سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب في خَتْمِ الْقُرْآنِ:
ختم قرآن کا بیان
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ثُمَّ دَعَا، أَمَّنَ عَلَى دُعَائِهِ أَرْبَعَةُ آلَافِ مَلَكٍ".
حمید الاعرج رحمہ اللہ نے کہا: جو شخص قرآن پاک پڑھ کر دعا کرے اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3513]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف قزعة بن سويد وهو موقوف على حميد الأعرج، [مكتبه الشامله نمبر: 3524] »
اس موقوف روایت کی سند میں قزعہ بن سوید ضعیف ہے، اس لئے سند ضعیف ہے۔
اس موقوف روایت کی سند میں قزعہ بن سوید ضعیف ہے، اس لئے سند ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ مجاهدٌ، قَالَ: إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْقُرْآنَ، وَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَدَعَوْا بِدَعَوَاتٍ".
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: میرے پاس بلاوا آیا اور کہا کہ ہم آپ کو ختم قرآن میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اور انہوں نے دعائیں کیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3514]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3525] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حکم: ابن عتبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن الضريس فى فضائل القرآن 49، 81] ، [أبوعبيد، ص: 107] ، [ابن أبى شيبه 10089] ، [شعب الإيمان 2072]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حکم: ابن عتبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن الضريس فى فضائل القرآن 49، 81] ، [أبوعبيد، ص: 107] ، [ابن أبى شيبه 10089] ، [شعب الإيمان 2072]
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ، عَنْ عَنْبسة، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: "إِذَا وَافَقَ خَتْمُ الْقُرْآنِ أَوَّلَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَإِنْ وَافَقَ خَتْمُهُ آخِرَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، فَرُبَّمَا بَقِيَ عَلَى أَحَدِنَا الشَّيْءُ، فَيُؤَخِّرَهُ حَتَّى يُمْسِيَ أَوْ يُصْبِحَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا حَسَنٌ عَنْ سَعْدٍ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ختم قرآن رات کے شروع حصے میں ہو جائے، تو اس کے صبح کرنے تک فرشتے اس (قاری) کے لئے دعا کرتے ہیں، اور اگر رات کے آخری حصے میں ختم قرآن کا اتفاق ہوا تو اس پر فرشتے شام تک دعا کرتے ہیں، اس لئے ہم میں سے کسی کا ختم قرآن میں سے کچھ باقی رہ جائے تو وہ شام کے لئے یا صبح کے لئے ختم کرنا مؤخر کر دے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ روایت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے حسن ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 3526] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ امام نووی نے اس کو [حلية الابرار، ص: 183] میں مسند احمد اور مسند داری کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز (3509) پر بھی ایک روایت گذر چکی ہے۔
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ امام نووی نے اس کو [حلية الابرار، ص: 183] میں مسند احمد اور مسند داری کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز (3509) پر بھی ایک روایت گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ابْنِ أَخِي بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: "حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے کہا: حاملین قرآن جنت میں نقیب (مانیٹر) ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3516]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر. وهو موقوف على عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 3527] »
اس موقوف اثر کی سند میں ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہیں۔
اس موقوف اثر کی سند میں ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ "يَخْتِمُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَتَيْنِ".
عبدالملک نے خبر دی کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ ہر دوسری رات میں قرآن پاک ختم کر لیا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3517]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى سعيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3528] »
سعید بن جبیر رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 273/4] ، [فضائل أبى عبيد، ص: 182] ، [فضائل القرآن لابن كثير، ص: 258] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 503/2]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 273/4] ، [فضائل أبى عبيد، ص: 182] ، [فضائل القرآن لابن كثير، ص: 258] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 503/2]
حدیث نمبر: 3518
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِي كَمْ أَخْتِمُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: "اخْتِمْهُ فِي شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أنا أُطِيقُ، قَالَ:"اخْتِمْهُ فِي خَمْسة وَعِشْرِينَ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ:"اخْتِمْهُ فِي عِشْرِينَ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ:"اخْتِمْهُ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ:"اخْتِمْهُ فِي عَشْرٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ:"اخْتِمْهُ فِي خَمْسٍ"، قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ، قَالَ:"لَا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کتنے دن میں قرآن پاک ختم کروں؟ فرمایا: ”ایک مہینے میں“، میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے؟ فرمایا: ”پچیس دن میں ختم کر لو“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ”پندرہ دن میں ختم کرو“، میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، فرمایا: ”دس دن میں ختم کرو“، میں نے کہا: اس سے زیادہ کی میں طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ”پانچ دن میں ختم کرو“، میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کم میں نہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3518]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف مطرف بن طريف متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3529] »
اس روایت کی سند میں ضعف ہے، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 1346] ، [نسائي 2390] ، [ابن حبان 756] ، [ابن كثير فى فضائل القرآن 247] ۔ صحیحین میں صرف روزے کا ذکر ہے، قرآن پڑھنے کا نہیں۔ دیکھئے: [بخاري 1974] ، [مسلم 1159]
اس روایت کی سند میں ضعف ہے، لیکن یہ حدیث دوسری سند سے صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن ماجه 1346] ، [نسائي 2390] ، [ابن حبان 756] ، [ابن كثير فى فضائل القرآن 247] ۔ صحیحین میں صرف روزے کا ذکر ہے، قرآن پڑھنے کا نہیں۔ دیکھئے: [بخاري 1974] ، [مسلم 1159]
وضاحت: (تشریح احادیث 3511 سے 3518)
اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم پانچ دن میں قرآن ختم کرنا چاہے، بعض روایاتِ صحیحہ میں تین دن کا بھی ذکر ہے، کما سیأتی، لیکن ایک مہینے سے زیادہ ختمِ قرآن میں نہیں لگنا چاہے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو صرف رمضان میں قرآن پاک پڑھتے اور سنتے ہیں، اور پورے سال تلاوتِ کلام پاک سے غافل رہتے ہیں۔
«(هدانا اللّٰه وإياهم، آمين)»
اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم پانچ دن میں قرآن ختم کرنا چاہے، بعض روایاتِ صحیحہ میں تین دن کا بھی ذکر ہے، کما سیأتی، لیکن ایک مہینے سے زیادہ ختمِ قرآن میں نہیں لگنا چاہے، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو صرف رمضان میں قرآن پاک پڑھتے اور سنتے ہیں، اور پورے سال تلاوتِ کلام پاک سے غافل رہتے ہیں۔
«(هدانا اللّٰه وإياهم، آمين)»
حدیث نمبر: 3519
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:"أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے کم میں قرآن پاک ختم کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3519]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «عبد الرحمن بن رافع ضعيف وعبد الرحمن بن زياد الحق فيه أنه ضعيف لكثرة روايته المنكرات، [مكتبه الشامله نمبر: 3530] »
اس سند سے یہ اثر ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حسن کے درجہ میں ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1391] ، [ترمذي 2949] ، [ابن ماجه 1347، بغير هذا اللفظ: لَمْ يَفْقَهُ مِنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِيْ أَقَلْ مِنْ ثَلَاثٍ] ۔
نیز دیکھئے: [أحمد 158/2] ، [حلية الأولياء 122/4] ۔ نیز حدیث رقم (1532) پر اس موضوع سے متعلق حدیث گذر چکی ہے۔ تخریج اور تفصیل وہاں ملاحظہ کیجئے۔
اس سند سے یہ اثر ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حسن کے درجہ میں ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1391] ، [ترمذي 2949] ، [ابن ماجه 1347، بغير هذا اللفظ: لَمْ يَفْقَهُ مِنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِيْ أَقَلْ مِنْ ثَلَاثٍ] ۔
نیز دیکھئے: [أحمد 158/2] ، [حلية الأولياء 122/4] ۔ نیز حدیث رقم (1532) پر اس موضوع سے متعلق حدیث گذر چکی ہے۔ تخریج اور تفصیل وہاں ملاحظہ کیجئے۔