🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

134. باب كَرَاهِيَةِ الاِلْتِفَاتِ في الصَّلاَةِ:
نماز میں اِدھر اُدھر التفات مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1461
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَزَالُ اللَّهُ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ، انْصَرَفَ عَنْهُ".
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک کہ اِدھر اُدھر التفات نہ کرے، جب اپنے چہرے کو نمازی موڑتا ہے تو الله تعالیٰ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 1463] »
یہ روایت اس سند سے عبدالله بن صالح اور ابوالاحوص کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔ دیکھئے: [أحمد 175/5] ، [أبوداؤد 909] ، [نسائي 1194] ، [مجمع الزوائد 245، 2453]
وضاحت: (تشریح حدیث 1460)
اس حدیث سے نماز میں اِدھر اُدھر التفات کرنے اور دیکھنے کی ممانعت ہے۔
التفات دو طرح سے ہو سکتا ہے۔
نظر گھما کر اِدھر اُدھر دیکھنا تو اس کی احادیث کی روشنی میں گنجائش ہے، اور فرض نماز میں یہ بھی نہ ہو تو بہتر ہے، اور گردن موڑ کر اِدھر اُدھر دیکھنا یہ منع ہے کیونکہ نماز میں انسان کو یکسو ہو کر سجدے کی طرف نظر رکھنی چاہیے تاکہ دھیان اِدھر اُدھر نہ بنے اور خشوع و خضوع برقرار رہے جو نماز کیلئے اشد ضروری ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں