🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا:
باب: جب کپڑا تنگ ہو تو کیا کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَقَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي، فَلَمَّا فَرَغْتُ، قَالَ: مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟ قُلْتُ: كَانَ ثَوْبٌ يَعْنِي ضَاقَ، قَالَ: فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ".
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، وہ سعید بن حارث سے، کہا ہم نے جابر بن عبداللہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ بواط) میں گیا۔ ایک رات میں کسی ضرورت کی وجہ سے آپ کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہیں، اس وقت میرے بدن پر صرف ایک ہی کپڑا تھا۔ اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا اور آپ کے بازو میں ہو کر میں بھی نماز میں شریک ہو گیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا جابر اس رات کے وقت کیسے آئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ضرورت کے متعلق کہا۔ میں جب فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا لپیٹ رکھا تھا جسے میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کی کہ (ایک ہی) کپڑا تھا (اس طرح نہ لپیٹتا تو کیا کرتا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ کشادہ ہو تو اسے اچھی طرح لپیٹ لیا کر اور اگر تنگ ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھ لیا کر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 361]
حضرت سعید بن حارث سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا، رات کو کسی ضروری کام کے لیے آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت میرے اوپر ایک ہی کپڑا تھا۔ میں نے اسے اپنے بدن پر لپیٹا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے جابر! رات کے وقت کیسے آئے؟ میں نے آپ کی خدمت میں اپنی ضرورت پیش کی۔ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ کپڑے کا لپیٹنا کیا ہے جو میں نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: میرے پاس ایک ہی کپڑا تھا۔ آپ نے فرمایا: کپڑا اگر کشادہ ہو تو اسے لپیٹ لیا کرو اور اگر تنگ ہو تو اسے بطور تہ بند پہنو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ، قَالَ: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِي أُزْرِهِمْ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، وَقَالَ لِلنِّسَاءِ:" لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا سہل بن سعد ساعدی سے، انہوں نے کہا کہ کئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر ازاریں باندھے ہوئے نماز پڑھتے تھے اور عورتوں کو (آپ کے زمانے میں) حکم تھا کہ اپنے سروں کو (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 362]
حضرت سہل (بن سعد) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی چادریں بچوں کی طرح گردنوں پر گرہ لگائے نماز پڑھتے تھے، چنانچہ مستورات کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جب تک لوگ سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں اس وقت تک وہ سجدے سے اپنا سر نہ اٹھائیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں