🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. باب في مِيرَاثِ وَلَدِ الزِّنَا:
ولد الزنا کے میراث پانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3146
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ مَمْلُوكٍ لِي وَلَدُ زِنًا، قَالَ: "لَا تَبِعْهُ، وَلَا تَأْكُلْ ثَمَنَهُ، وَاسْتَخْدِمْهُ".
عمیر بن زید نے کہا: میں نے شعبی رحمہ اللہ سے اپنے غلام کے بارے میں پوچھا جو زنا سے پیدا ہوا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ: نہ اس کو بیچو، نہ اس کی قیمت کھانا، بس اس سے خدمت لے سکتے ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إلى الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 3155] »
ابن یزید الہمدانی ہیں، اور اس اثر کی سند شعبی رحمہ اللہ تک جید ہے۔ اس اثر کو امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: سُئِلَ عَنْ وَلَدِ زِنَا يَمُوتُ، قَالَ: "إِنْ كَانَ ابْنَ عَرَبِيَّةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَجُعِلَ بَقِيَّةُ مَالِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَإِنْ كَانَ ابْنَ مَوْلَاةٍ، وَرِثَتْ أُمُّهُ الثُّلُثَ، وَوَرِثَ مَوَالِيهَا الَّذِينَ أَعْتَقُوهَا مَا بَقِيَ. قَالَ مَرْوَانُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ ذَلِكَ.
سعید نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ سے ولد الزنا کے بارے میں پوچھا گیا جو وفات پا جائے، کہا: اگر عربی عورت سے تھا تو اس کی ماں ثلث (تہائی) کی وارث ہو گی اور باقی مال بیت المال میں داخل کر دیا جائے گا، اور اگر وہ مرنے والا لونڈی کا لڑکا تھا تو بھی اس کی ماں ثلث کی وارث ہو گی اور جو باقی بچا اس کے لونڈی کو آزاد کرنے والے وارث ہوں گے۔ مروان نے کہا: میں نے سنا امام مالک رحمہ اللہ یہ ہی فرماتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3156] »
اس روایت کی سند میں سعید: ابن عبدالعزيز التنوخی ہیں۔ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ اس کو امام مالک نے موطأ میں کتاب الفرائض، باب میراث ولد الملاعنہ و ولد الزنا میں ذکر کیا ہے۔ دیکھے: [البيهقي 259/6] و [شرح الزرقاني 451/3-452]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3148
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَضَى بِمِيرَاثِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ كُلِّهِ، لِمَا لَقِيَتْ فِيهِ مِنْ الْعَنَاءِ".
عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے، انہوں نے ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الملاعنہ (جس بچے کا باپ منکر ہو) کی کل میراث (مال) کا فیصلہ ماں کے لئے کیا، کیوں کہ اس کی ہی وجہ سے وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3148]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عمرو بن شعيب، [مكتبه الشامله نمبر: 3157] »
اس روایت کی سند عمرو بن شعيب تک صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2098] ، [البيهقي 259/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3149
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهُ قَالَ فِي وَلَدِ الزِّنَا لِأَوْلِيَاءِ أُمِّهِ: "خُذُوا ابْنَكُمْ تَرِثُونَهُ وَتَعْقِلُونَهُ، وَلَا يَرِثُكُمْ".
زید بن وہب سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ولد الزنا کے بارے میں اس کی ماں کے اولیاء سے کہا کہ اس کو لے جاؤ، تم اس کے وارث ہو گے، اور اس کی دیت کے ذمہ دار بھی ہوگے، اور یہ تمہارا وارث نہ ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3158] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھے: [ابن أبى شيبه 11403]
وضاحت: (تشریح احادیث 3145 سے 3149)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ حرام زاده (زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ) اپنے باپ زانی کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ اس کا باپ اس کا وارث ہوگا، البتہ وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» (متفق علیہ)، یعنی اولاد صاحبِ بستر (شوہر یا مالک) کی ہے، اور زانی کے لئے پتھر ہیں، یعنی رجم کیا جائے گا۔
یہ حدیث «كتاب النكاح، باب (41)، الولد للفراش» میں گذر چکی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں