🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

68. باب في النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الأَمْوَاتِ:
مُردوں کو برا کہنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مُردوں کو برا مت کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2553] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1393] ، [نسائي 1935] ، [ابن حبان 3021] ، [موارد الظمآن 1985]
وضاحت: (تشریح حدیث 2546)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں ان کی برائی نہیں کرنی چاہیے، مرنے کے بعد انہیں برا کہنا، ان کے عیب بیان کرنا، ان کے عزیزوں کو ایذا دینا ہے، جبکہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ حکم ہے: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے اس کے مسلمان بھائی محفوظ رہیں۔
یہ حدیث آگے (2751) نمبر پر آ رہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں