صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. بَابُ مَا يَحِلُّ مِنَ الدُّخُولِ وَالنَّظَرِ إِلَى النِّسَاءِ فِي الرَّضَاعِ:
باب: دودھ کے رشتے سے بھی عورت محرم ہو جاتی ہے، بےپردہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 5239
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأْذَنِي لَهُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے دودھ چچا (رضاعی چچا، افلح) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، اجازت نہیں دے سکتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر بلا لو۔ میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی (رضاعی) اس لیے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے لیے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5239]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرا رضاعی چچا آیا اور اس نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا تا آنکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے اور اسے اندر آنے دو۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے (اس کے) مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ تمہارا چچا ہے اور تمہارے پاس آ سکتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ واقعہ ہم پر پردے کی پابندی عائد ہونے کے بعد کا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا: ”دودھ پلانے سے بھی وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5239]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة