🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عبدالله بن عمر سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث نمبر:33
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خُوَيْلِدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْتُلُ الْغُرَابَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْفَأْرَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْعَقْرَبَ"، فَقُلْتُ لِنَافِعٍ: فَالْحَيَّاتُ؟ قَالَ: لا يُخْتَلَفُ فِيهِنَّ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: احرام والا کون سے جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کوا، چیل، چوہیا، کاٹنے والا کتا اور بچھو مار سکتا ہے۔ ایوب کہتے ہیں میں نے نافع رحمہ اللہ سے سانپوں سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کو مارنے میں اختلاف نہیں ہے۔ [مسند عبدالله بن عمر/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري: جزاء الصيد: باب ما يقتل المحرم من الدواب: رقم الحديث: 1826، صحيح مسلم: الحج: باب ما يندب للمحرم وغيره … الخ: رقم الحديث: 1199»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں