صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ لاَ يُنْكِحُ الأَبُ وَغَيْرُهُ الْبِكْرَ وَالثَّيِّبَ إِلاَّ بِرِضَاهَا:
باب: باپ یا کوئی دوسرا ولیٰ کنواری یا بیوہ عورت کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 5136
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ".
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5136]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے۔“ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کنواری کی اجازت کس طرح ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پیغام نکاح سن کر) اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5137
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، قَالَ: رِضَاهَا صَمْتُهَا".
ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی (کہتے ہوئے) شرماتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہو جانا ہی اس کی رضا مندی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5137]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! کنواری لڑکی تو شرماتی ہے (اس لیے بول نہیں سکتی)“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة