🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب في زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ وَامْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ:
شوہر کے ساتھ ماں باپ، اور بیوی کے ساتھ ماں باپ کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2909
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "أَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَتَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ لِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِي؟ فَقَالَ زَيْدٌ: إِنَّمَا أَنْتَ رَجُلٌ تَقُولُ بِرَأْيِكَ، وَأَنَا رَجُلٌ أَقُولُ بِرَأْيِي".
عکرمہ نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ تم اللہ کی کتاب (قرآن پاک) میں ماں کے لئے جو بچ جائے اس کا ثلث پاتے ہو؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ بھی آدمی ہیں، اپنی رائے سے اس بارے میں فتویٰ دیتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں اپنی رائے سے کہتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحكم هو: ابن عتيبة، [مكتبه الشامله نمبر: 2917] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11110] ، [عبدالرزاق 19020] ، [البيهقي 228/6] و [المحلی 260/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحكم هو: ابن عتيبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2910
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، وَحَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُمَا قَالَا فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ: "لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ".
عطاء رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں نے خاوند کے ساتھ ماں باپ کے مسئلہ میں کہا: خاوند کو نصف اور ماں کے لئے کل مال کا ثلث اور جو بچے وہ باپ کا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2910]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2918] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ ابن حزم نے [المحلی 260/9] میں عبدالرزاق سے صحیح سند سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2908 سے 2910)
یعنی کل مال کے چھ حصے، تین حصے شوہر کے، دو ماں کے ایک تہائی کل مال کا، اور ایک حصہ باپ کا۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "لِلْأُمِّ ثُلُثُ جَمِيعِ الْمَالِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ، وَفِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (اس مسئلہ میں) کہا: ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی ہے چاہے بیوی کے ساتھ ماں باپ ہوں یا شوہر کے ساتھ ماں باپ ہوں۔
یعنی: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی انہوں نے اس مسئلہ میں تائید کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع إبراهيم بن يزيد النخعي لم يدرك عليا، [مكتبه الشامله نمبر: 2919] »
اس روایت کی سند منقطع ہے کیوں کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [المحلى 260/9]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده منقطع إبراهيم بن يزيد النخعي لم يدرك عليا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: خَالَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَهْلَ الْقِبْلَةِ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: "جَعَلَ لِلْأُمِّ الثُّلُثَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: بیوی اور ماں باپ کے مسئلہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اہلِ قبلہ کی مخالفت کی ہے کیوں کہ انہوں نے ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی حصہ قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 2920] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11105] ، [عبدالرزاق 19018] ، [الفسوى فى المعرفة 109/3] ، [البيهقي فى الفرائض 228/6] و [ابن حزم فى المحلی 260/9] ۔ اور اس پر انہوں نے شدید انکار کیا جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مخالف ذکر کیا، انہوں نے ثوری عن رجل عن فضیل سے اس کو روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2910 سے 2912)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ماں کے لئے کل مال کا ایک تہائی حصہ خاص کیا۔
دیگر تمام صحابہ و تابعین اس مسئلہ میں بیوی یا شوہر کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی ماں کے لئے قرار دیتے ہیں، اور جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اثر گذرا ہے یہ مسألہ اجتہادی تھا، اس لئے کسی نے کل مال کا ایک تہائی ماں کے لئے خاص کیا اور کسی نے دونوں کے حصے کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی خاص کیا، اس مسئلہ کو مسئلۂ عمریہ کہتے ہیں اور راجح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہی مسلک ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں