سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ وَامْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ:
شوہر کے ساتھ ماں باپ، اور بیوی کے ساتھ ماں باپ کے حصے کا بیان
حدیث نمبر: 2899
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، وَإِنَّهُ قَالَ فِي زَوْجٍ وَأَبَوَيْنِ: "لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب کسی راستے میں ہمارے ساتھ ہوتے تو ہم اس کو آسان پاتے تھے، انہوں نے شوہر اور والدین کے حصہ کے بارے میں کہا کہ شوہر کو نصف اور ماں کو باقی مال کا ثلث ملے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه إبراهيم لم يسمع عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 2907] »
اس روایت کی سند میں ابراہیم کا لقا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس لئے منقطع ہے، لیکن دیگر طرق سے مروی ہونے کے باعث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 239/11، 11100، 11104، 11108] ، [سعيد بن منصور 807] ، [عبدالرزاق 19015] ، [البيهقي 228/6] ۔ ابن ابی شیبہ و سنن ابن منصور میں ہے «وأعطى الأب سائر ذلك وللأب الفضل» ۔
اس روایت کی سند میں ابراہیم کا لقا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، اس لئے منقطع ہے، لیکن دیگر طرق سے مروی ہونے کے باعث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 239/11، 11100، 11104، 11108] ، [سعيد بن منصور 807] ، [عبدالرزاق 19015] ، [البيهقي 228/6] ۔ ابن ابی شیبہ و سنن ابن منصور میں ہے «وأعطى الأب سائر ذلك وللأب الفضل» ۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2898)
صورتِ مسألہ یوں بنی کہ ایک عورت کا انتقال ہوا، اس نے اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑے، تو کل مال کا نصف شوہر کو، اور باقی میں سے ثلث ماں کو، اور جو باقی بچے عصبہ کے طور پر باپ کو ملے گا، اور مسألہ 6 سے ہوگا۔
شوہر . . . . . 3
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2
مزید تفصیل اور وراثت کے دیگر مسائل آگے آ رہے ہیں۔
صورتِ مسألہ یوں بنی کہ ایک عورت کا انتقال ہوا، اس نے اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑے، تو کل مال کا نصف شوہر کو، اور باقی میں سے ثلث ماں کو، اور جو باقی بچے عصبہ کے طور پر باپ کو ملے گا، اور مسألہ 6 سے ہوگا۔
شوہر . . . . . 3
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2
مزید تفصیل اور وراثت کے دیگر مسائل آگے آ رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه إبراهيم لم يسمع عبد الله
حدیث نمبر: 2900
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ امْرَأَتَهُ، وَأَبَوَيْهِ، فَقَالَ: "قَسَّمَهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِنْ أَرْبَعَةٍ".
یزید الرشک نے کہا: میں نے سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے پوچھا: آدمی اپنے پیچھے اپنی بیوی اور ماں باپ کو چھوڑے (تو میراث کیسے تقسیم ہوگی؟) انہوں نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس کی تقسیم چار سے کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2908] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: ا [لبيهقي 228/6] ، [ابن أبى شيبه 11098] ، [عبدالرزاق 19021]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: ا [لبيهقي 228/6] ، [ابن أبى شيبه 11098] ، [عبدالرزاق 19021]
وضاحت: (تشریح حدیث 2899)
یعنی یہاں مسلہ چار سے ہوگا، جس میں سے (1/4) ایک چوتھائی بیوی کا، اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی (1/3) یعنی ایک حصہ ماں کا، باقی دو حصے عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے ہوں گے۔
بیوی . . . . . 1
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2۔
یعنی یہاں مسلہ چار سے ہوگا، جس میں سے (1/4) ایک چوتھائی بیوی کا، اور باقی تین حصوں میں سے ایک تہائی (1/3) یعنی ایک حصہ ماں کا، باقی دو حصے عصبہ ہونے کی بنا پر باپ کے ہوں گے۔
بیوی . . . . . 1
ماں . . . . . 1
باپ . . . . . 2۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2901
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ: "لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیوی اور ماں باپ کے مسئلے میں کہا: بیوی کو ربع (چوتھائی) اور ماں کو جو بچا اس کا تہائی ملے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو المهلب هو: عمرو بن معاوية. وأبو قلابة هو: عبد الله بن زيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2909] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالمہلب کا نام عمرو بن معاویہ ہے اور ابوقلابہ: عبداللہ بن زید ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11097] ، [عبدالرزاق 19014] ، [البيهقي 228/6]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالمہلب کا نام عمرو بن معاویہ ہے اور ابوقلابہ: عبداللہ بن زید ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11097] ، [عبدالرزاق 19014] ، [البيهقي 228/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 2900)
اس اثر سے مذکورہ بالا مسئلہ جو سعيد بن المسیب رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اس کی تائید ہوتی ہے، واضح رہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں صحابی علم الفرائض کے امام تھے۔
اس اثر سے مذکورہ بالا مسئلہ جو سعيد بن المسیب رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اس کی تائید ہوتی ہے، واضح رہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ دونوں صحابی علم الفرائض کے امام تھے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وأبو المهلب هو: عمرو بن معاوية. وأبو قلابة هو: عبد الله بن زيد
حدیث نمبر: 2902
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ قَالَ: "لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ سَهْمٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ سَهْم، وَلِلأَبِّ سَهْمَانِ".
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: بیوی کا حصہ چار میں سے چوتھائی ہوگا، اور ماں کے لئے چار میں سے جو بچا اس کا ثلث ایک تہائی، اور باپ کے دو حصے (یعنی دو تہائی) ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مكرر سابقه، [مكتبه الشامله نمبر: 2910] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 10] ، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 10] ، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2901)
اس سند سے مذکور بالا ایوب سختیانی رحمہ اللہ کی روایت کی تائید اور مزید توضیح ہوتی ہے۔
اس سند سے مذکور بالا ایوب سختیانی رحمہ اللہ کی روایت کی تائید اور مزید توضیح ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 2903
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ: أَنَّهُ سَأَلَ الْحَارِثَ الْأَعْوَرَ عَنْ امْرَأَةٍ، وَأَبَوَيْنِ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُثْمَانَ.
عمر بن سعید نے حارث الاعور سے پوچھا بیوی اور ماں باپ کے ورثے کے بارے میں تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا (مذکورہ بالا) مسئلہ بیان کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 2911] »
اس روایت کی سند حجاج بن ارطاۃ اور حارث الاعور کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن مذکورہ بالا اسانید سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ دیکھئے: [سعيد بن منصور 17] ، [البيهقي فى الفرائض 288/6]
اس روایت کی سند حجاج بن ارطاۃ اور حارث الاعور کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن مذکورہ بالا اسانید سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ دیکھئے: [سعيد بن منصور 17] ، [البيهقي فى الفرائض 288/6]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأَبَوَيْهَا: "لِلزَّوْجِ النِّصْفُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِيَ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں کہا جو اپنا شوہر اور ماں باپ چھوڑ جائے، شوہر کو آدھا، ماں کو جو بچا اس کا تہائی ملے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2904]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2912] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11098] ، تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11098] ، تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2905
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ: فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ، قَالَ: "مِنْ أَرْبَعَةٍ: لِلْمَرْأَةِ الرُّبُعُ، وَلِلْأُمِّ ثُلُثُ مَا بَقِي، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأَبِ".
عامر الشعبی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیوی اور ماں باپ کے حق وراثت کے بارے میں کہا: بیوی کے لئے کل مال کے چار میں سے چوتھا حصہ اور جو بچے اس کا ایک تہائی ماں کے لئے، اس سے جو بچا وہ باپ کا حصہ ہے۔ (یعنی: بیوی کا 1۔ ماں کا 1۔ اور باپ کو دو ملیں گے «كما مر آنفا») [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2905]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، [مكتبه الشامله نمبر: 2913] »
اس روایت کی سند میں محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلی ضعیف ہیں، اور شعبی نے بھی امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا نہیں، لیکن مذکورہ بالا طرق وآ ثار کی اس سے تائید ہوتی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 15] ، [ابن أبى شيبه 11099]
اس روایت کی سند میں محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلی ضعیف ہیں، اور شعبی نے بھی امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سنا نہیں، لیکن مذکورہ بالا طرق وآ ثار کی اس سے تائید ہوتی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 15] ، [ابن أبى شيبه 11099]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ إِذَا سَلَكَ بِنَا طَرِيقًا اتَّبَعْنَاهُ فِيهِ، وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، وَإِنَّهُ "قَضَى فِي امْرَأَةٍ وَأَبَوَيْنِ مِنْ أَرْبَعَةٍ: فَأَعْطَى الْمَرْأَةَ الرُّبُع، وَالأُمَّ ثُلُثَ مَا بَقِيَ، وَالْأَبَ سَهْمَيْنِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جس طرف بھی جاتے اور ہم ان کی اتباع کرتے تو اس مسئلہ کو آسان پاتے تھے، انہوں نے بیوی اور ماں باپ کے ترکے میں فیصلہ کیا کہ چار سے مسئلہ ہوگا، چوتھائی بیوی کو، ماں کو ثلث (تہائی) جو بچا اس سے، اور باقی جو بچا دو حصے یہ باپ کے ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2906]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه غير أن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2914] »
اس روایت کی سند میں بھی انقطاع ہے، لیکن یہ اثر صحیح ہے، تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 6] و [عبدالرزاق 19015] ۔ نیز دیکھئے: رقم (2905) جو ابھی گذرا ہے
اس روایت کی سند میں بھی انقطاع ہے، لیکن یہ اثر صحیح ہے، تفصیل اوپر گذر چکی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 6] و [عبدالرزاق 19015] ۔ نیز دیکھئے: رقم (2905) جو ابھی گذرا ہے
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لانقطاعه غير أن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عِيسَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی مثلِ سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2907]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وعيسى هو: ابن أبي عزة، [مكتبه الشامله نمبر: 2915] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ عیسیٰ کا نام ابن ابی عزہ ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 19017] ۔ نیز رقم (2906)۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ عیسیٰ کا نام ابن ابی عزہ ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 19017] ۔ نیز رقم (2906)۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وعيسى هو: ابن أبي عزة
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ: "مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَانِي أَنْ أُفَضِّلَ أُمًّا عَلَى أَبٍ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: الله تعالیٰ مجھے نہ دکھائے کہ میں ماں کو باپ پر فوقیت دوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات إلا أنه منقطع المسيب بن رافع لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 2916] »
اس سند کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ مسیّب بن رافع نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا لیکن یہ اثر صحیح ہے جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے کہا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11107] ، [عبدالرزاق 19019]
، [الحاكم 336/4، ووافقه الذهبي على تصحيحه]
اس سند کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ مسیّب بن رافع نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا لیکن یہ اثر صحیح ہے جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے کہا ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11107] ، [عبدالرزاق 19019]
، [الحاكم 336/4، ووافقه الذهبي على تصحيحه]
وضاحت: (تشریح احادیث 2902 سے 2908)
مطلب اس اثر کا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دو حصے ملیں گے، اور ماں کو الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے میں ایک حصہ یعنی ثلث ہی ملے گا، الله تعالیٰ نہ کرے کہ میں ماں کو باپ پر فضیلت دے کر ماں کو زیادہ حصہ دلاؤں، یعنی ماں کو کل مال کا ایک تہائی دینے سے ماں کو دو ملیں گے اور باپ کو ایک حصہ ملے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی کہتے تھے، اس لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ردّ کیا۔
والله اعلم۔
مطلب اس اثر کا یہ ہے کہ مذکورہ بالا مسئلہ میں باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دو حصے ملیں گے، اور ماں کو الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے میں ایک حصہ یعنی ثلث ہی ملے گا، الله تعالیٰ نہ کرے کہ میں ماں کو باپ پر فضیلت دے کر ماں کو زیادہ حصہ دلاؤں، یعنی ماں کو کل مال کا ایک تہائی دینے سے ماں کو دو ملیں گے اور باپ کو ایک حصہ ملے گا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی کہتے تھے، اس لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ردّ کیا۔
والله اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات إلا أنه منقطع المسيب بن رافع لم يسمع عبد الله بن مسعود