صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: {اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً} يَجْتَنُّونَ بِهَا:
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے یعنی جس سے وہ اپنے نفاق کی پردہ پوشی کرتے ہیں“۔
حدیث نمبر: 4901
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ عَمِّي، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ ابْنَ سَلُولَ، يَقُولُ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَقَالَ أَيْضًا: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَمِّي، فَذَكَرَ عَمِّي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَأَصْحَابِهِ، فَحَلَفُوا مَا قَالُوا، فَصَدَّقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَّبَنِي، فَأَصَابَنِي هَمٌّ لَمْ يُصِبْنِي مِثْلُهُ قَطُّ، فَجَلَسْتُ فِي بَيْتِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ إِلَى قَوْلِهِ هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ سورة المنافقون آية 1 - 8، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهَا عَلَيَّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے چچا (سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ یہ بھی کہا کہ اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔ میں نے اس کی یہ بات چچا سے آ کر کہی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا انہوں نے قسم کھا لی کہ ایسی کوئی بات انہوں نے نہیں کہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو سچا جانا اور مجھ کو جھوٹا سمجھا۔ مجھے اس اتنا صدمہ پہنچا کہ ایسا کبھی نہیں پہنچا ہو گا پھر میں گھر کے اندر بیٹھ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی «إذا جاءك المنافقون» سے «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله» اور آیت «ليخرجن الأعز منها الأذل» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے سامنے اس سورت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اللہ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4901]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اپنے چچا کے ہمراہ تھا، میں نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا: ”جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر تم خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔“ اور یہ بھی کہا: ”یقینا اگر ہم مدینہ واپس جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔“ میں نے اپنے چچا سے ان باتوں کا ذکر کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ باتیں کہہ دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلایا تو انہوں نے قسم اٹھا کر کہہ دیا کہ ہم نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا خیال کیا۔ مجھے اس کا اتنا صدمہ پہنچا کہ ایسا کبھی نہیں پہنچا ہو گا۔ میں تو اپنے گھر میں بیٹھ گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ۔۔۔ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 1-8] اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور انہیں میرے سامنے تلاوت کیا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا ہے۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4901]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة