🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَابُ ذِكْرِ الطَّعَامِ:
باب: کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5427
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5427]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے سنگترے کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی عمدہ اور ذائقہ بھی لذیذ ہوتا ہے، اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن ذائقہ شیریں ہے، اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے گلِ ببونہ کی طرح ہے جس کی خوشبو دلربا لیکن ذائقہ انتہائی کڑوا ہے، اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن (تُمّے) جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5427]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5428
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5428]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عائشہ کی برتری دوسری عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح ثرید کو دیگر کھانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5428]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5429
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے صالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو انسان کو سونے اور کھانے سے روک دیتا ہے۔ پس جب کسی شخص کی سفری ضرورت حسب منشا پوری ہو جائے تو اسے جلد ہی گھر واپس آ جانا چاہیئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5429]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر تو عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تمہاری نیند اور کھانے کو روک دیتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کوئی دورانِ سفر میں اپنی حاجت پوری کر لے تو جلد اپنے گھر لوٹ آئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5429]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں