہ میں پڑ گئی تو شک پڑنے کے بعد ایک سال تک عدت گزارے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 941]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 945] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 11097] و [تفسير طبري 140/28]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 942
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ وَالَّتِي لَا يَسْتَقِيمُ لَهَا حَيْضٌ فَتَحِيضُ فِي شَهْرٍ مَرَّةً وَفِي الشَّهْرِ مَرَّتَيْنِ، عِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ".
قتادہ سے مروی ہے: عکرمہ (مولى سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: مستحاضہ اور وہ عورت جس کا حیض برقرار نہ رہے، کبھی مہینے میں ایک بار کبھی دو بار حیض آئے، اس کی عدت تین مہینے ہو گی (یعنی طلاق کی عدت)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 942]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 946] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 11123] و [تفسير طبري 141/28] و [ مصنف ابن أبى شيبه 158/5 -159]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 943
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: "تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ".
ہشام سے مروی ہے حماد نے کہا: وہ تین قروء (یعنی تین حیض) عدت گزارے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 943]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 947] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 158/5]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: "عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ".
سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ کی عدت ایک سال ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 944]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 948] »
یہ اثر صحیح ہے، اور اثر رقم (939) پر گزر چکا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 945
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ".
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ حیض کے حساب سے عدت گزارے گی، یعنی اگر اسے طلاق دے دی جائے تو تین قروء عدت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 945]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه هشيم وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 949] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ ابن ابی شیبہ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [المصنف 158/5] و [مسند أبى يعلی الموصلي 3111]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 946
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "بِالْأَقْرَاءِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَهْلُ الْحِجَازِ، يَقُولُونَ:"الْأَقْرَاءُ: الْأَطْهَارُ"، وَقَالَ أَهْلُ الْعِرَاقِ: هُوَ الْحَيْضُ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَأَنَا أَقُولُ:"هُوَ الْحَيْضُ".
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: اقراء (یعنی حیض یا طہر کے حساب) سے عدت گزارے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل حجاز اقراء سے مراد طہر پاکی کی حالت کو لیتے ہیں، اور اہل عراق نے اس سے مراد حیض (کی حالت و مدت) کو لیا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اور میرے نزدیک وہ حیض ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 950] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 128/5]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں