صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ إِذَا كَانَ الْوَلِيُّ هُوَ الْخَاطِبَ:
باب: اگر عورت کا ولی خود اس سے نکاح کرنا چاہے۔
حدیث نمبر: Q5131
وَخَطَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ امْرَأَةً هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا، فَأَمَرَ رَجُلًا فَزَوَّجَهُ. وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ لِأُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ قَارِظٍ: أَتَجْعَلِينَ أَمْرَكِ إِلَيَّ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: قَدْ زَوَّجْتُكِ، وَقَالَ عَطَاءٌ: لِيُشْهِدْ أَنِّي قَدْ نَكَحْتُكِ أَوْ لِيَأْمُرْ رَجُلًا مِنْ عَشِيرَتِهَا، وَقَالَ سَهْلٌ: قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهَبُ لَكَ نَفْسِي، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا.
اور مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا اور سب سے قریب کے رشتہ دار اس عورت کے وہی تھے۔ آخر انہوں نے ایک اور شخص (عثمان بن ابی العاص) سے کہا، اس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمٰن بن عوف نے ام حکیم بنت قارظ سے کہا تو نے اپنے نکاح کے باب میں مجھ کو مختار کیا ہے، میں جس سے چاہوں تیرا نکاح کر دوں۔ اس نے کہا ہاں۔ عبدالرحمٰن نے کہا تو میں نے خود تجھ سے نکاح کیا۔ اور عطاء بن ابی رباح نے کہا دو گواہوں کے سامنے اس عورت سے کہہ دے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا یا عورت کے کنبہ والوں میں سے (گو دور کے رشتہ دار ہوں) کسی کو مقرر کر دے (وہ اس کا نکاح پڑھا دے) اور سہل بن سعد ساعدی نے روایت کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں اپنے آپ کو بخش دیتی ہوں، اس میں ایک شخص کہنے لگایا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی خواہش نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کر دیجئیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: Q5131]
حدیث نمبر: 5131
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي قَوْلِهِ:" وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِه فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ".
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن» ”اور آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے۔“ آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو۔ وہ مرد اس کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5131]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے درج ذیل آیت ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ﴾ [سورة النساء: 127] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ”لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کے متعلق فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے متعلق مسئلہ بتاتا ہے۔۔۔“ اس سے مراد وہ یتیم لڑکی ہے جو کسی کے زیر کفالت ہوتی اور وہ اس کے مال میں بھی حصہ دار ہوتی، وہ اس سے نکاح کرنے میں کوئی دلچسپی نہ رکھتا اور نہ کسی دوسرے سے نکاح کر دینا پسند کرتا، مبادا وہ بھی اس کے مال میں شریک ہو جائے۔ اس بنا پر وہ لڑکی کو نکاح سے روکے رکھتا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5131]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5132
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ،" كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ، فَلَمْ يُرِدْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَعِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ. قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ؟ قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ، وَآخُذُ النِّصْفَ، قَالَ: لَا، هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر نیچی اوپر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5132]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا۔ آپ نے اس عورت کو اوپر سے نیچے دیکھا، آپ کا (اس سے شادی کا) ارادہ نہ بنا۔ آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! اس کا میرے ساتھ نکاح کر دیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”میرے پاس تو کچھ بھی نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟“ اس نے کہا: ”لوہے کی انگوٹھی بھی میرے پاس نہیں، لیکن میں اپنی اس چادر کے دو ٹکڑے پاس رکھ لیتا ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”ایسا تو نہیں ہو سکتا، اچھا بتاؤ تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ نے فرمایا: ”جاؤ، اس حفظِ قرآن کے عوض میں نے اس سے تیری شادی کر دی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5132]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة