🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

52. باب مَا جَاءَ في التَّشْدِيدِ في الدَّيْنِ:
قرض پر سخت سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی جان جب تک اس پر قرض ہے معلق رہے گی۔
یعنی: جنت میں داخل نہ ہونے پائے گی یا یہ کہ اس کو آرام نہ ملے گا، لٹکی رہے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2627]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عمر بن أبي سلمة ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2633] »
عمر بن ابی سلمہ کی وجہ سے اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1078] ، [ابن ماجه 2413] ، [أبويعلی 5898] ، [ابن حبان 3061] ، [موارد الظمآن 1158]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2628
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ: مِنَ الْكِبْرِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ".
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی روح بدن سے جدا ہو اور وہ تین چیزوں سے پاک ہو تو جنت میں جائے گا: تکبر، چوری، اور قرض سے۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2628]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2634] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1573] ، [ابن ماجه 2412] ، [نسائي فى الكبرىٰ 8764] ، [أحمد 281/5] ، [الحاكم 26/2]
وضاحت: (تشریح احادیث 2626 سے 2628)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تکبر کرنے والا، خیانت یا چوری کرنے والا، اور قرض دار جنّت میں نہ جائے گا، اور اگر کسی بندے میں یہ تین چیزیں نہ ہوں تو وہ جنّت میں ضرور جائے گا بشرطیکہ شرک میں مبتلا نہ ہوا ہو، کیونکہ شرک ایسا گناہ ہے جو بلا توبہ کبھی معاف نہ ہوگا، اور جس شخص کے اعمال میں کبائر کا ارتکاب ہو وہ جہنم میں اپنی سزا پانے کے بعد ضرور جنّت میں جائے گا، جیسا کہ حدیث میں ہے: «مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيْمَانِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں