🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب في تَفْسِيرِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}:
«فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ» کی تفسیر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1772
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، قَالَ: "كَانَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ، فَعَلَ، حَتَّى نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا، فَنَسَخَتْهَا".
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت ”جو لوگ روزے کی طاقت رکھتے ہوں تو بھی ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں“، [بقرة: 184/2] نازل ہوئی تو ہم میں جس کا جی چاہتا روزہ نہ رکھتا وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ یہ حکم نازل ہوا «فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ» یعنی ”جو رمضان کا مہینہ پا لے وہ روزہ رکھے“، [البقرة: 185/2] اور جو اختیار پہلے تھا (روزہ نہ رکھنے کا) وہ منسوخ ہو گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1775] »
اس سند سے یہ روایت ضعیف ہے، لیکن یہی لفظ دوسرے طرق سے مروی صحیح اورمتفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4506] ، [مسلم 1145] ، [أبوداؤد 2315] ، [ترمذي 798] ، [نسائي 2315] ، [ابن حبان 3478، 3624]
وضاحت: (تشریح حدیث 1771)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اب سب کو روزہ رکھنا ضروری ہے سوائے مسافر اور مریض، حائضہ اور نفاس والی عورت کے، ان کے لئے اجازت ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھیں بعد میں اس کی قضا کر لیں، بعض علماء نے کہا کہ پہلی آیت منسوخ نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ پہلے روزے کی طاقت رکھتے تھے لیکن اب بے طاقت ہوگئے جیسے (بوڑھا اور مریض وغیرہ) ان کو اختیار ہے فدیہ دیں یا روزہ رکھیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں