🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. باب مَا يُبْدَأُ بِهِ مِنَ الْوَصَايَا:
وصیت کی تنفیذ میں ابتداء کس وصیت سے کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَشْيَاءَ وَمِنْهَا الْعِتْقُ، فَيُجَاوِزُ الثُّلُثَ، قَالَ: يُبْدَأُ بِالْعِتْقِ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: آدمی مختلف وصیتیں کرے جن میں سے غلام کو آزاد کرنا بھی ہو، اور وہ وصیت ثلث سے متجاوز ہو تو پہلے غلام آزاد کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3270] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10927] ، [ابن منصور 405]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: بِالْحِصَصِ.
محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) سے مروی ہے پہلےحصوں کی تقسیم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3271] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10928] ، [ابن منصور 403] ، [البيهقي 277/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3261
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "مَنْ أَوْصَى أَوْ أَعْتَقَ، فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهِ عَوْلٌ، دَخَلَ الْعَوْلُ عَلَى أَهْلِ الْعَتَاقَةِ، وَأَهْلِ الْوَصِيَّةِ". قَالَ عَطَاءٌ: إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ غَلَبُونَا، يَبْدَءُونَ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلُ.
عطاء سے مروی ہے کوئی آدمی وصیت کرے اور (غلام) آزاد کرے اور اس کی وصیت میں عول ہو (یعنی حصص زیادہ ہوں) تو یہ عول آزادی اور وصیت والے سب لوگوں پر ہو گا۔ عطاء نے کہا: اہل مدینہ اس مسئلہ میں ہم پر غالب آ گئے، وہ آزادی سے ابتداء کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3272] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ معافیٰ: ابن عمران، اور عطاء: ابن ابی رباح ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10934] ، [عبدالرزاق 16748] ، [البيهقي 277/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ "فِي الَّذِي يُوصِي بِعِتْقٍ، وَغَيْرِهِ فَيَزِيدُ عَلَى الثُّلُثِ، قَالَ: بِالْحِصَصِ".
عمرو بن دینار نے کہا: جو آدمی آزاد کرنے کی اور دیگر کوئی اور وصیت کرے جو ثلث سے زیادہ ہو تو (ثلث میں سے ہی) حصص تقسیم ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3273] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 16748] ۔ ابوالنعمان: محمد بن الفضل ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي رَجُلٍ أَوْصَى بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ وَفِيهِ عِتْقٌ؟ قَالَ: يُبْدَأُ بِالْعِتْقِ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: جو آدمی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے جس میں برده (غلام) کی آزادی بھی ہو، انہوں نے کہا: آزادی مقدم ہو گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3274] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور تخریج اوپر (3261) میں گذر چکی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3264
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: آزاد کرنے کو وصیت پر مقدم رکھاجائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3275] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10931] ، [ابن منصور 397، 402] ، [البيهقي 277/6]
وضاحت: (تشریح احادیث 3258 سے 3264)
ان تمام آثار سے ثابت ہوا کہ مختلف وصایا میں عتاق (آزادی) سب پر مقدم ہوگی، اس سے اسلام میں غلام آزاد کرنے کی زبردست ترغیب ہے، اور اس کا بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔
افریقہ میں اس وقت بھی غلامی کا دور ہے اور وہاں غلاموں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں