سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب إِذَا اخْتَلَطَتْ عَلَى الْمَرْأَةِ أَيَّامُ حَيْضِهَا في أَيَّامِ اسْتِحَاضَتِهَا:
عورت کے حیض اور استحاضہ کے ایام گڈمڈ ہو جائیں تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 947
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ".
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ اقراء کے حساب سے عدت گزارے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 951] »
یعنی تین ماہ عدت گذارے گی، اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 11127] ، نیز اثر رقم (945)۔
یعنی تین ماہ عدت گذارے گی، اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 11127] ، نیز اثر رقم (945)۔
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، عَنْ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ شَابَّةٌ تَحِيضُ، فَانْقَطَعَ عَنْهَا الْمَحِيضُ حِينَ طَلَّقَهَا، فَلَمْ تَرَ دَمًا، كَمْ تَعْتَدُّ؟، قَالَ: "ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ"..
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے (ابن شہاب) زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا ایسے آدمی کے بارے میں جس نے اپنی جوان بیوی کو طلاق دی، اسے حیض آتا تھا لیکن طلاق کے وقت حیض کا آنا بند ہو گیا، اور اس نے خون دیکھا ہی نہیں، تو اس کی عدت کتنی ہو گی؟ فرمایا: تین مہینے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أسانيدها جيده، [مكتبه الشامله نمبر: 952] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
اس روایت کی سند جید ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
حدیث نمبر: 949
قَالَ: وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا، كَمْ تَرَبَّصُ؟، قَالَ:"عِدَّتُهَا سَنَةٌ"..
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: اور میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا کہ ایک آدمی نے اپنی عورت کو طلاق دی، اسے دوبار حیض آیا پھر رک گیا تو کتنے دن عدت گزارے گی؟ فرمایا: اس کی عدت ایک سال ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 953] »
اس قول کی سند جید مثل سابق ہے۔
اس قول کی سند جید مثل سابق ہے۔
حدیث نمبر: 950
قَالَ: وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تَحِيضُ، تَمْكُثُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ تَحِيضُ حَيْضَةً، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ عَنْهَا الْحَيْضُ، ثُمَّ تَمْكُثُ السَّبْعَةَ الْأَشْهُرَ وَالثَّمَانِيَةَ، ثُمَّ تَحِيضُ أُخْرَى تَسْتَعْجِلُ إِلَيْهَا مَرَّةً وَتَسْتَأْخِرُ أُخْرَى، كَيْفَ تَعْتَدُّ؟، قَالَ:"إِذَا اخْتَلَفَتْ حِيضَتُهَا عَنْ أَقْرَائِهَا فَعِدَّتُهَا سَنَةٌ"..
نیز فرمایا: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا: ایک آدمی نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جسے حیض آتا تھا، وہ تین مہینے تک رکی رہی (یعنی حیض نہ آیا) پر ایک بار حیض آ گیا، پھر (ایک بار آ کر) حیض رک گیا اور سات آٹھ مہینے تک وہ بیٹھی رہی (حیض نہ آیا)، پھر دوسری بار حیض آ گیا، پہلی بار جلدی آ گیا، دوسری بار بہت دیر سے حیض آیا، تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟ فرمایا: اس کا حیض وقت مقررہ میں الٹ پلٹ کر آیا تو اس کی ایک سال کی عدت ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: ] »
اس قول کی سند جید ہے۔ «و انفرد به الدارمي» ۔
اس قول کی سند جید ہے۔ «و انفرد به الدارمي» ۔
حدیث نمبر: 951
قُلْتُ: وَكَيْفَ إِنْ كَانَ طَلَّقَ وَهِيَ تَحِيضُ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً كَمْ تَعْتَدُّ؟، قَالَ:"إِنْ كَانَتْ تَحِيضُ أَقْرَاؤُهَا مَعْلُومَةٌ هِيَ أَقْرَاؤُهَا، فَإِنَّا نُرَى أَنْ تَعْتَدَّ أَقْرَاءَهَا".
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: اگر طلاق ہو جائے اور ہر سال میں ایک بار حیض آئے، تب عدت کتنی ہو گی؟ فرمایا: اگر اس کو وقت مقررہ پر حیض اور طہر ہوتا تھا، تو ہماری رائے میں وہ مدت حیض کی عدت گزارے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 955] »
اس قول کی سند مثل سابق اور جید ہے۔
اس قول کی سند مثل سابق اور جید ہے۔
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ لَمْ تَبْلُغْ الْمَحِيضَ وَلَا تَحْمِلُ مِثْلُهَا، بِكَمْ يَسْتَبْرِئُهَا؟، قَالَ: "بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ"..
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آدمی نابالغ لونڈی خریدے، جس کے مثل حاملہ نہ ہو سکے تو اس کے استبراء رحم کی مدت کیا ہو گی؟ فرمایا: تین مہینے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 956] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور (1212) رقم پر آ رہی ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور (1212) رقم پر آ رہی ہے۔
حدیث نمبر: 953
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: "بِخَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا".
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: پینتالیس دن کی مدت ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 957] »
اس قول کی سند حسبِ سابق ہے، اور اثر تم (1213) پر آرہی ہے۔
اس قول کی سند حسبِ سابق ہے، اور اثر تم (1213) پر آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 954
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کرے گی، پھر نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أسانيدها صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 958] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابن ابی شیبہ نے [ابن أبى شيبه 127/1] میں بسند منقطع اس کو ذکر کیا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ ابن ابی شیبہ نے [ابن أبى شيبه 127/1] میں بسند منقطع اس کو ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 955
وَقَالَ حَمَّادٌ: "لَوْ أَنَّ مُسْتَحَاضَةً جَهِلَتْ فَتَرَكَتْ الصَّلَاةَ أَشْهُرًا، فَإِنَّهَا تَقْضِي تِلْكَ الصَّلَوَاتِ، قِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ تَقْضِيهَا؟، قَالَ: تَقْضِيهَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ إِنْ اسْتَطَاعَتْ"، قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ؟، قَالَ: إِي وَاللَّهِ.
حماد نے کہا: مستحاضہ عورت جہل کی وجہ سے کئی مہینے نماز نہ پڑھے، تو وہ ان تمام نمازوں کی قضا کرے گی، عرض کیا گیا: کیسے قضاء کرے گی؟ کہا کہ طاقت ہو تو ایک ہی دن میں ساری نمازیں قضا کی ادا کر لے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: «أي والله» (ہاں والله میں بھی یہی کہتا ہوں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 960] »
اس قول کی سند حسبِ سابق صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہ مل سکی۔
اس قول کی سند حسبِ سابق صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہ مل سکی۔
وضاحت: (تشریح احادیث 938 سے 955)
اس باب میں امام دارمی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کے حیض اور استحاضہ کے ایام خلط ملط ہو جائیں اس کے احکام اور مسائل احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوالِ ائمہ سے بیان کئے ہیں۔
931 سے 940 نمبر تک اس کا بیان ہے کہ مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی یا نہیں؟ اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ مشقت نہ ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کر لے، ورنہ ظہر، عصر کے لئے ایک بار، اور مغرب و عشاء کے لئے ایک بار، اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
دوسرا مسئلہ ایسی عورت کی عدت کا ہے، مستحاضہ عورت کو اگر طلاق ہو جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے، اور اس کا خون رکتا نہ ہو تو عدت کتنی گزارے گی؟ اس بارے میں صحیح یہ ہے کہ ایسی عورت تین مہینے عدت گذارے گی، اور اگر مطلقہ عورت کا حیض رک گیا ہے تو وہ ایک سال کی مدت گذارے گی، نو مہینے استبراء کے اور تین مہینے عدت کے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [فقه السنة: 331/2] ۔
اس باب میں امام دارمی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کے حیض اور استحاضہ کے ایام خلط ملط ہو جائیں اس کے احکام اور مسائل احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوالِ ائمہ سے بیان کئے ہیں۔
931 سے 940 نمبر تک اس کا بیان ہے کہ مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی یا نہیں؟ اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ مشقت نہ ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کر لے، ورنہ ظہر، عصر کے لئے ایک بار، اور مغرب و عشاء کے لئے ایک بار، اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
دوسرا مسئلہ ایسی عورت کی عدت کا ہے، مستحاضہ عورت کو اگر طلاق ہو جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے، اور اس کا خون رکتا نہ ہو تو عدت کتنی گزارے گی؟ اس بارے میں صحیح یہ ہے کہ ایسی عورت تین مہینے عدت گذارے گی، اور اگر مطلقہ عورت کا حیض رک گیا ہے تو وہ ایک سال کی مدت گذارے گی، نو مہینے استبراء کے اور تین مہینے عدت کے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [فقه السنة: 331/2] ۔