سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في الذي يُوصِي لِبَنِي فُلاَنٍ بِسْهَمٍ مِنْ مَالِهِ:
کوئی آدمی اپنے مال کے کچھ حصے کی کسی کے لئے وصیت کرے
حدیث نمبر: 3265
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي لِبَنِي فُلَانٍ، قَالَ: غَنِيُّهُمْ وَفَقِيرُهُمْ وَذَكَرُهُمْ وَأُنْثَاهُمْ سَوَاءٌ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی کی اولاد کے لئے وصیت کرے تو اس وصیت میں مال دار، محتاج، مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔ یعنی سب کو ثلث میں سے برابر کا حصہ دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3276] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10803] ، [ابن منصور 366]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10803] ، [ابن منصور 366]
حدیث نمبر: 3266
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا أَوْصَى لِبَنِي فُلَانٍ، فَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: کوئی آدمی کسی کی اولاد کے لئے وصیت کرے تو اس میں مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عمرو، [مكتبه الشامله نمبر: 3277] »
عمرو کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری حسن سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 365]
عمرو کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری حسن سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن منصور 365]
حدیث نمبر: 3267
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ مُوسَى الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ أَبِي كَرِبٍ:"أَنَّ آتِيًا أَتَى شُرَيْحًا، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِسَهْمٍ مِنْ مَالِهِ، قَالَ: تُحْسَبُ الْفَرِيضَةُ، فَمَا بَلَغَ سِهَامَهَا، أُعْطِيَ الْمُوصَى لَهُ سَهْمًا كَأَحَدِهَا".
سیار بن ابی کرب نے بیان کیا کہ ایک آدمی قاضی شریح کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا: کوئی آدمی اپنے مال کے ایک حصہ کی وصیت کرے، تو انہوں نے کہا: یہ فریضہ میں شامل ہو گا، جتنے حصے ہوں اس میں سے ایک حصہ جس کے لئے وصیت کی ہے دیگر سہام کی طرح اس کو بھی دیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3278] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10846] ، [ابن منصور 364] ۔ بعض نسخ میں «إن ثابتا آتی شريحا» ہے، جو تحریف ہے کیوں کہ مذکور بالا مصادر میں «إن آتيا» اور «إن رجلا آتی شريحا» کی صراحت ہے۔
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10846] ، [ابن منصور 364] ۔ بعض نسخ میں «إن ثابتا آتی شريحا» ہے، جو تحریف ہے کیوں کہ مذکور بالا مصادر میں «إن آتيا» اور «إن رجلا آتی شريحا» کی صراحت ہے۔