🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ قَوْلِهِ: {ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لاَ يَفْقَهُونَ}:
باب: آیت کی تفسیر ”یہ اس سبب سے ہے کہ یہ لوگ ظاہر میں ایمان لے آئے پھر دلوں میں کافر ہو گئے سو ان کے دلوں میں مہر لگا دی گئی پس اب یہ نہیں سمجھتے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4902
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ، وَقَالَ أَيْضًا: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ أَخْبَرْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَامَنِي الْأَنْصَارُ، وَحَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ مَا قَالَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْمَنْزِلِ، فَنِمْتُ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ صَدَّقَكَ وَنَزَلَهُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لا تُنْفِقُوا سورة المنافقون آية 7" الْآيَةَ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق میں آیت نازل کر دی ہے اور یہ آیت اتری ہے «هم الذين يقولون لا تنفقوا‏» الخ آخر تک۔ اور ابن ابی زائدہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4902]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب عبداللہ بن ابی نے کہا: جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس ہیں، ان پر خرچ نہ کرو۔ اور یہ بھی کہا: اب اگر ہم مدینے واپس گئے (تو ہم میں سے عزت والا ذلیل لوگوں کو نکال باہر کرے گا۔) میں نے یہ باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیں، اس پر انصار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے تو قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی، تاہم میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلب فرمایا، میں حاضر خدمت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق کر دی ہے۔ اور یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا﴾ [سورة المنافقون: 7] ۔ ابن ابی زائدہ نے اعمش سے بیان کیا، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں