صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: {وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ}:
باب: آیت کہ تفسیر ”تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو (یہ تم پر حرام ہے) سوا اس کے جو گزر چکا (کہ وہ معاف ہے)“۔
حدیث نمبر: 5107
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّأُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَتُحِبِّينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن (غرہ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تمہیں بھی پسند ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی سے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ (اس لیے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی) تم لوگ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5107]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! آپ میری بہن ابو سفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں، میں تنہا تو آپ کی بیوی نہیں ہوں، اور مجھے زیادہ پسند ہے کہ میری بہن بھی خیر و برکت میں میرے ساتھ شریک ہو جائے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں۔“ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہمیں تو یہ خبریں مل رہی ہیں کہ آپ ابو سلمہ کی بیٹی درہ کو پیغامِ نکاح بھیجنا چاہتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی دختر ہے؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں نہ ہوتی تو بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ مجھے اور ابو سلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ تم اپنی بیٹیاں اور بہنیں مجھے نکاح کے لیے پیش نہ کیا کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5107]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة