صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. بَابُ غَيْرَةِ النِّسَاءِ وَوَجْدِهِنَّ:
باب: عورتوں کی غیرت اور ان کے غصے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5228
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ: لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى، قُلْتِ: لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: أَجَلْ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میں خوب پہچانتا ہوں کہ کب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ پر ناراض ہو جاتی ہو۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا آپ یہ بات کس طرح سمجھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم! اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! (غصے میں) صرف آپ کا نام زبان سے نہیں لیتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5228]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں خوب جانتا ہوں جب تم مجھ پر خوش ہوتی ہو اور جب مجھ پر ناراض ہوتی ہو۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کو یہ کیونکر معلوم ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: «لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ» ”نہیں نہیں، مجھے رب محمد کی قسم!“ اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: «لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ» ”نہیں نہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!““ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! غصے کے وقت صرف آپ کا نام زبان پر نہیں لاتی۔ (دل میں آپ کی محبت میں غرق ہوتی ہوں) [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5228]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5229
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، لِكَثْرَةِ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا وَثَنَائِهِ عَلَيْهَا، وَقَدْ أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ لَهَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ".
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی عورت پر مجھے اتنی غیرت نہیں آتی تھی جتنی ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت کیا کرتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی گئی تھی کہ آپ خدیجہ کو جنت میں ان کے موتی کے گھر کی بشارت دے دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5229]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی پر اتنی غیرت نہیں آتی تھی جس قدر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آتی تھی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت ان کا تذکرہ اور ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس امر کی وحی کی گئی کہ آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک ایسے گھر کی خوشخبری دے دیں جو موتیوں سے بنایا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة