🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن عمر سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر:29
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شَرِيكٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تُسَاكِنُوا الأَنْبَاطَ فِي بِلادِهِمْ، فَإِنْ نَازَعُوكُمُ الْكَلامَ وَاخْتَبَئُوا فِي الأَقْنِيَةِ، فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ، وَلا تُنَاكِحُوا الْخُوزَ، فَإِنَّ لَهُمْ أُصُولا تَدْعُو إِلَى غَيْرِ الْوَفَاءِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبطی قبائل کے ساتھ ان کے شہروں میں سکونت اختیار نہ کرو۔ اور اگر وہ تم سے بات چیت میں اختلاف کریں تو ان سے گریز کرو۔ ان سے بچ کر رہو، ان سے بچ کر رہو اور خوزستانیوں سے شادی نہ کرو، کیونکہ ان کی جڑوں میں بے وفائی ہے۔ [مسند عبدالله بن عمر/حدیث: 29]
تخریج الحدیث: «الكامل لابن عدي: 2/272، ميزان الاعتدال: 1/335، سير اعلام النبلاء: 8/528»
حافظ ذہبی اور ابن عدی نے اسے ’’منکر‘‘ روایت قرار دیا ہے۔

الحكم على الحديث: منکر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں